سورہ نوح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نوح
نوح
دور نزول مکی
عددِ سورت 71
عددِ پارہ 29
اعداد و شمار
رکوع 2
تعداد الآیات 28

قرآن مجید کی 70 ویں سورت جس کے 2 رکوع میں 28 آیات ہیں۔

نام[ترمیم]

نوح اس سورت کا نام بھی ہے اور اس کے مضمون کا عنوان بھی، کیونکہ اس میں از اول تا آخر حضرت نوح علیہ السلام ہی کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

یہ بھی مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، مگر اس کے مضمون کی داخلی شہادت اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت و تبلیغ کے مقابلہ میں کفار مکہ کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کر چکی تھی۔

موضوع اور مضمون[ترمیم]

اس میں حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ محض قصہ گوئی کی خاطر بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وہی رویہ اختیار کر رہے ہو جو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم نے اختیار کیا تھا، اور اس رویے سے اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں بھی وہی انجام دیکھنا پڑے گا جو ان لوگوں نے دیکھا۔ یہ بات پوری سورت میں کہیں صاف الفاظ میں نہیں کہی گئی لیکن جس موقع پر اور جن حالات میں یہ قصہ اہل مکہ کو سنایا گیا ہے اس پس منظر میں خود بخود یہ مضمون اس سے مترشح ہوتا ہے۔

پہلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب اللہ تعالٰی نے رسالت کے منصب پر مامور فرمایا تھا اس وقت کیا خدمت ان کے سپرد کی گئی تھی۔

آیت 2 – 4 میں مختصراً یہ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز کس طرح کیا اور اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے کیا بات پیش کی۔ پھر مدتہائے دراز تک دعوت و تبلیغ کی زحمتیں اٹھانے کے بعد جو روداد حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے رب کے حضور پیش کی وہ آیت 5 – 20 میں بیان کی گئی ہے۔ اس میں وہ عرض کرتے ہیں کہ کس کس طرح انہوں نے اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی کوششیں کیں اور قوم نے ان کا مقابلہ کس ہٹ دھرمی سے کیا۔

اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی آخری گزارش آیات 21 – 24 میں درج کی گئی ہے جس میں وہ اپنے رب سے عرض کرتے ہیں کہ یہ قومی میری بات قطعی طور پر رد کر چکی ہے، اس نے اپنی نکیل اپنے رئیسوں کے ہاتھ میں دے دی ہے، اور انہوں نے بہت بڑا مکر کا جال پھیلا رکھا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ان لوگوں سے ہدایت کی توفیق سلب کر لی جائے۔ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی طرف سے کسی بے صبری کا مظاہرہ نہ تھا بلکہ صدیوں تک انتہائی صبر آزما حالات میں تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کے بعد جب وہ اپنی قوم سے پوری طرح مایوس ہو گئے تو انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ اب اس قوم کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان باقی نہیں ہے۔ یہ رائے ٹھیک ٹھیک اللہ تعالٰی کے اپنے فیصلے کے مطابق تھی۔ چنانچہ اس کے متصلاً بعد آیت 25 میں ارشاد ہوا ہے کہ اس قوم کے پر اس کے کرتوتوں کی وجہ سے خدا کا عذاب نازل ہوگیا۔

آخری آیات میں حضرت نوح علیہ السلام کی وہ دعا درج کی گئی ہے جو انہوں نے عین نزولِ عذاب کے وقت اپنے رب سے مانگی تھی۔ اس میں وہ اپنے لیے اور سب اہل ایمان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور اپنی قوم کے کافروں کے بارے میں اللہ تعالٰی سے عرض کرتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو زمین پر بسنے کے لیے جیتا نہ چھوڑا جائے، کیونکہ ان کے اندر اب کوئی خیر باقی نہیں رہی ہے، ان کی نسل سے جو بھی اٹھے گا کافر اور فاجر ہی اٹھے گا۔

اس سورت کا مطالعہ کرتے ہوئے حضرت نوح علیہ السلام کے قصے کی وہ تفصیلات نگاہ میں رہنی چاہئیں جو اس سے پہلے قرآن مجید میں بیان ہو چکی ہیں۔ ملاحظہ ہو الاعراف (آیات 59 تا 64) یونس (آیات 71 – 73)، ہود (آیات 25 تا 49)، المومنون (آیات 23 تا 31)، الشعراء (آیات 105 تا 122)، العنکبوت (آیات 14 – 15)، الصافات (آیات 75 تا 82)، القمر (آیات 9 تا 16)

گذشتہ سورت:
المعارج
سورت 71 اگلی سورت:
الجن
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس