النحل
| الحجر → النحل ← الاسرا | |
|---|---|
| دور نزول | مکی |
| نام کے معنی | شہد کی مکھی |
| عددِ سورت | 16 |
| عددِ پارہ | 14 |
| زمانۂ نزول | اخیرِ مکی زندگی |
| اعداد و شمار | |
| رکوع | 16 |
| تعداد الآیات | 128 |
| الفاظ | 1,845 |
| حروف | 7,642 |
قرآن مجید کی 16 ویں سورت جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ 16 رکوع اور 128 آیات ہیں۔
فہرست |
نام[ترمیم]
آیت 68 کے فقرے "و اوحیٰ ربک الی النحل" سے ماخوذ ہے۔ النحل کےمعنی شھد کی مکھی ہے. یہ بھی محض علامت ہے نہ کہ موضوعِ بحث کا عنوان۔
زمانۂ نزول[ترمیم]
متعدد اندرونی شہادتوں سے اس کے زمانۂ نزول پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً، آیت 41 کے فقرے "والذین ھاجرو فی اللہ من بعد ما ظلموا" سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہجرتِ حبشہ واقع ہوچکی تھی۔
آیت 106 "من کفر باللہ من بعد ایمانہ" سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ظلم و ستم پوری شدت کے ساتھ ہورہا تھا اور یہ سوال پیدا ہوگیا تھا کہ اگر کوئی شخص ناقابل برداشت اذیت سے مجبور ہوکر کلمۂ کفر کہہ بیٹھے تو اس کا کیا حکم ہے۔
آیات 112 تا 114 کا صاف اشارہ اس طرف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کے بعد مکہ میں جو زبردست قحط رونما ہوا تھا وہ اس سورت کے نزول کے وقت ختم ہوچکا تھا۔
اس سورت میں آیت 115 ایسی ہے جس کا حوالہ سورۂ انعام آیت 119 میں دیا گیا ہے اور دوسری طرف آیت نمبر 118 ایسی ہے جس میں سورۂ انعام کی آیت 146 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں سورتوں کا نزول قریب العہد ہے۔
ان شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس سورت کا زمانۂ نزول بھی مکے کا آخری دور ہی ہے اور اسی کی تائید سورت کے عام اندازِ بیاں سے بھی ہوتی ہے۔
موضوع اور مرکزی مضمون[ترمیم]
شرک کا ابطال، توحید کا اثبات، دعوتِ پیغمبر کو نہ ماننے کے برے نتائج پر تنبیہ و فہمائش اور حق کی مخالفت و مزاحمت پر زجر و توبیخ۔
مباحث[ترمیم]
سورت کا آغاز بغیر کسی تمہید کے یک لخت ایک تنبیہی جملے سے ہوتا ہے۔ کفار مکہ بار بار کہتے تھے کہ "جب ہم تمہیں جھٹلا چکے ہیں اور کھلم کھلا تمہاری مخالفت کررہے ہیں تو آخر وہ خدا کا عذاب آ کیوں نہیں جاتا جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے ہوں"۔ اس بات کو وہ بالکل تکیۂ کلام کی طرف اس لیے دہراتے تھے کہ ان کے نزدیک یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیغمبر نہ ہونے کا سب سے زیادہ صریح ثبوت تھا۔ اس پر فرمایا کہ بیوقوفو! خدا کا عذاب تو تمہارے سر پر تلا کھڑا ہے، اب اس کے ٹوٹ پڑنے کے لیے جلدی نہ مچاؤ بلکہ ذرا سی مہلت باقی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ اس کے بعد فوراً تفہیم کی تقریر شروع ہوجاتی ہے اور حسبِ ذیل مضامین بار بار یکے بعد دیگرے سامنے آنے شروع ہوتے ہیں:
- دل لگتے دلائل اور آفاق و انفُس کے آثار کی کھلی کھلی شہادتوں سے سمجھایا جاتا ہے کہ شرک باطل ہے اور توحید ہی حق ہے۔
- منکرین کے اعتراضات، شکوک، حجتوں اور حیلوں کا ایک ایک کرکے جواب دیا جاتا ہے۔
- باطل پر اصرار اور حق کے مقابلے میں استکبار کے برے نتائج سے ڈرایا جاتا ہے۔
- ان اخلاقی اور عملی تغیرات کو مجمل مگر دل نشیں انداز سے بیان کیا جاتا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لایا ہوا دین انسانی زندگی میں لانا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں مشرکین کو بتایا جاتا ہے کہ خدا کو رب ماننا، جس کا انہیں دعویٰ تھا، محض خالی خولی مان لینا ہی نہیں ہے بلکہ اپنے کچھ تقاضے بھی رکھتا ہے جو عقائد، اخلاق اور عملی زندگی میں نمودار ہونے چاہییں۔
- نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی ڈھارس بندھائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کفار کی مزاحمتوں اور جفا کاریوں کے مقابلے میں ان کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔