الشعرآء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
الشعرآء
الشعرآء
دور نزول مکی
عددِ سورت 26
عددِ پارہ 19
زمانۂ نزول مکی زندگی کا دورِ متوسط
اعداد و شمار
رکوع 11
تعداد الآیات 227
الفاظ 1,322
حروف 5,517

قرآن مجید کی 26 ویں سورت، جس میں 11 رکوع اور 227 آیات ہیں۔

نام[ترمیم]

آیت 224 والشعرآءُ یتبعھم الغاون سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

مضمون اور اندازِ بیاں سے محسوس ہوتا ہے اور روایات اس کی تائید کرتی ہیں کہ اس سورت کا زمانۂ نزول مکہ کا دورِ متوسط ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پہلے سورۂ طٰہٰ نازل ہوئی پھر واقعہ اور اس کے بعد الشعرآء۔ [1] اور سورۂ طٰہٰ کے متعلق یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔

موضوع اور مباحث[ترمیم]

تقریر کا پس منظر یہ ہے کہ کفار مکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تبلیغ و تذکیر کا مقابلہ پیہم جحود و انکار سے کر رہے تھے اور اس کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشے چلے جاتے تھے۔ کبھی کہتے کہ تم نے ہمیں کوئی نشانی تو دکھائی ہی نہیں، پھر ہمیں کیسے یقین آئے کہ تم نبی ہو۔ کبھی آپ کو شاعر اور کاہن قرار دے کر آپ کی تعلیم و تلقین کو باتوں میں اڑا دینے کی کوشش کرتے۔ اور کبھی یہ کہہ کر آپ کے مشن کا استخفاف کرتے کہ ان کے پیرو یا تو چند نادان نوجوان ہیں، یا پھر ہمارے معاشرے کے ادنیٰ طبقات کے لوگ، حالانکہ اگر اس تعلیم میں کوئی جان ہوتی تو اشرافِ قوم اور شیوخ اس کو قبول کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان لوگوں کو معقول دلائل کے ساتھ ان کے عقائد کی غلطی اور توحید و معاد کی صداقت سمجھانے کی کوشش کرتے کرتے تھکے جاتے تھے، مگر وہ ہٹ دھرمی کی نت نئی صورتیں اختیار کرتے نہ تھکتے تھے۔ یہی چیز آنحضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی تھی اور اس غم میں آپ کی جان گھلی جاتی تھی۔

ان حالات میں یہ سورت نازل ہوئی۔ کلام کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ تم اِن کے پیچھے اپنی جان کیوں گھلاتے ہو؟ ان کے ایمان لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی نشانی نہیں دیکھی ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہٹ دھرم ہیں، سمجھانے سے نہیں ماننا چاہتے، کسی ایسی نشانی کے طالب ہیں جو زبردستی ان کی گردنیں جھکا دے، اور وہ نشانی اپنے وقت پر جب آ جائے گی تو انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ جو بات انہیں سمجھائی جا رہی تھی وہ کیسی بر حق تھی۔ اس تمہید کے بعد دسویں رکوع تک جو مضمون مسلسل بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ طالبِ حق لوگوں کے لیے تو خدا کی زمین پر ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر وہ حقیقت کو پہچان سکتے ہیں، لیکن ہٹ دھرم لوگ کبھی کسی چیز کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے ہیں، نہ آفاق کی نشانیاں دیکھ کر اور نہ انبیاء کے معجزات دیکھ کر۔ وہ تو ہمیشہ اس وقت تک اپنی ضلالت پر جمے رہے ہیں جب تک کہ خدا کے عذاب نے آ کر ان کو گرفت میں نہیں لے لیا ہے۔ اسی مناسبت سے تاریخ کی سات قوموں کے حالات پیش کیے گئے ہیں جنہوں نے اُسی ہٹ دھرمی سے کام لیا تھا جس سے کفار مکہ کام لے رہے تھے۔ اس اسی تاریخی بیان کے ضمن میں چند باتیں ذہن نشین کرائی گئی ہیں۔

اول یہ کہ نشانیاں دو طرح کی ہیں۔ ایک قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو خدا کی زمین پر ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ ہر صاحبِ عقل آدمی تحقیق کر سکتا ہے کہ نبی جس چیز کی طرف بلا رہا ہے وہ حق ہے یا نہیں۔ دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو فرعون اور اس کی قوم نے دیکھیں، قوم نوح نے دیکھیں، عاد اور ثمود نے دیکھیں، قوم لوط اور اصحاب الایکہ نے دیکھیں۔ اب یہ فیصلہ کرنا خود کفار کا اپنا کام ہے کہ وہ کس قسم کی نشانیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔

دوم یہ کہ ہر زمانے میں کفار کی ذہنیت ایک سی رہی ہے۔ ان کی حجتیں ایک ہی طرح تھیں۔ ان کے اعتراضات یکساں تھے۔ ایمان نہ لانے کے لیے ان کے حیلے بہانے یکساں تھے۔ اور آخر کار ان کا انجام بھی یکساں رہا۔ اس کے برعکس ہر زمانے میں انبیاء کی تعلیم ایک تھی۔ ان کی سیرت و اخلاق کا رنگ ایک تھا۔ اپنے مخالفوں کے مقابلے میں ان کی دلیل و حجت کا انداز ایک تھا۔ اور ان سب کے ساتھ اللہ کی رحمت کا معاملہ بھی ایک تھا۔ یہ دونوں نمونے تاریخ میں موجود ہیں۔ کفار خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اپنی تصویر کس نمونے سے ملتی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات میں کس نمونے کی علامات پائی جاتی ہیں۔

تیسری بات جو بار بار دہرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا زبردست، قادر و توانا بھی ہے اور رحیم بھی۔ تاریخ میں اس کے قہر کی مثالیں موجود ہیں اور رحمت کی بھی۔ اب یہ بات لوگوں کو خود طے کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے رحم کا مستحق بناتے ہیں یا قہر کا۔

آخری رکوع میں اس بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم لوگ اگر نشانیاں ہی دیکھنا چاہتے ہو تو آخر وہ خوفناک نشانیاں دیکھنے پر کیوں اصرار کرتے ہو جو تباہ شدہ قوموں نے دیکھی ہیں۔ اس قرآن کو دیکھو جو تمہاری اپنی زبان میں ہے، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھو، ان کے ساتھیوں کو دیکھو، کیا یہ کلام کسی شیطان کا جن کا کلام ہو سکتا ہے؟ کیا اس کلام کا پیش کرنے والا تمہیں کاہن نظر آتا ہے؟ کیا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین تمہیں ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے شاعر اور ان کے ہم مشرب ہوا کرتے ہیں؟ ضدم ضدا کی بات دوسری ہے، مگر اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اگر دلوں میں تم خود جانتے ہو کہ کہانت اور شاعری سے اس کا کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے تو پھر یہ جان لو کہ تم ظلم کر رہے ہو اور ظالموں کا سا انجام دیکھ کر رہو گے۔


گذشتہ سورت:
الفرقان
سورت 26 اگلی سورت:
النمل
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ روح المعانی جلد 19 صفحہ 64