اثر کومپٹن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

طبیعیات (physics) میں اثر کومپٹن (Compton effect یا Compton scattering) سے مراد کسی فوٹون کا کسی الیکٹرون سے ٹکرا کر اپنی کچھ توانائی الیکٹرون کو منتقل کر دینا ہے۔ جبایکس شعاع یا گاما شعاع کا فوٹون کسی الیکٹرون سے ٹکراتا ہے تو اپنی کچھ توانائ کھو دیتا ہے جبکہ الیکٹرون اتنی ہی توانائی حاصل کر لیتا ہے۔ یعنی اس ٹکر کے نتیجے میں ایکس ریز یا گاما ریز کا تعدد (frequency) کم ہو جاتا ہے۔ اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس ٹکر کے نتیجے میں ایکس ریز یا گاما ریز کا طول موج (wave length) بڑھ جاتا ہے کیونکہ تعدد اور طول موج ایک دوسرے کے بالعکس متناسب ہوتے ہیں۔ ایکس ریز یا گاما ریز کے فوٹون کی توانائ میں کمی کے باعث یہ ٹکر ایک inelastic scattering ہوتی ہے۔


گریفائیٹ میں کچھ الیکٹرون نہایت کمزور گرفت (bond) سے اپنے مرکزے (nucleus) سے بندھے ہوتے ہیں یعنی تقریباً آزاد ہوتے ہیں۔ آرتھر کومپٹن کو یہ معلوم تھا کہ جب ایکس ریز گریفائیٹ سے ٹکرا کر منعکس ہوتی ہیں تو انکی فریکوئینسی (اور توانائی) کچھ کم ہو جاتی ہے۔ یہ انعکاس نور کے قوانین کے خلاف تھا۔

اگر روشنی اور دیگر برقناطیسی امواج کو صرف ایک موج ( لہر) مان لیا جائے تو اس امر کی سایئنسی وضاحت ممکن نہیں ہے۔ 1923 میں آرتھر ہولی کومپٹن (Arthur Holly Compton) نے پلانک کے مفروضے (Plank’s quantum theory) کے تحت روشنی کو لہر کی بجائے ذرات (photons) سمجھتے ہوئے اس امر کی کامیاب سایئنسی وضاحت کی اور 1927 میں طبیعیات کا نوبل انعام حاصل کیا۔

ایک فوٹون جس کا طول موج \lambda \, ہے بائیں طرف سے آ کر ایک ساکت الیکٹران سے ٹکراتا ہے اور دوسری طول موج \lambda ' \, کے ساتھ زاویہ \theta \, پر مڑ جاتا ہے. یہ بالکل ایسا ہے جیسے کہ فرش پر لڑھکتی ہوئی دو گیندیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور توانائی اور مومنٹم کا تبادلہ ہوتا ہے۔
  • جب نظر آنے والی روشنی کے فوٹون جیسا ایک کم توانائ کا فوٹون کسی مادے سے ٹکراتا ہے تو اثر ضیائ برقphotoelectric effect کا عمل نمایاں ہوتا ہے۔ اس عمل میں فوٹون مکمل طور پر غائب ہو جاتا ہے۔
  • جب اس سے زیادہ توانائ کا فوٹون کسی مادے سے ٹکراتا ہے تو اثر کومپٹن عمل میں آتا ہے جس میں تصادم کے بعد فوٹون کی سمت بدل جاتی ہے اور اسکی توانائ کم ہونے کی وجہ سے اسکی فریکوئنسی کم ہو جاتی ہے یعنی اسکا طول موج بڑھ جاتا ہے۔ تصادم کے نتیجے میں الیکٹران بھی اپنی جگہ سے ہل جاتا ہے اور ایک سمت میں حرکت شروع کر دیتا ہے یعنی اب اس میں حرکی توانائ آ جاتی ہے۔الیکٹرون کی یہ حاصل کردہ توانائ فوٹون کی کم شدہ توانائ کے برابر ہوتی ہے۔ تصادم کے بعد فوٹون کا زاویہ \theta \, جتنا زیادہ بڑا ہو گا اتنی ہی زیادہ اسکی فریکوئنسی میں کمی ہو گی۔ تصادم سے پہلے اور بعد فوٹون اور الیکٹرون کی کل توانائ چارج اور مومنٹم برقرار رہتا ہے یعنی یہ تصادم لچکدار ہوتا ہے۔
  • جب بہت زیادہ توانائ کا فوٹون کسی مادے سے ٹکراتا ہے تو جوڑے کی پیدائش pair production کا عمل وجود میں آتا ہے جس میں فوٹون فنا ہو جاتا ہے اور ایک الیکٹرون اور پوزیٹرون کا جوڑا وجود میں آ تا ہے۔ اتنی زیادہ توانائ یعنی 1.023MeV صرف گاما ریز کے فوٹون میں ہی ہوتی ہے۔
جب ایلومینیم پر مختلف توانائ کی گاما ریز (gamma rays) ڈالی جاتی ہیں تو کم توانائ کی شعاعوں سے ضیا برقی اثر نمایاں ہوتا ہے اور بہت زیادہ توانائ کی شعاوں سے جوڑے کی پیدائش کا عمل۔ درمیانی توانائ کی شعاعوں سے اثر کامپٹن زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

اثر کومپٹن Compton effect اور اثر ضیائ برق Photoelectric effect نے طبیعیات دانوں کو یہ ثبوت فراہم کیا کہ روشنی کی نوعیت ذراتی quantum ہوتی ہے۔


بالعکس کومپٹن اثر[ترمیم]

اگر فوٹون کسی ایسے الیکٹران سے ٹکرائے جو ساکت ہونے کی بجائے پہلے ہی سے نہایت تیزی سے حرکت کر رہا ہو تو توانائی کی منتقلی فوٹون سے الیکٹران کی بجائے الیکٹران سے فوٹون کی جانب ہوتی ہے اور فوٹون کی فریکوئنسی بڑھ جاتی ہے۔ اس عمل کو Inverse Compton scattering کہتے ہیں۔
سمجھا جاتا ہے کہ بلیک ہول سے آنے والی ایکس ریز کا کچھ حصہ (0.2-10 keV) اسی طرح پیدا ہوتا ہے۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]