نوری سال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔ اسے انگریزی میں light-year کہا جاتا ہے جس کے مخفف ‏ly‏ کو اس کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ‏مختلف پیمائشی نظاموں کی اکائیوں میں یہ فاصلہ ذیل میں ہے:‏

  • 15­10 × 9.4607304725808 میٹر (قریبا 9.461 پیٹا میٹر)
  • 12­10 × 5.878625373183 + 1397­/­849 (قریبا 60 کھرب) میل
  • 63241.077 فلکیاتی اکائیات

اس فاصلے کی مزید واضح تعریف اس طرح ہے: وہ فاصلہ جو ایک نوریہ (فوٹان ‏photon‏) ‏آزاد خلا میں کسی بھی ثقلی یا مقناطیسی میدان سے لامتناہی فاصلہ پرایک جولیئن (86400 ‏دقیقوں کے 365.25 دن) میں طے کرے۔ نوری سال کو اکثر ستاروں سے زمین کے فاصلے کی پیمائش کیلیے استعمال کیا جاتا ہے: ‏یعنے نوری سال وقت کی اکائی نہیں ہے۔ فلکیات میں فاصلوں کی پیمائش کیلیے پارسیک ‏‏(‏parsec‏) کی اکائی استعمال ہوتی ہے۔ ایک پارسیک تقریبا 3.26 نوری سال کے برابر ہے۔ ‏علمی مقاصد کیلیے پارسیک کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ مشاہداتی مواد (‏data‏) سے ‏باہمی تقابل کی مدد سے اس کو آسانی اخذ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم علمی حلقوں سے باہر عام لوگ ‏نوری سال کو زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ نوری سال سے منسوب دوسری اکائیاں نوری ثانیہ اور نوری دقیقہ ہیں جو کہ وہ فاصلہ ہے جو ‏روشنی خلا میں بالترتیب ایک ثانیہ اور ایک دقیقہ میں طے کرتی ہے۔ ایک نوری ثانیہ ‏‏17,987,547,480 میٹر کے برابر ہے۔ چونکہ روشنی ایک دقیقہ میں 299,792,458 میٹر ‏طے کرتی ہے اس لیے ایک نوری دقیقہ میں 299,792,458 میٹر ہیں۔‏

متفرق حقائق[ترمیم]

  • چاند کی سطح سے منعکس ہونے والی سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے میں 1.3 دقیقے لیتی ہے جو 3-­10 × 4.04 نوری سال کے برابر ہے۔
  • سورج سے زمین تک کا فاصلہ (جو 5-­10 × 1.58 نوری سال ہے) طے کرنے میں روشنی 8.3 دقیقے لیتی ہے۔
  • خلائی مہم وائجر اول، ستمبر 2004ء میں زمین سے 13 نوری گھنٹے (صرف 3-­10 × 1.5) کے فاصلہ پر تھا۔ یہ فاصلہ طے کرنے میں اسے 27 سال لگے۔
  • سورج کے زمین سے دوسرا قریب ترین ستارہ پراکسیما سینچوری ہے جو 4.22 نوری سال دور ہے۔
  • ہماری کہکشاں، جادۂ شیر، کا مرکز 26,000 نوری سال کے فاصلہ پر ہے۔ یہ کہکشاں قریبا 100,000 نوری سال چوڑی ہے۔
  • ٹرائی اینگلم کہکشاں 2,600,000 (M33) نوری سال سے کچھ‍ ہی کم فاصلہ پر ہے اور ننگی آنکھ‍ نظر آنے والا بعید ترین فلکی جسم ہے۔
  • عظیم ترین کہکشاں جھرمٹ، سنبلہ جھرمٹ، قریبا 60,000,000 نوری سال کے فاصلہ پر ہے۔
  • کائنات کے ذراتی افق (قابل مشاہدہ حصہ) کا رداس 46 ارب نوری سال ہے لیکن قابل مشاہدہ کائنات کے کنارے سے مرئی روشنی صرف 13.7 ارب سال (کائنات کی عمر) پہلے خارج ہوئی تھی۔ مقداروں فرق اس وجہ سے ہے کہ دور کے اجسام کائناتی پھیلاؤ کی وجہ سے مزید دور ہٹ رہے ہیں۔