الانعام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
الانعام
المائدہ الانعام الاعراف
Alanam.PNG
دور نزول مکی
نام کے معنی مویشی
عددِ سورت 6
عددِ پارہ 7 اور 8
زمانۂ نزول مکی دور کا آخری زمانہ
اعداد و شمار
رکوع 20
تعداد الآیات 165
الفاظ 3,055
حروف 12,418

سورۂ الانعام قرآن مجید کی چھٹی سورت ہے جس کی 165 آیات ہیں۔ یہ ایک مکی سورت ہے۔

نام[ترمیم]

قرآن مجید کی اس سورت کے رکوع 16 اور 17 میں بعض اَنعام (مویشیوں) کی حرمت اور بعض کی حلت کے متعلق اہل عرب کے توہمات کی تردید کی گئی ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام "الانعام" رکھا گیا ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ یہ پوری سورت مکہ میں بیک وقت نازل ہوئی تھی۔ حضرت معاذ بن جبل کی چچا زاد بہن اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ "جب یہ سورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہورہی تھی اس وقت آپ اونٹنی پر سوار تھے، میں اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھی اور بوجھ کے مارے اونٹنی کا یہ حال ہورہا تھا کہ معلوم ہوتا تھا اس کی ہڈیاں اب ٹوٹ جائیں گی"۔ روایات میں اس کی بھی تصریح ہے کہ جس رات یہ نازل ہوئی اسی رات کو آپ نے اسے قلمبند کرادیا۔

اس کے مضامین پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مکی دور کے آخری زمانے میں نازل ہوئی ہوگی۔ حضرت اسماء بنت یزید کی روایت بھی اسی کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ موصوفہ انصار میں سے تھیں اور ہجرت کے بعد ایمان لائیں۔ اگر قبول اسلام سے پہلے محض بر بناء عقیدت وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں مکہ حاضر ہوئی ہوں گی تو یقیناً یہ حاضری آپ کی مکی زندگی کے آخری سال میں ہوئی ہوگی۔ اس سے پہلے اہل یثرب کے ساتھ آپ کے تعلقات اتنے بڑھے ہی نہ تھے کہ وہاں سے کسی عورت کا آپ کی خدمت میں حاضر ہونا ممکن ہوتا۔

شان نزول[ترمیم]

زمانۂ نزول متعین ہوجانے کے بعد ہم باآسانی اس پس منظر کو دیکھ سکتے ہیں جس میں یہ خطبہ ارشاد ہوا ہے۔ اس وقت اللہ کے رسول کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہوئے 12 سال گذر چکے تھے۔ قریش کی مزاحمت اور ستم گری و جفا کاری انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اسلام قبول کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ان کے ظلم و ستم سے عاجز آکر ملک چھوڑ چکی تھی اور حبش میں مقیم تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تائید و حمایت کے لیے نہ ابو طالب باقی رہے تھے اور نہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ، اس لیے ہر دنیوی سہارے سے محروم ہو کر آپ شدید مزاحمتوں کا مقابلے میں تبلیغ رسالت کا فرض انجام دے رہے تھے۔ آپ کی تبلیغ کے اثر سے مکہ میں اور گردونواح کے قبائل میں بھی صالح افراد پے در پے اسلام قبول کرتے جارہے تھے، لیکن قوم بحیثیتِ مجموعی رد و انکار پر تلی ہوئی تھی، جہاں کئی شخص اسلام کی طرف ادنیٰ میلان بھی ظاہر کرتا تھا اسے طعن و ملامت، جسمانی اذیت اور معاشی و معاشرتی مقاطعہ کا ہدف بننا پڑتا تھا۔ اس تاریک ماحول میں صرف ایک ہلکی سی شعاع یثرب کی طرف سے نمودار ہوئی تھی جہاں سے اوس اور خزرج کے با اثر لوگ آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے اور جہاں کسی اندرونی مزاحمت کے بغیر اسلام پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔ مگر اس حقیر سی ابتداء میں مستقبل کے جو امکانات پوشیدہ تھے انہیں کوئی ظاہر بیں آنکھ نہ دیکھ سکتی تھی۔ بظاہر دیکھنے والوں کو جو کچھ نظر آتا تھا وہ بس یہ تھا کہ اسلام ایک کمزور سی تحریک ہے جس کی پشت پر کوئی مادی طاقت نہیں، جس کا داعی اپنے خاندان کی ضعیف سی حمایت کے سوا کوئی زور نہیں رکھتا اور جسے قبول کرنے والے چند مٹھی بھر بے بس اور منتشر افراد اپنی قوم کے عقیدہ و مسلک سے منحرف ہو کر اس طرح سوسائٹی سے نکال پھینکے گئے ہیں جیسے پتے اپنے درخت سے جھڑ کر زمین پر پھیل جائیں۔

مباحث[ترمیم]

ان حالات میں یہ خطبہ ارشاد ہوا ہے اور اس کے مضامین کو سات بڑے بڑے عنوانات پر تقسیم کیا جاسکتا ہے:

  1. شرک کا ابطال اور عقیدہ توحید کی طرف دعوت
  2. عقیدۂ آخرت کی تبلیغ اور اس غلط خیال کی تردید کہ زندگی جو کچھ ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے
  3. جاہلیت کے ان توہمات کی تردید جن میں لوگ مبتلا تھے
  4. ان بڑے بڑے اصولِ خلاق کی تلقین جن پر اسلام معاشرے کی تعمیر چاہتا تھا
  5. نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کی دعوت کے خلاف لوگوں کے اعتراضات کا جواب
  6. طویل جدوجہد کے باوجود دعوت کے نتیجہ خیز نہ ہونے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عام مسلمانوں کے اندر اضطراب اور دل شکستگی کی جو کیفیت پیدا ہورہی تھی اس پر تسلی
  7. منکرین و مخالفین کو ان کی غفلت و سرشاری اور نادانستہ خود کشی پر نصیحت، تنبیہہ اور تہدید۔

لیکن خطبہ کا انداز یہ نہیں ہے کہ ایک ایک عنوان پر الگ الگ یکجا گفتگو کی گئی ہو۔ بلکہ خطبہ ایک دریا کی سی روانی کے ساتھ چلتا جاتا ہے اور اس کے دوران یہ عنوانات مختلف طریقوں سے بار بار چھڑتے ہیں اور ہر بار ایک نئے انداز سے ان پر گفتگو کی جاتی ہے۔

یہاں چونکہ پہلی مرتبہ ناظرین کے سامنے ایک مفصل مکی سورت آرہی ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر مکی سورتوں کے تاریخی پس منظر کی ایک جامع تشریح کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ تمام مکی سورتوں میں اشاعت کو سمجھنا آسان ہوجائے۔

جہاں تک مدنی سورتوں کا تعلق ہے، ان میں سے تو قریب قریب ہر ایک کا زمانۂ نزول معلوم ہے یا تھوڑی سی کاوش سے متعین کیا جاسکتا ہے بلکہ ان کی تو بکثرت آیتوں کی انفرادی شان نزول تک معتبر روایات میں مل جاتی ہیں لیکن مکی سورتوں کے متعلق ہمارے پاس اتنے مفصل ذرائع معلومات موجود نہیں ہیں۔ بہت کم سورتیں یا آیتیں ایسی ہیں جن کے زمانۂ نزول اور موقعِ کے بارے میں کوئی صحیح و معتبر روایت ملتی ہو کیونکہ اس زمانے کی تاریخ اس قدر جزئی تفصیلات کے ساتھ مرتب نہیں ہوئی ہے جیسی کہ مدنی دور کی تاریخ ہے۔ اس وجہ سے مکی سورتوں کے معاملے میں ہمیں تاریخی شہادتوں کے بجائے زیادہ تر ان اندرونی شہادتوں پر اعتماد کرنا پڑتا ہے جو مختلف سورتوں کے موضوع، مضمون اور اندازِ بیاں میں، اور اپنے پس منظر کی طرف ان کے جلی یا خفی اشارات میں پائی جاتی ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کی شہادتوں کی مدد سے لے کر ایک ایک سورت اور ایک ایک آیت کے متعلق یہ تعین نہیں کیا جاسکتا کہ یہ فلاں تاریخ یا فلاں سن میں فلاں موقع پر نازل ہوئی ہے۔ زیادہ صحت کے ساتھ جو کچھ کیا جاسکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ایک طرف ہم مکی سورتوں کی اندرونی شہادتوں کو اور دوسری طرف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکی زندگی کی تاریخ کو آمنے سامنے رکھیں اور پھر دونوں کا تقابل کرتے ہوئے یہ رائے قائم کریں کہ کون سی سورت کس دور سے تعلق رکھتی ہے۔

اس طرز تحقیق کو ذہن میں رکھ کر جب ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکی زندگی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو وہ دعوت اسلامی کے نقطۂ نظر سے ہمیں چار بڑے بڑے نمایاں ادوار پر منقسم نظر آتی ہے:

پہلا دور، آغازِ بعثت سے لے کر اعلان نبوت تک، تقریباًً تین سال، جس میں دعوت خفیہ طریقے سے خاص خاص آدمیوں کو دی جارہی تھی اور عام اہلِ مکہ کو اس کا علم نہ تھا

دوسرا دور، اعلان نبوت سے لے کر ظلم و ستم کے آغاز تک، تقریباًً 2 سال، جس میں پہلے مخالفت شروع ہوئی، پھر اس نے مزاحمت کی شکل اختیار کی، پھر تضحیک، استہزاء، الزامات، سب و شتم، جھوٹے پروپیگنڈے اور مخالفانہ جتھہ بندی تک نوبت پہنچی اور بالآخر ان مسلمانوں پر زیادتیاں شروع ہوگئی جو نسبتاً زیادہ غریب، کمزور اور بے یار و مددگار تھے۔

تیسرا دور، آغاز ظلم و ستم سے لے کر ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک، تقریباًً پانچ چھ سال۔ اس ميں مخالفت انتہائی شدت اختیار کرتی چلی گئی، بہت سے مسلمان کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر حبش کی طرف ہجرت کر گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے خاندان اور باقی ماندہ مسلمانوں کا معاشی و معاشرتی مقاطعہ کیا گیا اور آپ اپنے حامیوں اور ساتھیوں سمیت شعب ابی طالب میں محصور کردیے گئے۔

چوتھا دور ہجرت سے قبل کے تین سال، یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے لیے انتہائی سختی و مصیبت کا زمانہ تھا۔ مکہ میں آپ کے لیے زندگی دو بھر کردی گئی تھی، طائف گئے تو وہاں بھی پناہ نہ ملی، حج کے موقع پر عرب کے ایک ایک قبیلے سے آپ اپیل کرتے رہے کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرے اور آپ کا ساتھ دے مگر ہر طرف سے کورا جواب ہی ملتا رہا۔ اور ادھر اہل مکہ بار بار یہ مشورے کرتے رہے کہ آپ کو قتل کردیں یا قید کردیں یا اپنی بستی سے نکال دیں۔ آخر کار اللہ کے فضل سے انصار کے دل اسلام کے لیے کھل گئے اور ان کی دعوت پر آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

ان میں سے ہر دور میں قرآن مجید کی جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ اپنے مضامین اور انداز بیاں میں دوسرے دور کی سورتوں سے مختلف ہیں۔ ان میں بکثرت مقامات پر ایسے اشارات بھی پائے جاتے ہیں جن سے پس منظر کے حالات اور واقعات پر صاف روشنی پڑتی ہے۔ ہر دور کی خصوصیات کا اثر اس دور کے نازل شدہ کلام میں بہت بڑی حد تک نمایاں نظر آتا ہے۔ انہی علامات پر اعتماد کرکے ہم آئندہ ہر مکی سورت کے آغاز میں بتائیں کہ وہ مکہ کے کس دور میں نازل ہوئی۔

گذشتہ سورت:
المائدہ
سورت 6 اگلی سورت:
الاعراف
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس