نوریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نوریہ (جمع : نورات)
Photon waves.png
نورات (photons) کی موجی فطرت کا ایک تصوراتی خاکہ
ترکیب: بنیادی ذرہ
خاندان: بوسون
گروہ: مقیاسی بوسون
تفاعل: برقناطیسی
تفکیر: آئنسٹائن (1905 تا 17)
علامت: \gamma\ یا \ h\nu
کمیت: 0
دورحیات: مستحکم
برقی بار: 0
غزل: 1
اصطلاحات: نور : photo
یہ (لاحقہ) : on
نوریہ : photon
نورات : photons

نوریہ ؛ کو انگریزی میں photon کہا جاتا ہے اور جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ نور کے ذرات ہوتے ہیں یعنی ایسے بنیادی ذرات کہ جن سے ملکر روشنی وجود میں آتی ہے۔ طبیعیات میں اسکی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ

ایک نوریہ کی نہ تبدیل ہونے والی یعنی یکساں کمیت (invariant mass) ، صفر ہوتی ہے اور یہ ایک مستقل رفتار c سے سفر طے کرتا ہے جو کہ ظاہر ہے کہ نور یا روشنی کی رفتار کہلاتی ہے۔ اگرچہ ایسا ہوسکتا ہے کہ کسی مادے کی موجودگی کے باعث اسکی رفتار میں کمی واقع ہوجاۓ (یعنی مختلف مادوں میں اسکی حرکت کی رفتار مختلف ہوسکتی ہے) اسکے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی مادے سے گذرتے ہوئے یہ اپنی تمام کی تمام توانائی منتقل کرتے ہوئے اپنی رفتار بالکل کھو بیٹھے اور اس مادے میں جذب ہوجاۓ ، ایسا کرتے وقت منتقل ہونے والی توانائی اس نوریہ کی اپنی توانائی اور اسکے معیار حرکت (momentum) کے تناسب سے ہوتی ہے۔ دیگر تمام quanta کی طرح ، نوریہ میں بھی مــوجـی اور ذراتی دونوں اقسام کے خواص پائے جاتے ہیں یعنی یہ ایک طرح سے موجی ذراتی ثنویت یا wave-particle duality کا حامل ذرہ ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

انگریزی میں photon کا لفظ دو الفاظ کا مرکب ہے
1- photo = نور ، روشنی
2- on = اکائی ، بنیادی حصہ
اردو میں جہاں بھی on کا لفظ اس مفہوم میں آتا ہے وہاں پر اسکا ترجمہ ---- یہ ---- کے لاحقہ کے ساتھ کیا جاتا ہے ، یعنی نور + یہ = نوریہ یا photo + on = photon ۔
on کا لاحقہ اس طرح استعمال ہونے کی چند مثالیں یہ ہیں
1- electr-on = برقیہ
2- prot-on = اولیہ
3- neutr-on = تعدیلہ
4- phot-on = نوریہ

جدید تصور[ترمیم]

نوریہ کے بارے میں جدید تصور 1905ء تا 1917ء کے دوران نمودار ہوا اور اسکا زیادہ تر سہرا آئن سٹائن کی تحقیق کے سر جاتا ہے جس نے عام اور روایتی طبیعیات سے وضاحت نہ ہوسکنے والے موجی نمونے کو اپنے تجرباتی مشاہدات کے ذریعہ واضح کیا۔ جدید نظریہ کے مطابق نوریہ دراصل روشنی کی توانائی کے موجوں کی تعدد (frequency) پر منحصر ہونے کا ایک بیان کہا جاسکتا ہے، اور اسکی مدد سے یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ مادہ اور اشعاع یا توانائی آپس میں ایک قسم کا حرحرکیاتی توازن (thermodynamic equilibrium) رکھتے ہیں۔

آئن سٹائن کے برعکس دیگر طبیعیات دانوں نے نوریہ کی وضاحت کے لیے طبیعیات کے روایتی تو نہیں مگر نیم روایتی نظریات استعمال کرنے کی کوشش کی اور ان نظریات میں روشنی کو تو میکس ویل مساوات کی مدد سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی مگر روشنی خارج کرنے والا جسم یا مادے کو مقداریت (quantize) رکھنے والا کہا گیا۔ گو کہ ان نیم روایتی نمونوں کے ذریعے مقداریہ آلاتیات (quantum mechanics) کی ترقی و پیشرفت میں بہت مدد بھی ملی۔

بعد کے تجربات سے آئن سٹائن کی یہ بات واضح اور ثابت ہوتی چلی گئی کہ روشنی دراصل بذات خود ہی مقداریت کی خصوصیت رکھتی ہے اور روشنی کی اسی مقداریت کی اکائیوں یعنی مقدارہ یا quanta کو نوریہ کہا گیا۔

نوریہ کے نظریے نے بہت سے نئے تجربات اور نظریات کی راہ ہموار کی جن میں لیزر ، بوز-آئنسٹائن تکثیف ، میدانی نظریۂ مقداریہ اور مقداریہ آلاتیات کا نظریۂ تفسیر امکانی شامل ہیں۔ ذراتی طبیعیات کے جدید نظریۂ معیاری نمونہ کے مطابق نورات تمام اقسام کے برقی اور مقناطیسی میدانوں کی پیدائش کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور بذات خود اپنی پیدائش کے لیے انکو ایسے طبیعیاتی قوانین کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ زمان و مکاں (spacetime) کے ہر ہر مقام پر مکمل تناظر کے حامل ہوں۔ نورات کے اندرونی خواص --- مثلا؛ بار ، کمیت اور غزل --- اسی تناظر پر منحصر ہیں جسکو مقیاسی تناظر بھی کہا جاتا ہے۔

نورات کے طرزیات میں کئی اہم اطلاقات بہت نمایاں حیثیت رکھتے ہیں مثلا؛ ضیائی کیمیاء ، کثیر الدقیق خوردبین (high-resolution microscopy) اور سالمات کے درمیان پیمائش فاصلہ وغیرہ۔ حال ہی میں مقداریہ کمپیوٹروں ، بصری ابلاغیات اور مقداری صفریت کے لیے بھی نورات پر مطالعہ اور تحقیق کی جارہی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]