کائنات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
طبیعی علم الکائنات
WMAP 2010.png
کائنات · انفجارِ عظیم
[[عمر

کائنات|عمرِ کائنات]]
Timeline of the Big Bang
Ultimate fate of the universe

لفظی مفہوم : کائنات کی تعریف سادہ سے الفاظ میں تو یوں کی جاسکتی ہے کہ ؛ وہ سب کچھ جو موجود ہے وہی کائنات ہے۔ اور بنیادی طور پر دو ہی چیزیں ہیں جو موجود کے دائرے میں آتی ہیں 1- مادہ اور 2- توانائی ، لہذا کائنات کو یوں بھی کہـ سکتے ہیں کہ ؛ تمام مادے اور توانائی کو ملا کر مشترکہ طور پر کائنات کہا جاتا ہے۔ گو عموما کائنات سے مراد اجرام فلکی اور انکے مابین موجود فضائیں اور انکے مربوط نظام کی لی جاتی ہے جو کہ قدرت کی طرف سے بناۓ گۓ ہیں مگر درحقیقت کائنات میں وہ سب کچھ ہی شامل ہے جو کہ موجود ہے۔ بعض اوقات اس لفظ کا استعمال انسانی حیات اور اس سے متعلقہ چیزوں کیلیۓ بھی کیا جاتا ہے اور یہاں بھی اس سے مراد ہر موجود شے کی ہوتی ہے ، یہاں تک کے انسانی تجربات اور خود انسان بھی اس دائرے میں آجاتے ہیں۔

علم الکائناتی تعریف کے مطابق کائنات کی تعریف یوں بھی کی جاتی ہے کہ : کائنات؛ ذرات (particles) اور توانائی کی تمام موجودہ اقسام اور زمان و مکاں (space time) کا وہ مجموعہ ہے کہ جس میں تمام عوامل و واقعات رونما ہوتے ہیں۔ کائنات کے قابل مشاہد حصوں کے مطالعے سے حاصل ہونے والے شواہد کی مدد سے طبیعیات داں اس کل زمان و مکاں اور اس میں موجود مادے اور توانائی اور اس میں رونما واقعات کے کل مجموعے کو ایک واحد نظام کے تحت تصور کرتے ہوۓ اسکی تشریح کیلیۓ ریاضیاتی مثیل (mathematical model) کو استعمال کرتے ہیں۔

ہمہ کائناتی نظریہ[ترمیم]

Depiction of a متعدد کائناتیں of seven "bubble" universes, which are separate spacetime continua, each having different physical laws, physical constants, and perhaps even different numbers of dimensions or topologies.

چند نظریات ایسے بھی ہیں جو یہ انکشاف کرتے ہیں کہ ہماری کائنات صرف ایک کائنات نہیں ہے بلکہ سات کائناتوں کا ایک دستہ ہے جس کو ہمہ کائنات یا کثیر کائنات کہا گیا۔ اس دستہ (سیٹ) میں ہر کائنات ایک بلبہ (آبگینہ) کی طرح ہے، اور ہر بلبہ ایک اپنی ہئیت اور نوعیت رکھتا ہے، اور ایک دوسرے سے جداگانہ طور پر وجود رکھتا ہے۔ یہ نطریہ موجودہ نظریہ سے مختلف اور چلینج کرنے والا ہے .[1][2] [3]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام EllisKS03 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  2. ^ Munitz MK (1959). "One Universe or Many?". Journal of the History of Ideas 12 (2): 231–255. doi:10.2307/2707516. 
  3. ^ Misner, Thorne and Wheeler, p. 753.