الصافات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
الصافات
الصافات
دور نزول مکی
عددِ سورت 37
عددِ پارہ 23
اعداد و شمار
رکوع 5
تعداد الآیات 182
الفاظ 865
حروف 3,790

قرآن مجید کی 37 ویں سورت، جس میں 5 رکوع اور 182 آیات ہیں۔ مکہ میں نازل ہوئی۔

نام[ترمیم]

پہلی ہی آیت کے لفظ والصافات سے ماخوذ ہے

زمانۂ نزول[ترمیم]

مضامین اور طرز کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورت غالباً مکی دور کے وسط میں، بلکہ شاید اس دور متوسط کے بھی آخری زمانے میں نازل ہوئی ہے۔ انداز بیاں صاف بتا رہا ہے کہ پس منظر میں مخالفت پوری شدت کے ساتھ برپا ہے اور نبی و اصحاب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہایت دل شکن حالات سے سابقہ درپیش ہے۔

موضوع و مضامین[ترمیم]

اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوتِ توحید و آخرت کا جواب جس تمسخر اور استہزاء کے ساتھ دیا جا رہا تھا، اور آپ کے دعوائے رسالت کو تسلیم کرنے سے جس شدت کے ساتھ انکار کیا جا رہا تھا، اس پر کفار مکہ کو نہایت پر زور طریقے سے تنبیہ کی گئی ہے اور آخر میں انہیں صاف صاف خبردار کر دیا گیا ہے کہ عنقریب یہی پیغمبر، جس کا تم مذاق اڑا رہے ہو، تمہارے دیکھتے دیکھتے تم پر غالب آجائے گا، اور تم اللہ کے لشکر کو خود اپنے گھر کے صحن میں اترا پاؤ گے (آیات نمبر 171 تا 179) یہ نوٹس اس زمانے میں دیا گیا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کامیابی کے آثار دور دور تک نظر نہ آتے تھے۔ مسلمان (جن کو ان آیات میں اللہ کا لشکر کہا گیا ہے) بری طرح ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے۔ ان کی تین چوتھائی تعداد ملک چھوڑ کر نکل گئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بمشکل 40 سے 50 صحابہ مکے میں رہ گئے تھے اور انتہائی بے بسی کے ساتھ ہر طرح کی زیادتیاں برداشت کر رہے تھے۔ ان حالات میں ظاہر اسباب کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص یہ باور نہ کر سکتا تھا کہ غلبہ آخر کار محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کی مٹھی بھر بے سر و سامان جماعت کو نصیب ہوگا۔ بلکہ دیکھنے والے تو یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ تحریک مکے کی گھاٹیوں ہی میں دفن ہو کر رہ جائے گی لیکن 15، 16 سال سے زیادہ مدت نہ گذری تھی کہ فتح مکہ کے موقع پر ٹھیک وہی کچھ پیش آ گیا جس سے کفار کو خبردار کیا گیا تھا۔

تنبیہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰیٰ نے اس سورت میں تفہیم اور ترغیب کا حق بھی پورے توازن کے ساتھ ادا فرمایا ہے۔ توحید اور آخرت کے عقیدے کی صحت پر مختصر دل نشین دلائل دیے ہیں، مشرکین کے عقائد پر تنقید کر کے بتایا ہے کہ وہ کیسی لغو باتوں پر ایمان لائے بیٹھے ہیں، ان گمراہیوں کے برے نتائج سے آگاہ کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ایمان و عمل صالح کے نتائج کس قدر شاندار ہیں۔ پھر اسی سلسلے میں پچھلی تاریخ کی مثالیں دی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰیٰ کا اپنے انبیاء کے ساتھ اور ان کی قوموں کے ساتھ کیا معاملہ رہا ہے۔ کس کس طرح اس نے اپنے وفادار بندوں کو نوازا ہے اور کس طرح ان کے جھٹلانے والوں کو سزا دی ہے۔

جو تاریخی قصے اس سورت میں بیان کیے گئے ہیں ان میں سب سے زیادہ سبق آموز حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیات طیبہ کا یہ اہم واقعہ ہے کہ وہ اللہ تعالٰیٰ کا ایک اشارہ پاتے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ اس میں صرف کفار قریش ہی کے لیے سبق نہ تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اپنے نسبی تعلق پر فخر کرتے پھرتے تھے، بلکہ ان مسلمانوں کے لیے بھی سبق تھا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے تھے۔ یہ واقعہ سنا کر انہیں بتا دیا گیا کہ اسلام کی حقیقت اور اس کی اصلی روح کیا ہے اور اسے اپنا دین بنا لینے کے بعد ایک مومن صادق کو کس طرح اللہ کی رضا پر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

سورت کی آخری آیات محض کفار کے لیے تنبیہ ہی نہ تھیں بلکہ ان اہل ایمان کے لیے بشارت بھی تھیں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تائید و حمایت میں انتہائی حوصلہ شکن حالات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ انہیں یہ آیات سنا کر خوشخبری دے دی گئی کہ آغازِ کار میں جن مصائب سے انہیں سابقہ پیش آ رہا ہے ان پر گھبرائیں نہیں، آخر کار غلبا انہی کو نصیب ہوگا، اور باطل کے وہ علمبردار جو اس وقت غالب نظر آ رہے ہیں، انہی کے ہاتھوں مغلوب و مفتوح ہو کر رہیں گے۔ چند ہی سال بعد واقعات نے بتا دیا کہ یہ محض خالی تسلی نہ تھی بلکہ ایک ہونے والا واقعہ تھا جس کی پیشگی خبر دے کر ان کے دل مضبوط کیے گئے۔

گذشتہ سورت:
یٰس
سورت 37 اگلی سورت:
ص
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس