العادیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
العادیات
الزلزال العادیات القارعہ
عددِ سورت 100
عددِ پارہ 30
اعداد و شمار
رکوع 1
تعداد آیات 11

نام[ترمیم]

پہلے ہی لفظ العٰدیٰت کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔ زمانۂ نزول اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود، جابر، حسن بصری، عکرمہ اور عطاء کہتے ہیں کہ یہ مکی ہے۔ حضرت انس بن مالک اور قتادہ کہتے ہیں کہ مدنی ہے اور حضرت ابن عباس سے دو قول منقول ہوئے ہیں ایک یہ کہ سورت مکی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے لیکن سورت کا مضمون اور انداز بیان صاف بتا رہا ہے کہ یہ نہ صرف مکی ہے بلکہ مکہ کے بھی ابتدائی دور کی نازل ہوئی ہے۔

موضوع اور مضمون[ترمیم]

اس کا مقصود لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ انسان آخرت کا منکر یا اس سے غافل ہو کر کیسی اخلاقی پستی میں گر جاتا ہے، اور ساتھ ساتھ لوگوں کو اس بات سے خبردار بھی کرنا ہے کہ آحرت میں صرف ان کے ظاہری افعال ہی کی نہیں بلکہ ان کے دلوں میں چھپے ہوئے اسرار تک کی جانچ پڑتال ہوگی۔ اس مقصد کے لیے عرب میں پھیلی ہوئي اس عام بدامنی کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس سے سارا ملک تنگ آیا ہوا تھا۔ ہر طرف کشت و خون برپا تھا۔ لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ قبیلوں پر قبیلے چھاپے مار رہے تھے اور کوئی شخص بھی رات چین سے نہیں گزار سکتا تھا کیونکہ ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ کب کوئی دشمن صبح سویرے اس کی بستی پر ٹوٹ پڑے۔ یہ ایک ایسی حالت تھی جسے عرب کے سارے ہی لوگ جانتے تھے اور اس کی قباحت کو محسوس کرتے تھے۔ اگرچہ لٹنے والا اس پر ماتم کرتا تھا اور لوٹنے والا اس پر خوش ہوتا تھا، لیکن جب کسی وقت لوٹنے والے کی شامت آ جاتی تھی تو وہ بھی یہ محسوس کر لیتا تھا کہ یہ کیسی بری حالت ہے جس میں ہم لوگ مبتلا ہیں۔ اس صورتحال کی طرف اشارہ کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی اور اس میں خدا کے حضور جواب دہی سے ناواقف ہو کر انسان اپنے رب کا ناشکرا ہو گیا ہے، وہ خدا کی دی ہوئی قوتوں کو ظلم و ستم اور غارت گری کے لیے استعمال کر رہا ہے، وہ مال و دولت کی محبت میں اندھا ہو کر ہر طریقے سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، خواہ وہ کیسا ہی ناپاک اور گھناؤنا طریقہ ہو، اور اس کی حالت خود اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ وہ اپنے رب کی عطا کی ہوئی قوتوں کا غلط استعمال کر کے ناشکری کر رہا ہے۔ اس کی یہ روش ہر گز نہ ہوتی اگر وہ اس وقت کو جانتا ہوتا جب قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنا ہوگا، اور جب وہ ارادے اور وہ اغراض و مقاصد تک دلوں سے نکال کر سامنے رکھ دی جائیں گے جن کی تحریک سے اس نے دنیا میں طرح طرح کے کام کیے تھے۔ اس وقت انسانوں کے رب کو خوب معلوم ہوگا کہ کون کیا کر کے آیا ہے اور کس کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔


گذشتہ سورت:
الزلزال
سورت 100 اگلی سورت:
القارعہ
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس