سورج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سورج نظام شمسی کے مرکز میں واقع ستارہ ہے۔ زمین، دیگر سیارے، سیارچے اور دوسرے اجسام سورج ہی کے گرد گردش کرتے ہیں۔ سورج کی کمیت نظام شمسی کی کل کمیت کا تقریباً 99.86% ہے[1]۔ سورج کا زمین سے اوسط فاصلہ تقریباً 14,95,98,000 کلومیٹر ہے اور اس کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 8 منٹ 19 سیکنڈ لگتے ہیں۔ تاہم یہ فاصلہ سال بھر یکساں نہیں رہتا۔ 3 جنوری کو یہ فاصلہ سب سے کم تقریباً 14,71,00,000 کلومیٹر اور 4 جولائی کو سب سے زیادہ تقریباً 15,21,00,000 کلومیٹر ہوتا ہے۔ دھوپ کی شکل میں سورج سے آنے والی توانائی ضیائی تالیف کے ذریعے زمین پر تمام حیات کو خوراک فراہم کرتی ہے[2] اور زمین پر موسموں کی تشکیل کا باعث بنتی ہے۔

سورج کی سطح بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بنی ہے۔ اس میں ہائیڈروجن کا تناسب تقریباً 74% بلحاظ کمیت یا 92% بلحاظ حجم اور ہیلیم کا تناسب تقریباً %24 بلحاظ کمیت یا %7 بلحاظ حجم ہے[3]۔ اس کے علاوہ دوسرے عناصر جیسے لوہا، نکل، آکسیجن، سیلیکان، سلفر، میگنیشیم، کاربن، نیون، کیلشیم اور کرومیم معمولی مقدار میں موجود ہیں[3]۔

نجمی جماعت بندی میں سورج کا درجہ G2V ہے۔ G2 کا مطلب ہے کہ اس کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 5,780 کیلون (5,510 درجہ صد) ہے۔ سورج کا رنگ سفید ہے جو بالائی فضاء میں روشنی کے انتشار کے باعث زمین سے اکثر زردی مائل نظر آتا ہے۔ یہ روشنی کی کچھ طول موجوں کو منہا کرنے والا اثر ہے جس کے تحت روشنی میں سے چھوٹی طول موجیں، جن میں نیلی اور بنفشی روشنی شامل ہیں، نکل جاتی ہیں۔ باقی ماندہ طول موجیں انسانی آنکھ کو زردی مائل دکھائی دیتی ہیں۔ آسمان کا نیلا رنگ اسی الگ ہونے والی نیلی روشنی کے باعث ہے۔ سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت جب سورج آسمان پر نیچا ہوتا ہے، تو روشنی کو ہم تک پہنچنے کا لئے اور زیادہ ہوا سے گزرنا پڑتا ہے جس کے باعث یہ اثر اور زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے اور سورج ہمیں نارنجی اور کبھی سرخ تک نظر آتا ہے[4]۔

سورج کی طیف میں سادہ اور تائین شدہ دھاتوں کی لکیریں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اور ہائیڈروجن کی کمزور لکیریں بھی موجود ہیں۔ اس کی درجہ بندی میں V اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ستاروں کی اکثریت کی طرح سورج بھی ایک main sequence ستارہ ہے۔ یہ ستارے اپنی زیادہ تر توانائی ہائیڈروجن کے نویاتی ائتلاف سے پیدا کرتے ہیں جس میں ہیلیم کے نویے پیدا ہوتے ہیں۔ ہماری کہکشاں میں G2 جماعت کے تقریباً 10 کروڑ ستارے ہیں۔ سورج کو پہلے ایک چھوٹا اور غیر اہم ستارہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ سورج ہمارے کہکشاں جادہ شیر کے 85% ستاروں سے، جن میں بیشتر سرخ بونے ہیں، زیادہ روشن ہے[5][6]۔

سورج کہکشاں جادہ شیر کے مرکز کے گرد تقریباً 24,00026,000 نوری سال کے فاصلے پر گردش کرتا ہے۔ یہ Cygnus جھرمٹ کی سمت میں گردش کر رہا ہے اور 22.5–25.0 کروڑ سالوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ اس دورانیے کو ایک کہکشائی سال کہتے ہیں۔ اس کی دوری رفتار (orbital speed) تقریباً 220±20 کلومیٹر فی سیکنڈ خیال کی جاتی تھی لیکن ایک نئے اندازے کے مطابق 251 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے[7]۔ اس طرح سورج تقریباً ہر 1,190 سالوں میں ایک نوری سال یا ہر 7 دنوں میں ایک فلکیاتی اکائی (astronomical unit) کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ ہمارے موجودہ علم کے مطابق یہ پیمائشیں ہر ممکن حد تک درست ہیں لیکن مزید تحقیق کی بنیاد پر ان میں تبدیلیاں بھی آسکتی ہیں[8]۔ ہماری کہکشاں بھی cosmic microwave background radiation یا (CMB) کے مقابل 550 کلومیٹر فی سیکنڈ کی سمتار سے جھرمٹ Hydra کی سمت میں حرکت کر رہی ہے۔ اس کو ملا کر (CMB) کے مقابل سورج کی کل سمتار تقریباً 370 km/s جھرمٹ Crater یا Leo کی جانب ہے[9]

سورج ابھی جادہ شیر کے جس حصے سے گزر رہا ہے اس میں ہم سے قریب ترین 50 ستاروں میں، جو زمین سے 17 نوری سال (1.6E+14 کلومیٹر) کے فاصلے تک واقع ہیں، کمیت کے لحاظ سے اس کا نمبر چوتھا ہے[10]۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا کو سورج کی سطح پر غیر معمولی سکون یا ٹھہراؤ کا سامنا ہے یا آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیجیے کہ سورج سو رہا ہے۔

سائنسدانوں کے لیے یہ صورت حال انتہائی حیران کن ہے اور وہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ سورج پر آنے والے شمسی طوفانوں میں کمی کے دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کبھی بھی سورج پر شمسی طوفان آنا بند یا کم ہو جاتے ہیں دنیا سردی کی لپیٹ میں آ جاتی ہے۔

اس مرتبہ سورج کی سطح پر شمسی طوفانوں میں کمی کا زمین کی سطح یا ’گلوبل وارمنگ‘ پر کیا اثر ہو گا اس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی سائنس کی نامہ نگار ربیکا مورل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’شمالی روشنیاں‘ دنیا اور سورج کے درمیان انتہائی قریبی تعلق کی یادہانی کراتی رہتی ہیں۔

سورج کی شعائیں یا جنھیں ’سولر ونڈز‘ بھی کہا جاتا ہے جب زمین کے اردگرد کے ماحول سے ٹکراتی ہیں تو شمالی روشنایاں یا ’آرورا بوری ایلس‘ بنتا ہے۔

لیکن خدشہ ہے کہ جلد ہی یہ دلکش اور حیرت انگیز مناظر نظر آنا بند ہو جائیں گے۔

یہ سب کچھ سورج کی سطح پر آنے والے تغیرات کی وجہ سے ہو رہا ہے اور اس کی سطح پر شمسی طوفان تیزی سے تھم رہے ہیں۔

ردر فورڈ اپلیٹن لیباٹری کے پروفیسر رچرڈ ہیرسن کا کہنا ہے کہ آپ جو کچھ بھی کر لیں ’سولر پیکس‘ میں کمی واقع ہو رہی ہے اور سورج کی سطح پر بلند ہونے والے شعلوں سے یہ بات بالکل واضح ہے۔

شمالی روشنیوں کا منظر بڑا دلکش ہوتا ہے

یونیورسٹی کالج آف لندن کی ڈاکٹر لوسی گرین نے اس صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شمسی طوفانوں کے دورانیوں میں کمی ہو رہی ہے اور اس کا مطلب ہے سورج کی سطح پر جو ارتعاش ہے وہ بھی کم ہو رہا۔

سورج پر ہونے والی حرکت یا ایک مستقل طوفان کی سی کیفیت کی بہت مختلف نوعیتیں ہوتی ہیں۔ سورج پر پائے جانے والے دھبے بہت زیادہ مقناطیسیت کے حامل ہوتے ہیں جو زمین سے دیکھیں تو سیاہ دھبوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔

سورج کی شعائیں یا بنفشی شعاعیں زمین کی طرف منعکس ہوتی ہیں اور سورج کی سطح سے اٹھنے والے شعلے اربوں ٹن ’چارج پارٹیکلز‘ یا برقی ذرات خلاء میں بکھیر دیتے ہیں۔

سورج پر ہونے والا یہ ارتعاش ہر گیارہ برس میں کم اور زیادہ ہوتا ہے۔ یہ سورج پر ارتعاش کی انتہا یا عروج کا زمانہ ہے جسے سائنسی اصطلاح میں ’سولر میکسیمم‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس وقت سورج پر غیر معمولی ٹھراؤ ہے اور وہ سرگرمی نہیں ہے جو عام طور پر ہونی چاہیے تھی۔

پروفیسر رچرڈ ہیرسن نے جو تیس سال سے سولر سائنسدان ہیں بتایا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں ایسی صورت حال یا سورج کی سطح پر ٹھہراؤ نہیں دیکھا۔ اگر آپ ماضی پر نظر ڈالیں تو سو سال قبل اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان سے پہلی کی دو چار نسلوں نے اس طرح کی صورت حال نہیں دیکھی ہو گی۔

سورج کی سطح پر دھبوں کی تعداد سائنسدانوں کی توقعات سے انتہائی کم ہے اور سورج کی سطح پر بلند ہونے والے شعلے متوقع تعداد سے آدھے ہیں۔

پروفیسر رچرڈ کا کہنا ہے کہ سترہویں صدی میں کئی دہائیوں تک سورج کی سطح پر پیدا ہونے والے دھبے غائب ہوگئے تھے جس کی وجہ سے کرۂ شمالی میں شدید سردی ہوگئی تھی اور لندن کادریائے ٹیمز منجمد ہو گیا تھا۔

ربیکا مورل کے مطابق سترہیوں کے اس دور کی پیٹنگز سے پتہ چلتا ہے کہ منجمد دریائے ٹیمز پر ’سرمائی بازار‘ لگا کرتے ہیں۔ سنہ سولہ سو چوراسی کے معروف ’گریٹ فروسٹ‘ میں دریا دو ماہ تک مسلسل منجمد رہا تھا اور اس پر ایک فٹ دبیز برف کی تہہ جمی رہی تھی۔

یورپ کی تاریخ کے اس سرد ترین دور کو ’مونڈر منیمیم‘ کا نام اس سائنسدان کے نام پر دیا گیا تھا جس سے سورج پر ہونے والی سرگرمی میں کمی کا مشاہدہ کیا تھا۔

مونڈر منیمیم کے دوران صرف دریائے ٹیمز ہی منجمد نہیں ہو گیا تھا بلکہ بحیرہ بالٹک بھی جم گیا تھا۔ شمالی یورپ میں فصلیں تباہ ہونے لگی تھی اور قحط آنا شروع ہو گئے تھے۔

سورج پر سرگرمی میں کمی کا مطلب ہے آنے والی کئی دہائیوں میں زمین انتہائی سرد ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر لوسی گرین نے بتایا کہ سنہ 1609 کے بعد سے مستقل سورج کے دھبوں یا اس پر اٹھنے والے شعلوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے اور دنیا کے پاس چار سو سال کے مشاہدات کا ذخیرہ موجود ہے۔

برف کی تہہ میں دفن ذرات سے ماضی کے کئی دریچے کھلے ہیں

انھوں نے مزید کہا کہ سورج کی اس وقت کیفیت اُس ہی قسم کی ہے جو مونڈرم مینیمم آنے سے پہلے تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ سورج پر سرگرمی آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر لوسی گرین اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتیں کہ اس صورت حال کا زمین کے موسم پر کس قسم کا اثر پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔ انھوں نے کہا سورج سے آنے والے شعائیں جن میں مختلف قسم کی شعائیں ہوتی ہیں ان کا زمین کے اردگر کے ماحول پر کیا اثر پڑتا ہے سائنس ابھی اس کا پوری طرح ادراک نہیں کرسکی ہے۔

کچھ سائنسدان تحقیق کی جستجو میں کئی ہزار سال پیچھے چلے گئے ہیں اور انھوں نے برف کی تہہ میں دبے ایسے ذرات کا مشاہدہ کیا ہے جو کبھی زمین کی فضا میں پائے جاتے تھے۔ ان ذرات سے سورج پر ہونے والی سرگرمی کے اتار چڑہاو کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور سائنسدان مائک لویکورتھ جنھوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ دس ہزار سال میں پہلی مرتبہ سورج کی سرگرمی میں اتنی تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ برف کی تہہ اور سورج پر سرگرمی میں واقع ہونے والی کمی کا مشاہدہ کیا جائے تو بیس سے تیس فیصد تک اس بات کا امکان موجود ہے کہ آئندہ چالیس برس میں دنیا مونڈر مینیمم کے حالات کا شکار ہو جائے گی۔

سورج پر سرگرمی میں کمی کا مطلب ہے کہ سورج سے دنیا پر آنے والی بنفشی شعائووں میں کمی اور اس وجہ سے ’جیٹ سٹریم‘ متاثر ہو سکتی ہے۔

مائک لویکورتھ کا کہنا ہے کہ جیٹ اسٹریم میں تبدیلی سے شمالی یورپ کو آنے والی گرم ہوائیں بند ہو سکتی ہیں۔ http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2014/01/140117_solar_lull_fz.shtml?print=1


روابط[ترمیم]

  1. ^ Woolfson, M. (2000). "The origin and evolution of the solar system". Astronomy & Geophysics 41: 1.12. doi:10.1046/j.1468-4004.2000.00012.x. 
  2. ^ Simon, A. (2001). The real science behind the X-files : microbes, meteorites, and mutants. Simon & Schuster. pp. 25–27. ISBN 0684856182. http://books.google.com/books?id=1gXImRmz7u8C&pg=PA26&dq=bacteria+that+live+with+out+the+sun&lr=&ei=HiJ4SYWlC4LeyASZ-Y2xBg#PPA25,M1. 
  3. ^ 3.0 3.1 Basu, S.; Antia, H.M. (2008). "Helioseismology and Solar Abundances". Physics Reports 457 (5–6): 217. doi:10.1016/j.physrep.2007.12.002. arΧiv:0711.4590. 
  4. ^ "Why is the sky blue?". Science Made Simple. 1997. http://www.sciencemadesimple.com/sky_blue.html. Retrieved 2008-09-24. 
  5. ^ Than, K. (2006). "Astronomers Had it Wrong: Most Stars are Single". Space.com. http://www.space.com/scienceastronomy/060130_mm_single_stars.html. Retrieved 2007-08-01. 
  6. ^ Lada, C.J. (2006). "Stellar multiplicity and the initial mass function: Most stars are single". Astrophysical Journal 640 (1): L63–L66. doi:10.1086/503158. Bibcode2006ApJ...640L..63L. 
  7. ^ Croswell, K. (2008). "Milky Way keeps tight grip on its neighbor". New Scientist (2669): 8. http://space.newscientist.com/article/mg19926693.900-milky-way-keeps-tight-grip-on-its-neighbour.html. 
  8. ^ Kerr, F.J.; Lynden-Bell, D. (1986). "Review of galactic constants". Monthly Notices of the Royal Astronomical Society 221: 1023–1038. Bibcode1986MNRAS.221.1023K. http://articles.adsabs.harvard.edu/cgi-bin/nph-iarticle_query?1986MNRAS.221.1023K&data_type=PDF_HIGH&type=PRINTER&filetype=.pdf. 
  9. ^ Kogut, A.; et al. (1993). "Dipole Anisotropy in the COBE Differential Microwave Radiometers First-Year Sky Maps". Astrophysical Journal 419: 1. doi:10.1086/173453. Bibcode1993ApJ...419....1K. 
  10. ^ Adams, F.; Laughlin, G.; Graves, G.J. M. (2004). "Red Dwarfs and the End of the Main Sequence". RevMexAA 22: 46–49. 

حوالہ جات[ترمیم]

مزید پڑھیں[ترمیم]

  • Thompson, M.J. (2004). "Solar interior: Helioseismology and the Sun's interior". Astronomy and Geophysics 45 (4): 21–25. 

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:The Sun سانچہ:Sun spacecraft سانچہ:Solar System