ارض مرکزی نظریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پُرتگالی تکوین نِگار بارتولومیئو ویلئو کی 1568ء میں نقش کردہ ایک تصویر جس میں بطلیموسی نظام اور ارض مرکزیت کی عکاسی کی گئی ہے۔

فلکیات میں، ارض مرکزی نظریہ یا ارض مرکزیت (انگریزی: geocentric model) ایک ایسا نظریہ ہے جس کے مُطابق زمین کا سیارہ کائنات کے مرکز پر مقرر ہوتا ہے اور تمام اجرامِ فلکی اِسکے گِرد گردش کرتے ہیں۔ چونکہ اِس نظریے کی بُنیاد بطلیموس نے ڈالی تھی، لہٰذا اِس کو بطلیموسی نظام بھی کہا جاتا ہے۔

قدیم یونان[ترمیم]

یونانی فلکیات اور فلسفے میں ارض مرکزیت کا دخل جلد ہی ہو گیا تھا اور اِسکا ذِکر ہمیں قبل سقراط فلسفے میں ملتا ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں اناکسی میندر نے کائنات کا کُچھ یوں تصور پیش کیا کہ زمین کی شکل کا موازنہ ایک اُسطوانے سے کر ڈالا۔ اِس نظریے کے مُطابق اُسطوانہ نما یہ زمین ایک بُلند اور مرکزی مقام پر مقرر ہے اور اِس کے گرد غیر مرئی پہیے چکر کاٹ رہے ہیں اور اِن پہیوں میں دیگر سوراخ ہیں۔ چناچہ پہیوں کے اِن سوراخوں کے ذریعہ انسان ایک چھپی آگ کو دیکھ سکتا ہے (یہاں اِس مِثالی منظر نامے میں زمین سے دکھنے والی تمام روشنیوں، مثلاً سورج، چاند، ستاروں اور سیاروں، کیلئے ایک ایک سوراخ متعین تھا)۔ ساتھ ہی ساتھ، ایک فیثاغورثی سوچ بھی مغربی فلسفے میں داخل ہوتی ہے جس کے مطابق زمین کی شکل کا موازنہ ایک کرّہ نُما شے سے کیا جانے لگا۔ اِس بات کا اندازہ، فیثاغورث کے اِن شاگردوں نے، گرہنوں کے معائنوں سے لگایا اور پُرانی سوچ کے برعکس زمین کو مرکز سے ہٹا کر ایک اندیکھی آگ کے گِرد گردِش کرتے بتایا۔ بعد از، چوتھی صدی قبل مسیح میں شائستہ یونانی ماہرین نے اِن دونوں نظریات کو ملا کر ایک مُکمل نظریہ پیش کیا جہاں ٹھیک اعتبار سے زمین تو کرّہ کی مانند گول بتائی ہی گئی تاہم اِسے کائنات کے مرکز پر پھر سے مقرر بھی کر دیا گیا۔

چوتھی صدی قبل مسیح کے یونان میں دو رسوخ دار فلسفی، افلاطون اور اِسکے شاگرد ارسطو، نے ارض مرکزیت پر مبنی دیگر اوراق پیش کیئے۔ افلاطون کے اِن اوراق کے مطابق، زمین کرّہ کی مانند گول تھی اور کائنات کے مرکز پر ساکِن بھی تھی جبکہ ستارے اور سیارے اِسکے گِرد دائروں میں گردِش کرتے ہوئے بتائے گئے۔ اِن دائروں کو ایک کے بعد ایک کُچھ اس طرح سے رکھا گیا کہ ہر دائرے کے باہر ایک اور دائرہ بتایا گیا اور ان کی ترتیب میں سب سے پہلا دائرہ چاند کا تھا، پھر سورج، پھر زُہرہ، پھر عطارد، پھر مَریخ، پھر مُشتری، پھر زُحل اور اخیر میں کواکبِ ثابت۔

بطلیموس کا نظریہ[ترمیم]

قدیم یونان میں نظریۂ ارض مرکزیت کا قیام ارسطو نے ڈالا لیکن یہ ایک معیاری نظریہ یا فلسفہ نہ بن سکا۔ دوسری صدی عیسوی میں ہیلینی فلکیاتدان کلوڈیئس بطلیموس نے اپنے طور پر ارض مرکزی نظریے کی بُنیاد ڈالی — اِسے ہم آج بطلیموسی نظام کے نام سے جانتے ہیں۔ فلکیات سے متعلق بطلیموس کا مرکزی کام اِنکی لکھی کتاب المجسطی میں درج ہے۔ اِس کتاب میں قدیم یونان، ہیلینیہ اور سلطنت بابل کے فلکیاتدان کا صدیوں پر مبنی کام بھی شامل تھا۔ مزید ہزار سال تک بھی اِس کتاب میں درج نظریات کو یوروپی اور اسلامی فلکیاتدانوں میں پذیرائی ملتی رہی۔ بطلیموس کا یہ نظام محض ارض مرکزیت تک ہی محدود نہ تھا بلکہ اِس میں ستاروی و سیاروی مداروں کی پیمائِش اور پڑتال کا بھی ذکر ملتا ہے۔

بطلیموسی نظام[ترمیم]

بطلیموس کے مطابق، زمین کے گِرد گردِش کرنے والے اجرام کی ترتیب مندرجہ ذیل بیان کی گئی ہے:

ارض مرکزیت اور اسلامی فلکیات[ترمیم]

مخالف نظریے[ترمیم]

کوپرنیکس کا نظریہ[ترمیم]

ثقالت[ترمیم]

ارض مرکزیت اور مختلف مذاہب میں اسکی استقامت[ترمیم]

رومن کیتھولک نقطہ نظر[ترمیم]

راسخ الاعتقاد یہودی نقطہ نظر[ترمیم]

اسلامی نقطہ نظر[ترمیم]