ارسطو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ارسطو

ارسطو یونان کا ممتاز فلسفی، مفکر اور ماہر منطق تھا، جس نے افلاطون جیسے استاد کی صحبت پائی اور سکندر اعظم جیسے شاگرد سے دنیا کو متعارف کروایا۔

حیات[ترمیم]

384 قبل مسیح میں مقدونیہ کے علاقے استاگرہ میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ شاہی دربار میں طبیب تھا۔ ارسطو نے ابتدائی (طب، حکمت اور حیاتیات کی) تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ وہ بچپن ہی میں اپنی والدہ کے سائے سے محروم ہوگیا۔ دس برس کا ہوا تو باپ کا بھی انتقال ہوگیا۔ 18 سال کی عمر میں وہ ایتھنز چلا آیا، جو اس وقت مرکزِ علم و حکمت تھا۔ یہاں وہ 37 سال کی عمر تک افلاطون کے مکتب سے وابستہ رہا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اسے اپنے استاد افلاطون کے خیالات میں تضاد اور طریق تدریس میں کجی نظر آئی جسے اس نے اپنی تحریروں میں موضوع بنایا ہے۔ 53 سال کی عمر میں ارسطو نے اپنے مدینہ الحکمت کی بنیاد ڈالی جہاں اس نے نظری و کلاسیکی طریقہ علم کے بجائے عملی اور عقلی مکتب فکر کو فروغ دیا۔اخیر عمر میں ارسطو کے اسکے شاگرد سکندر اعظم کے ساتھ اختلافات، اور پھر اسکی موت کے بعد سورشوں نے اسے یونان بدر ہونے پر مجبور کردیا۔ اور یوں ارسطو کا خالکس میں7 مارچ 322 قبل مسیح میں انتقال ہوا۔

علمی مساعی[ترمیم]

ارسطو (دائیں) اور افلاطون (بائیں)

فلسفہ کے علاوہ جو چیز ارسطو کو سابق فلاسفہ سے ممتاز کرتی ہے وہ اسکا عملی طبیعیات، ہیئت اور حیاتیات میں ملکہ تھا۔ وہ پہلا عالم تھا جس نے علمی اصطلاحات وضع کیں۔ منطق کو باقاعدہ علم کا درجہ دیا۔ اور سیاست و معاشرت کے لئے باضابطہ اصول ترتیب دیے۔ اسکی قائم کردہ اکیڈمی عرصہ دراز تک مرکز علم و فن رہی۔

بنیادی نظریات[ترمیم]

  • خدا ایک نادیدہ مقناطیسی قوت ہے جو ہر شے کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ حرکت دراصل اسی کشش کا نتیجہ ہے جو زندگی کا موجب ہے۔
  • خدا بے نیاز ہے۔ وہ اپنی نمود و نمائش سے مبرا اور جنت جہنم، نیکی بدی سے منزا ہے۔
  • انسان کا شرف و اختصاص، اسکی قوت،عقل اور فکر میں مضمر ہے۔
  • کامل انسان اشرف المخلوق بن جاتا ہے، اور منتشر و شریر ہو تو ارزل المخلوق۔
  • اعتدال بہترین راستہ ہے۔
  • عورت فطرتاً مرد سے ذہنی و جسمانی طور پر پست ہے۔

اہم تصانیف[ترمیم]

ارسطو صرف فلسفی ہی نہ تھا، بلکہ وہ علم طب، علم حیوانات، ریاضی، علم ہيئت، سیاسیات، مابعدالطبیعیات اور علم اخلاقیات پر قدیم حکما کے مابیں مستند اور صاحب الرائے عالم مانا جاتا ہے۔ اس کی کتب و تحقیقی رسائل کی تعداد ہزار سے اوپر ہے، جن میں سے اہم یہ ہیں۔

  • المقولات
  • الاخلاق
  • مابعدالطبیعیہ
  • العبارۃ
  • البرہان
  • الجدل
  • الخطابہ
  • الشعر
  • النفس
  • الحیوان
  • الحس و المحسوس
  • بوطیقا

بیرونی روابط[ترمیم]

http://Aristotle.thefreelibrary.com

http://www.non-contradiction.com

http://www.utm.edu/research/iep/a/aristotl.htm

http://www.greek-literature-online.com/aristotle