جن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

لغوی معنی ۔ چھپی ہوئی مخلوق ۔ اسلامی عقیدے کے مطابق ایسی نظر نہ آنے والی مخلوق جس کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے۔ جب کہ انسان اور ملائکہ مٹی اور نور سے بنائے گئے ہیں۔ جنوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مختلف قسم کے روپ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں جنات کا ذکر آیا ہے ۔ قرآن کی ایک سورۃ جن بھی ہے جس کی ابتدا اس آیت سے ہوتی ہے کہ جنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن پڑھتے سنا اور اسے عجیب و غریب پایا تو اپنے ساتھیوں کو بتایا اور وہ مسلمان ہوگئے۔

ابلیس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ جنوں میں سے تھا۔ چنانچہ جب اسے حضرت آدم کوسجدہ کرنے کے لیے کہا گیا تو اس نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم مٹی سے ۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ ابلیس ناری ہے ۔ مگر عبادت و ریاضت سے بلند مقام پر پہنچ گیا تھا۔ اور فرشتوں میں شمار ہونے لگا تھا۔

اسلام سے پہلے بھی عربوں میں جنوں کے تذکرے موجود تھے۔ اس زمانے میں سفر کرتے وقت جب رات آ جاتی تھی تو مسافر اپنے علاقے کے جنوں کے سردار کے سپرد کرکے سو جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کی تخلیق سے قبل دنیا میں جن آباد تھے ۔ جن کی آگ سے تخلیق ہوئی تھی اور انھوں نے دنیا میں فتنہ و فساد برپا کر رکھا تھا ۔ قرآن میں حضرت سلیمان کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ ان کی حکومت جنوں پر بھی تھی۔ حضرت سلیمان نے جو عبادت گاہیں ’’ہیکل‘‘ بنوائی تھیں۔ وہ جنوں نے ہی بنائی تھیں۔


مزید[ترمیم]

کتاب و سنت کی نصوص جنوں کے وجود پر دلالت کرتی ہیں اور ان کو اس زندگی میں وجود دینے کا مقصد اور غرض و غایت اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت ہے ۔ فرمان باری تعالٰی ہے:

"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اسی لۓ پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں" الذاریات: 56

اور اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے:

"اے جنوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمھارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آۓ تھے جو تم سے میرے احکام بیان کرتے تھے" الانعام :130

اور جنوں کی مخلوق ایک مستقل اور علیحدہ ہے جس کی اپنی ایک طبیعت ہے جس سےوہ دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں اور ان کی وہ صفات ہیں جو کہ انسانوں پر مخفی ہیں تو ان میں اور انسانوں میں جو قدر مشترک ہے وہ یہ ہے کہ عقل اور قوت مدرکہ اور خیر اور شر کو اختیار کرنے میں ان دونوں کی صفات ایک ہیں اور جن کو جن ا چھپنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے یعنی کہ وہ آنکھوں سے چھپے ہوۓ ہیں۔

للہ تعالٰی کا ارشاد ہے :

" بےشک وہ اور اس کا لشکر تمہں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم اسے نھیں دیکھ سکتے " الاعراف 27۔


جنوں کی اصلیت[ترمیم]

اللہ تعالٰی نے اپنی عزت والی کتاب میں جنوں کی اصلی خلقت کے متعلق بتاتے ہو‏ئے فرماتے ہے- "اور اس سے پہلے ہم نےجنوں کو لو والی آگ سے پیدا کیا " الحجر \ 65

اور ارشاد باری تعالٰی ہے :

"اور جنات کو آگ کےشعلے سے پیدا کیا " الرحمن 15

اور عائشۃ رضی اللہ عنہا سے صحیح حدیث میں مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور جنوں کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم ( علیہ السلام ) کی پیدائش کا وصف تمہیں بیان کیا گیا ہے ۔ )

اسے مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے ۔ ( 5314 )


جنوں کی اقسام[ترمیم]

اللہ تعالٰی نے جنوں کی مختلف اقسام پیدا فرمائی ہیں جو کہ اپنی شکلیں بدل سکتے ہیں مثلا کتے سانپ۔

  • اور کچھ وہ ہیں جو پروں والے ہیں اور ہواؤں میں اڑتے ہیں ۔
  • اور کـچھ وہ ہیں جو آباد ہونے والے ہیں اور کوچ کرنے والے ہیں ۔

ابو ثعلبہ خشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :

جنوں کی تین قسمیں ہیں ایک قسم کے پر ہیں اور ہواؤں میں اڑتے پھرتے ہیں ۔ اور ایک قسم سانپ اور کتے ہیں اور ایک قسم آباد ہونے والے اور کوچ کرنے والے ہیں۔[1]

جن اور آدم کی اولاد[ترمیم]

اولاد آدم کے ہر فرد کے ساتھ اس کا جنوں میں سے ایک ہم نشین ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( تم میں سے ہر ایک کے ساتھ جنوں میں سے اس کا ہم نشین (قرین ) ہے ۔ تو صحابہ نے کہا اے اللہ کے رسول اور آپ ؟ تو انہوں نے فرمایا اور میں بھی مگر اللہ نے میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہو گیا ہے تو وہ مجھے بھلائی کے غلاوہ کسی چیز کا نہی کہتا ۔ )

اسے مسلم نے ( 2814) روایت کیا ہے ۔ اور امام نووی نے شرح مسلم (17\ 175) میں اس کی شرح کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاسلم : یعنی وہ مومن ہو گیا ہے اور یہ ظاہر ہے ۔

قاضی کا کہنا ہے کہ جان لو کہ امت اس پر مجتمع ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شیطان سے جسمانی اور زبانی اور حواس کے اعتبار سے بھی بچائے گئے ہیں تو اس حدیث میں ہم نشین (قرین) کے فتنہ اور وسوسہ اور اسکے اغوا کے متعلق تحذیر ہے یعنی اس سے بچنا چاہئے کیونکہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے تو ہم اس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں ۔1۔ھ


انکی طاقت اور قدرت[ترمیم]

اللہ تعالٰی نے جنوں کو وہ قدرت دی ہے جو کہ انسان کو نہیں دی۔ اللہ تعالٰی نے ہمارے لئے ان کی بعض قدرات بیان کی ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں۔

- انتقال اور حرکت کے اعتبار سے سریع ہیں ۔ اللہ تعالٰی کے نبی سلیمان علیہ السلام سے ایک سخت اور چالاک جن نے یمن کی ملکہ کا تخت بیت المقدس میں اتنی مدت میں لانے کا وعدہ کیا کہ ایک آدمی مجلس سے نہ اٹھا ہو ۔

- ارشاد باری تعالٰی ہے ۔

"ایک قوی ہیکل جن کہنے لگا اس سے پہلے کہ آپ اپنی مجلس سے اٹھیں میں اسے آپکے پاس لا کر حاضر کردوں گا یقین مانیں میں اس پر قادر ہوں اور ہوں بھی امانت دار جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بول اٹھا کہ آپ پلک جھپکائیں میں اس سے بھی پہلے آپ کےپاس پہنچا سکتا ہوں جب آپ نے اسے اپنے پاس پایا تو فرمانے لگے یہی میرے رب کا فضل ہے " النمل 39 – 40


جنوں کا کھانا اور پینا[ترمیم]

جنات کھاتے پیتے ہیں :

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ( میرے پاس جنوں کا داعی آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور ان پر قرآن پڑھا فرمایا کہ وہ ہمیں لے کر گیا اور اپنے آثار اور اپنی آگ کے آثار دکھائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زاد راہ ( کھانے ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھ آئے گی تو وہ گوشت ہوگی اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں کا کھانا ہے ) اسے مسلم نے ( 450) روایت کیا ہے ۔

اور ایک روایت میں ہے کہ ( بیشک میرے پاس نصیبی جنوں کا ایک وفد آیا اور وہ جن بہت اچھے تھے تو انہوں نے مجھے کھانے کے متعلق پوچھا تو میں نے اللہ تعالٰی سے ان کے لئے دعا کی کہ وہ کسی ہڈی اور لید کے پاس سے گذریں تو وہ اسے اپنا کھانا پائیں ) اسے بخاری نے ( 3571) روایت کیا ہے ۔

تو جنوں میں سے مومن جنوں کا کھانا ہر وہ ہڈی ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے جس پر بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو اسے ان کے لئے مباح قرار نہیں دیا اور وہ جس پر بسم اللہ نہیں پڑھی گئی وہ کافر جنوں کے لئے بے ۔

جنوں کے جانور[ترمیم]

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث میں ہے کہ جنوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے


جنوں کی رھائش[ترمیم]

جس زمین پرہم زندگی گزار رہے ہیں اسی پر وہ بھی رہتے ہیں اور انکی رھائش اکثر خراب جگہوں اور گندگی والی جگہ ہے مثلا لیٹرینیں اور قبریں اور گندگی پھینکنے اور پاخانہ کرنے کی جگہ تو اسی لئے نبی صلی للہ علیہ وسلم نے ان جگہوں میں داخل ہوتے وفت اسباب اپنانے کا کہا ہے اور وہ اسباب مشروع اذکار اور دعائیں ہیں ۔

انہی میں سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء جاتے تو یہ کہا کرتے تھے

{ اللهم اٍني اعوذبک من الخبث والخبائث }

اے اللہ میں خبیثوں اور خبیثنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ) اسے بخاری نے (142)اور مسلم نے ( 375) روایت کیا ہے ۔

خطابی کا قول ہے کہ الخبث یہ خبیث کی جماعت ہے اور الخبائث یہ خبیثہ کی جمع ہے اور اس سے مراد شیطانوں میں سے مذکور اور مؤنث ہیں جنوں میں مومن بھی اور کافر بھی ہیں :

جنوں کے متعلق اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے ۔ " ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بے انصاف ہیں پس جو فرمانبردار ہو گئے انہوں نے تو راہ راست کا قصد کیا اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بن گئے الجن 14۔ 15

بلکہ ان میں سے مسلمان اطاعت اور اصلاح کے اعتبار سے مختلف ہیں سورہ الجن میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے

" اور یہ کہ بیشک بعض تو ہم میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوۓ ہیں الجن : 11

اور اس امت کے پہلے جنوں کا اسلام لانے کا قصہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ سوق عکاز جانے کے ارادہ سے چلے اور شیطان اور آسمان کی خبروں کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور ان پر شہاب ثاقب مارے جانے لگے تو شیطان اپنی قوم میں واپس آئے تو انہیں پوچھنے لگے کہ تمہیں کیا ہے ؟

تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان کوئی چیز حائل کر دی گئی ہے اور ہمیں شہاب ثاقب مارے جاتے ہیں تو قوم کہنے لگی تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حا‏ئل ہونے کا کوئی سبب کوئی حادثہ ہے جو کہ ہوا ہے تو زمین کے مشرق و مغرب میں پھیل جا‎ؤ اور دیکھو کہ وہ کون سی چیز ہے جو کہ تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان ہوئی ہے ۔

تووہ جن تہامہ کی طرف گئے تھے وہ سوق عکاز ( عکاز بازار ) جانے کی غرض سے نخلہ نامی جگہ پر اپنے صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے تو جب جنوں نے قرآن سنا تو اس پر کان لگا لئے اور اسے غور سے سننے لگے تو کہنے لگے اللہ کی قسم یہی ہے جو تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہوا ہے تو وہیں سے اپنی قوم کی طرف واپس پلٹے اور انہیں کہنے لگے اے ہماری قوم ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ہم ایمان لا چکے ( اب ) ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں بنائیں گے تو اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی :

" کہہ دو میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا ) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جنوں کا قول ہی وحی کیا گیا ۔

اسے بخاری نے ( 731) روایت کیا ہے ۔

قیامت کے دن ان کا حساب و کتاب :

قیامت کے دن جنوں کا حساب و کتاب بھی ہوگا ۔ مجاھد رحمہ اللہ علیہ نے اللہ تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق کہا ہے کہ اور یقینا جنوں کو یہ معلوم ہے کہ وہ پیش کئے جائیں گے


جنوں کی اذیت سے بچاؤ[ترمیم]

جبکہ جن ہمیں دیکھتے ہیں اور ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے تو اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کی اذیت سے بچنے کے لئے بہت سے طریقے سکھائے ہیں مثلا شیطان مردود سے اللہ تعالٰی کی پناہ میں آنا اور سورہ الفلق اور الناس پڑھنا ۔

اور قرآن میں شیطان سے پناہ کے متعلق آیا ہے۔

اور دعا کریں اے میرے رب میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے پاس آجائیں [2]

اور اسی طرح گھر میں داخل ہونے سے اور کھانا کھانے سے اور پانی پینے سے اور جماع سے پہلے بسم اللہ پڑھنا شیطانوں کو گھر میں رات گزارنے اور کھانے پینے اور جماع میں شرکت سے روک دیتا ہے اور اسی طرح بیت الخلا میں داخل ہونے سے پہلے اور لباس اتارنے سے قبل جن کو انسان کی شرمگاہ اور اسے تکلیف دینے سے منع کردیتا ۔

جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔

جب انسان بیت الخلا جاتاہے تو بسم اللہ کہے یہ اس کی شرمگاہ اور جن کی آنکھوں کے درمیان پردہ ہو گا۔[3] ۔

اور قوت ایمان اور قوت دین بھی شیطان کی اذیت سے رکاوٹ ہیں بلکہ اگر وہ معرکہ کریں تو صاحب ایمان کامیاب ہو گا جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سےایک آدمی جن سے ملا اور اس سے مقابلہ کیا تو انسان نے جن کو بچھاڑ دیا تو انسان کہنے لگا کیا بات ہے میں تجھے دبلا پتلا اور کمزور دیکھ رہا ہوں اور یہ تیرے دونوں بازو ایسے ہیں جیسے کتے کے ہوں کیا سب جن اسی طرح کے ہوتے ہیں یا ان میں سے تو ہی ایسا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں اللہ کی قسم میں تو ان میں سے کچھ اچھی پسلی والا ہوں لیکن میرے ساتھ دوبارہ مقابلہ کر اگر تو تو نے مجھے بچھاڑ دیا تو میں تجھے ایک نفع مند چیز سکھاؤں گا تو کہنے لگا ٹھیک ہے کہ تو آیۃ الکرسی {اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم ۔۔۔۔۔۔۔۔} پڑھا کر تو جس گھر میں بھی پڑھے گا وہاں سے شیطان اس طرح نکلے گا کہ گدھے کی طرح اس کی ہوا خارج ہو گی تو پھر وہ صبح تک اس گھر میں نہیں آئے گا ۔

ابو محمد کہتے ہیں کہ الضئیل نحیف کو اور الشحیت کمزور اور الضلیع جس کی پسلی ٹھیک ہو اور الخجج ہوا کو کہتے ہیں ۔

تو جنوں اور انکی خلقت اور طبیعت کے متعلق مختصر سا بیان تھا اور اللہ ہی بہتر حفاظت کرنے والا اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔

مزید تفصیل کے لئے دیکھیں کتاب ( الجن والشیاطین ) تالیف : عمر واللہ اعلم . جنات سے جائز کام لیا جا سکتا ہے۔ شریعت میں ان سے جائز کام کروانے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ شریعت کے خلاف کام لینا حرام ہے۔ دوسروں پر ظلم و زیادتی کرنا، کسی کے مال کو غصب کرنا، کسی کو تنگ کرنا، دوسروں کے حقوق غصب کرنا، ایسے کاموں میں جنات سے مدد لینا جائز نہیں ہے، بلکہ حرام ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ اسے طحاوی نے مشکل الآثار میں ( 4/95) اور طبرانی نے طبرانی کبیر میں ( 22/114 ) روایت کیا ہے اور شیخ البانی رحمہ اللہ علیہ نے مشکاہ (206 نمبر 4148) میں کہا ہے کہ اسے طحاوی اور ابو الشیخ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے
  2. ^ سورۃ المؤمنون 97- 98
  3. ^ صحیح ترمذی (551) اور یہ صحیح الجامع میں (3611) ہے
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=جن&oldid=984335’’ مستعادہ منجانب