الانشقاق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
الانشقاق
المطففین الانشقاق البروج
Sura84.pdf
دور نزول مکی
عددِ سورت 84
اعداد و شمار
تعداد الآیات 25
الفاظ 108
حروف 436

قرآن مجید کی 84 ویں سورت جس میں 25 آیات ہیں۔

نام[ترمیم]

پہلی ہی آیت کے لفظ انشقت سے ماخوذ ہے۔ انشقاق مصدر ہے جس کے معنی پھٹ جانے کے ہیں اور اس نام کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں آسمان کے پھٹنے کا ذکر آیا ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

یہ بھی مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔ اس کے مضمون کی داخلی شہادت یہ بتا رہی ہے کہ ابھی ظلم و ستم کا دور شروع نہیں ہوا تھا، البتہ قرآن کی دعوت کو مکہ میں برملا جھٹلایا جا رہا تھا اور لوگ یہ ماننے سے انکار کر رہے تھے کہ کبھی قیامت برپا ہوگی اور انہیں اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر ہونا پڑے گا۔

موضوع اور مضمون[ترمیم]

اس کا موضوع قیامت اور آخرت ہے۔

پہلی پانچ آیتوں میں نہ صرف قیامت کی کیفیت بیان کی گئی ہے بلکہ اس کے برحق ہونے کی دلیل بھی دے دی گئی ہے۔ اس کی کیفیت یہ بتائی گئی ہے کہ اس روز پھٹ جائے گا، زمین پھیلا کر ہموار میدان بنا دی جائے گی، جو کچھ زمین کے پیٹ میں ہے (یعنی مردہ انسانوں کے اجزائے بدن اور ان کے اعمال کی شہادتیں) سب کو نکال کر وہ باہر پھینک دے گی، حتیٰ کہ اس کے اندر کچھ باقی نہ رہے گا اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ آسمان و زمین کے لیے ان کے رب کا حکم یہی ہوگا اور چونکہ دونوں اس کی مخلوق ہیں اس لیے وہ اس کے حکم سے سرتابی نہیں کر سکتے، ان کے لیے حق یہی ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں۔

اس کے بعد آیت 6 سے 19 تک بتایا گیا ہے کہ انسان کو خواہ اس کا شعور ہو یا نہ ہو، بہرحال وہ اس منزل کی طرف چاروناچار چلا جا رہا ہے جہاں اسے اپنے رب کے آگے پیش ہونا ہے۔ پھر سب انسان دو حصوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک، وہ جن کا نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ کسی سخت حساب فہمی کے بغیر معاف کر دیے جائیں گے۔ دوسرے وہ جن کا نامۂ اعمال پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ وہ چاہیں گے کہ کسی طرح انہیں موت آ جائے، مگر مرنے کے بجائے وہ جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ ان کا یہ انجام اس لیے ہوگا کہ وہ دنیا میں اس غلط فہمی پر مگن رہے کہ کبھی خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر ہونا نہیں ہے۔ حالانکہ ان کا ان کے سارے اعمال کو دیکھ رہا تھا اور کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ان اعمال کی بازپرس سے چھوٹ جائیں۔ ان کا دنیا کی زندگی سے آخرت کی جزا و سزا تک درجہ بدرجہ پہنچنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج ڈوبنے کے بعد شفق کا نمودار ہونا، دن کے بعد رات کا آنا اور اس میں انسان اور حیوانات کا اپنے اپنے بسیروں کی طرف پلٹنا، اور چاند کا ہلال سے بڑھ کر ماہِ کامل بننا یقینی ہے۔

آخر میں ان کفار کو دردناک سزا کی خبر دے دی گئی ہے جو قرآن کو سن کر خدا کے آگے جھکنے کے بجائے الٹی تکذیب کرتے ہیں، اور ان لوگوں کو بے حساب اجر کا مژدہ سنا دیا گیا ہے جو ایمان لا کر نیک عمل کرتے ہیں۔

گذشتہ سورت:
المطففین
سورت 84 اگلی سورت:
البروج
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس