غزوہ ابواء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

غزوہ ابواء ہجرت کے بارہویں مہینے صفر 2 ہجری کو پیش آیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساٹه مہاجرین کا دستہ لے کر مدینہ منورہ سے نکلے لشکر کا سفید جهنڈا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تها. مدینہ منورہ میں آپ ص نے حضرت سعد بن عبادہ رض کو خلیفہ مقرر فرمایا.سب سے پہلے آپ ص ابواء تشریف لے گئے جہاں آپ ص کی والدہ ماجدہ کی قبر اطہر ہے ویاں سے آپ ص ودان تشریف لے گئے ان دونوں جگہوں کے درمیان چه میل کا فاصلہ ہے اس علاقے میں ایک قصبہ میں مزینه قبیلہ رہتا تها یہ مقام مدینہ منورہ سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہ مدینہ کے زیر اثر قبائل کی آخری سرحد ہے اس قبیلے کے لوگ پہلے ہی مسلمان ہو چکے تهے.ان کے اطراف میں قبیلہ بنی کنانہ کی شاخ بنی ضمرہ آباد تهی آپ ص نے چند دن وہآں قیام فرمایا اور قبیلہ بنو ضمرہ کے ساته ایک معاہدہ کیا. معاہدہ یہ تها:- 'یہ تحریر محمد(ص) کی طرف سے بنو ضمرہ کیلئے ہے ان لوگوں کا( بنوضمرہ کا) مال و جان محفوظ رہے گا اور اگر کوئی ان پر حملہ کرے گا ان کی مدد کی جائے گی لیکن اگر یہ اپنے مذہب کے لیے لڑائی کرے گے تو ان کی ندد نہیں کی جائے گی.جب پیغمبر(ص) ان کو مدد کے لیے بلائیں تو یہ مدد کو آئیں گے' یہ معاہدہ کرنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پندرہ روز مدینہ سے باہر قیام کرنے کے بعد بنا خون خرابہ مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے