الرعد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
الرعد
یوسف الرعد ابراہیم
دور نزول مکی
نام کے معنی بادل کی گرج
عددِ سورت 13
عددِ پارہ 13
زمانۂ نزول اخیرِ مکی زندگی
اعداد و شمار
رکوع 6
تعداد آیات 43
الفاظ 854
حروف 3,450

قرآن مجید کی 13 ویں سورت جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکی زندگی میں نازل ہوئی۔

نام[ترمیم]

آیت نمبر 13 میں استعمال ہونے والے لفظ الرعد کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ اس نام کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سورت میں بادل کی گرج کے مسئلے پر بحث کی گئی ہے، بلکہ یہ صرف علامت کے طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں لفظ الرعد آیا ہے یا جس میں رعد کا ذکر آیا ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

رکوع چار اور رکوع چھ کے مضامین شہادت دیتے ہیں کہ یہ سورت بھی اسی دور کی ہے جس میں سورۂ یونس، ہود اور اعراف نازل ہوئی ہیں، یعنی زمانۂ قیام مکہ کا آخری دور۔ انداز بیاں سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے ایک مدتِ دراز گذر چکی ہے۔ مخالفین آپ کو زک دینے اور آپ کے مشن کو ناکام کرنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلتے رہے ہیں، مومنین بار بار تمنائیں کررہے ہیں کہ کاش کوئی معجزہ دکھا کر ہی ان لوگوں کو راہ راست پر لایا جائے اور اللہ تعالٰیٰ مسلمانوں کو سمجھا رہا ہے کہ ایمان کی راہ دکھانے کا یہ طریقہ ہمارے ہاں رائج نہیں ہے اور اگر دشمنانِ حق کی رسی دراز کی جارہی ہے تو یہ ایسی بات نہیں ہے جس سے تم گھبرا اٹھو۔ پھر آیت 31 سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کفار کی ہٹ دھرمی کا ایسا مظاہرہ ہوچکا ہے جس کے بعد یہ کہنا بالکل بجا معلوم ہوتا ہے کہ اگر قبروں سے مردے بھی اٹھ کر آجائیں تو یہ لوگ نہ مانیں گے بلکہ اس واقعے کی بھی کوئی نہ کوئی تاویل کر ڈالیں گے۔ ان سب باتوں سے یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ سورت مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہوگی۔

مرکزی مضمون[ترمیم]

سورت کا مدعا پہلی ہی آیت میں پیش کردیا گیا ہے یعنی یہ کہ جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیش کررہے ہیں وہی حق ہے، مگر یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ اسے نہیں مانتے۔ ساری تقریر اسی مرکزی مضمون کے گرد گھومتی ہے۔ اس سلسلے میں بار بار مختلف طریقوں سے توحید و رسالت کی حقانیت ثابت کی گئی ہے، ان پر ایمان لانے کے اخلاقی و روحانی فوائد سمجھائے گئے ہیں، ان کو نہ ماننے کے نقصانات بتائے گئے ہیں،اور یہ ذہن نشین کیا گیا ہے کہ کفر سراسر ایک حماقت اور جہالت ہے۔ پھر چونکہ اس سارے بیان کام قصد محض دماغوں کو مطمئن کرنا ہی نہیں ہے، دلوں کو ایمان کی طرف کھینچنا بھی ہے، اس لیے نرے منطقی استدلال سے کام نہیں لیا گیا ہے بلکہ ایک ایک دلیل اور ایک ایک شہادت کو پیش کرنے کے بعد ٹھہر کر طرح طرح سے تخویف، ترہیب، ترغیب اور مشفقانہ تلقین کی گئی ہے تاکہ نادان لوگ اپنی گمراہانہ ہٹ دھرمی سے باز آجائيں۔ دوران تقریر میں جگہ جگہ مخالفین کے اعتراضات کا ذکر کیے بغیر ان کے جوابات دیے گئے ہیں اور ان شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کے متعلق لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے تھے یا مخالفین کی طرف سے ڈالے جاتے تھے۔ اس کے ساتھ اہل ایمان کو بھی، جو کئی برس کی طویل اور سخت جدوجہد کی وجہ سے تھکے جارہے تھے اور بے چینی کے ساتھ غیبی امداد کے منتظر تھے، تسلی دی گئی ہے۔

گذشتہ سورت:
یوسف
سورت 13 اگلی سورت:
ابراہیم
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس