اللیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اللیل
الشمس اللیل الضحٰی
Sura92.pdf
دور نزول مکی
نام کے معنی رات
عددِ سورت 92
اعداد و شمار
تعداد آیات 21
الفاظ 71
حروف 312

قرآن مجید کی 92 ویں سورت جس میں 21 آیات ہیں۔

نام[ترمیم]

پہلے ہی لفظ والیل کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

اس کا مضمون سورۂ شمس سے اس قدر مشابہ ہے کہ یہ دونوں سورتیں ایک دوسرے کی تفسیر محسوس ہوتی ہیں۔ ایک ہی بات ہے جسے سورۂ شمس میں ایک طریقے سے سمجھایا گیا ہے اور اس سورت میں دوسرے طریقے سے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں قریب قریب ایک ہی زمانے میں نازل ہوئی ہیں۔

موضوع اور مضمون[ترمیم]

اس کا موضوع زندگی کے دو مختلف راستوں کا فرق اور ان کے انجام اور نتائج کا اختلاف بیان کرتا ہے۔ مضمون کے لحاظ سے یہ سورت دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ آغاز سے آیت 11 تک ہے، اور دوسرا حصہ آیت 12 سے آخر تک۔

پہلے حصہ میں سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ نوع انسانی کے افراد، اقوام اور گروہ دنیا میں جو سعی و عمل بھی کر رہے ہیں، وہ لازماً اپنی اخلاقی نوعیت کے لحاظ سے اُسی طرح مختلف ہیں جس طرح دن رات سے اور نر مادہ سے مختلف ہے۔ اس کے بعد قرآن کی مختصر سورتوں کے عام انداز بیان کے مطابق تین اخلاقی خصوصیات ایک نوعیت کی، اور تین اخلاقی خصوصیات دوسری نوعیت کی سعی و عمل کے ایک وسیع مجموعے میں سے لے کر بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں جنہیں سن کر ہر شخص بڑی آسانی کے ساتھ یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ایک قسم کی خصوصیات کس طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتی ہیں اور دوسری قسم کی خصوصیات اُس کے برعکس کس دوسرے طرز زندگی کی علامات ہیں۔ یہ دونوں نمونے ایسے چھوٹے چھوٹے خوبصورت جچے تلے فقروں میں بیان کی گئے ہیں کہ سنتے ہی آدمی کے دل میں اتر جائیں اور زبان پر چڑھ جائیں۔ پہلی قسم کی خصوصیات یہ ہیں کہ آدمی مال دے، خدا ترسی و پرہیز گاری اختیار کرے اور بھلائی کو بھلائی مانے۔ دوسری قسم کی خصوصیات یہ ہیں کہ وہ بخل کرے، خدا کی رضا اور ناراضی کی فکر سے بے پروا ہو جائے اور بھلی بات کو جھٹلا دے۔ پھر بتایا گیا ہے کہ یہ دو طرز عمل جو صریحاًً ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اپنے نتائج کے اعتبار سے ہر گز یکساں نہیں ہیں، بلکہ جس قدر یہ اپنی نوعیت میں متضاد ہیں اسی قدر ان کے نتائج بھی متضاد ہیں۔ پہلے طرز عمل کو جو شخص یا گروہ اختیار کرے گا اللہ تعالٰی اس کے لیے زندگی کے صاف اور سیدھے راستے کو سہل کر دے گا یہاں تک کہ اس کے لیے نیکی کرنا آسان اور بدی کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اور دوسرے طرز عمل کو جو بھی اختیار کرے گا اللہ تعالٰی اس کے لیے زندگی کے بِکَٹ اور سخت راستے کو سہل کر دے گا یہاں تک کہ اس کے لیے بدی آسان اور نیکی مشکل ہو جائے گی۔ اس بیان کو ایک نہایت مؤثر اور تیر کی طرح دل میں پیوست ہو جانے والے جملے پر ختم کیا گیا ہے کہ دنیا کا یہ مال جس کے پیچھے آدمی جان دے دیتا ہے، آخر قبر میں تو اس کے ساتھ جانے والا نہیں ہے، مرنے کے بعد یہ اس کے کس کام آئے گا؟"

دوسرے حصے میں بھی اسی اختصار کے ساتھ تین حقیقتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے دنیا کی امتحان گاہ میں انسان کو بے خبر نہیں چھوڑا ہے بلکہ اس نے یہ بتا دینا اپنے ذمہ لیا ہے کہ زندگی کے مختلف راستوں میں سے سیدھا راستہ کون سا ہے۔ اس کے ساتھ یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ اپنا رسول اور اپنی کتاب بھیج کر اس نے اپنی یہ ذمہ داری ادا کر دی ہے، کیونکہ رسول اور قرآن، دونوں ہدایت دینے کے لیے سب کے سامنے موجود تھے۔ دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں کا مالک اللہ یہ ہے۔ دنیا مانگو گے تو وہ بھی اسی سے ملے گی اور آحرت مانگو گے تو اس کا دینے والا بھی وہی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا تمہارا اپنا کام ہے کہ تم اس سے کیا مانگتے ہو۔ تیسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ جو بدبخت اس بھلائی کو جھٹلائے گا جسے رسول اور کتاب کے ذریعہ سے پیش کیا جا رہا ہے، اور اس سے منہ پھیرے گا اس کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار ہے۔ اور جو خدا ترس آدمی پوری بے غرضی کے ساتھ محض اپنے رب کی رضا جوئی کی خاطر آپ مال راہِ خیر میں صرف کرے گا اس کا رب اس سے راضی ہوگا اور اسے اتنا کچھ دے گا کہ وہ خوش ہوجائے گا۔

گذشتہ سورت:
الشمس
سورت 92 اگلی سورت:
الضحیٰ
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس