داؤد علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اسلام
Mosque02.svg
قرآن پاک کے مطابق اسلام میں انبیاء علیہ سلام

رسول اور نبی

آدم علیہ السلام · ادریس علیہ السلام · نوح علیہ السلام · ھود علیہ السلام · صالح علیہ السلام · ابراہیم علیہ السلام · لوط علیہ السلام · اسماعیل علیہ السلام · اسحاق علیہ السلام · یعقوب علیہ السلام · یوسف علیہ السلام · ایوب علیہ السلام · شعيب علیہ السلام · موسیٰ علیہ السلام · ہارون علیہ السلام · ذو الکفل علیہ السلام · داؤد علیہ السلام · سليمان علیہ السلام · الیاس علیہ السلام · الیسع علیہ السلام · یونس علیہ السلام · زکریا علیہ السلام · یحییٰ علیہ السلام · عیسیٰ علیہ السلام · محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

قرآن مجید کی سورۃ بقرہ ، نساء مائدہ ، انعام ، اسرا، انبیاء اور سبا میں آپ کا ذکر ہے۔ لیکن اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ آپ بنی اسرائیل کے ایک طاقتور بادشاہ اور نبی تھے۔ طالوت کی طرف سے جالوت سے لڑے ۔ آپ نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے آپ کو بادشاہی اور نبوت عطا کی۔ اللہ نے آپ پر زبور نازل کی۔ نہایت پر تاثیر آواز ’’ لحن داؤدی‘‘ بخشی اور پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ کے ساتھ تسبیح کریں۔ اللہ نے آپ کے فرزند حضرت سلیمان کو ایک خاص علم عطا کیا تھا۔ قرآن نے آپ کو خلیفہ الارض بھی کہا ہے۔ آپ سے قبل یہ اعزاز صرف حضرت آدم کو حاصل تھا۔

بائبل میں آپ کے مفصل حالات ملتے ہیں۔ لیکن بائبل کا ڈیوڈ حضرت داؤد نہیں ہیں بلکہ وہ صرف ایک بادشاہ تھا۔ گو خدا نے اس سے کلام کیا تھالیکن عام انسانوں کی طرح اس سے بھی خطا سرزد ہوئی۔ اس نے حتی ادریاہ کی بیوی سے صحبت کی جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ اس نے ادریاہ کو جنگ میں جان بوجھ کر مروا دیا اور پھر اس کی بیوی سے شادی کر لی۔ اس کے اس فعل سے خداوند ناراض ہوا۔ (سموئیل باب 11 ۔ آیات 2۔27) مسلم مورخین و مفسرین نے بھی حضرت داؤد کے حالات تفصیل سے لکھے ہیں جن کا بیشتر حصہ تھوڑے اختلاف کے ساتھ بائبل اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ ان مورخین کے بقول زمانہ 1000ق م تھا۔ آپ اسرائیلی اسباط میں یہودا کی نسل سے تھے۔ باپ کا نام ایشا یا ایشی تھا۔

آپ کے عہد میں طالوت ’’بائبل کا ساؤل‘‘ بنی اسرائیل کا ایک نیک شخص تھا جسے حضرت شمویل ’’بائبل کے سموئیل‘‘ نے بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا۔ جب فلسطین کے ایک جابر بادشاہ جالوت ’’بائبل کا گولیتھ‘‘ نے طالوت پر حملہ کیا تو حضرت داؤد نے طالوت کی جانب سے لڑے اور گھوپن سے جالوت کو مار ڈالا۔ طالوت نے اعلان کیا تھا کہ جو شخص جالوت کو قتل کرے گا وہ میری بیٹی اور ایک تہائی سلطنت کا حقدار ہوگا۔ اس قول کے مطابق داؤد طالوت کے داماد اور شریک سلطنت بن گئے، لیکن کچھ عرصے بعد طالوت بھی آپ س حسد کرنےلگا اور آپ کے قتل کے درپے ہوا۔ حضرت داؤد اپنی بیوی کی ایما پر شہر سے نکل گئے اور ایک غار میں پناہ لی جس کے منہ پر مکڑی نے جالا تن دیا۔ بعض مورخین کے بقول آپ جالوت کو قتل کرکے اور بعض کے بقول اس کی طبعی موت کے بعد بادشاہ بنے۔ آپ نے یروشلم میں اپنے ہیکل کی بنیاد رکھی جو آپ کے فرزند حضرت سلیمان کے عہد میں تکمیل کو پہنچا۔ بائبل کے بیان کے مطابق آپ نے بنی اسرائیل پر چالیس برس حکومت کی اور کہن سالی میں وفات پاکر آپ داؤد کے شہر صیہون میں دفن ہوئے۔