معاشیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

معاشیات یا اقتصادیات (Economics) معاشرتی علوم (Social Sciences) کی اہم ایک شاخ ہے جس میں قلیل مادی وسائل و پیداوار کی تقسیم اور انکی طلب و رسد کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ عربی اور فارسی میں رائج اصطلاح اقتصادیات اردو میں معاشیات کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ معاشیات کی ایک جامع تعریف جو کہ روبنز (Lionel Robbins) نے دی تھی کچھ یوں ہے کہ 'معاشیات ایک ایسا علم ہے جس میں ہم انسانی رویہ کا مطالعہ کرتے ہیں جب اسے لامحدود خواہشات اور ان کے مقابلے میں محدود ذرائع کا سامنا کرنا پڑے۔ جبکہ ان محدود ذرائع کے متنوع استعمال ہوں'۔ معاشیات آج ایک جدید معاشرتی علم بن چکا ہے جس میں نہ صرف انسانی معاشی رویہ بلکہ مجموعی طور پر معاشرہ اور ممالک کے معاشی رویہ اور انسانی زندگی اور اس کی معاشی ترقی سے متعلق تمام امور کا احاطہ کیا جاتا ہے اور اس میں مستقبل کی منصوبہ بندی اور انسانی فلاح جیسے مضامین بھی شامل ہیں جن کا احاطہ پہلے نہیں کیا جاتا تھا۔ معاشیات سے بہت سے نئے مضامین جنم لے چکے ہیں جنہوں نے اب اپنی علیحدہ حیثیت اختیار کر لی ہے جیسے مالیات، تجارت اور نظامت ۔ معاشیات کی بہت سی شاخیں ہیں مگر مجموعی طور پر انہیں جزیاتی معاشیات (Microeconomics) اور کلیاتی معاشیات (Macroeconomics) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

مقاصد[ترمیم]

قدیم ادوار میں مالیاتی نظام حکومت کی ذمہ داریوں کی طرح سیدھا سادہ ہوتا تھا۔ عام طور پر حکومت کی ذمہ داریاں محدود ہوتی تھیں۔ اس لیے محصولات میں کوئی پیچیدگیاں نہیں ہوتی تھیں۔ محصولات کا بڑا حصہ زمین کی لگان اور اس کے محصول پر مشتمل ہوتا تھا۔ جب کہ ذرخیز علاقوں پر عام طور زیادہ محصول ہوتا تھا یا ان پر کچھ خصوصی محصول کسی خاص مد میں لگائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ جزیہ، تجارت اور وراثت پر بھی محصول لگائے جاتے تھے۔ جو کہ کم و بیش روم، ایران و مصر اور دوسرے علاقوں میں قبل اسلام یہی محصولات مختلف شکلوں میں عائد کیے جاتے تھے۔

قدیم زمانے میں ضرورتیں مختصر اور سادہ ہوا کرتی تھیں، لیکن تہذیب و تمد ن کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ اور نیرنگی پیدا ہوتی گئی۔ بنیادی طور پر ہمیں بھوک مٹانے کے لئے غذا ،،تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور رہنے کے لئے مکان درکار ہے۔ لیکن اس کے علاوہ انسان کو بہت سی ایسی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو آرام و آسائش بہم پہنچاتی ہیں اور تفریح کا سامان مہیا کرتی ہیں۔ مثلأئ صوفہ، ریڈیو، ٹیلی ویژ ن، فریج، ایر کنڈیشنز، موٹر سائیکل اور کار وغیرہ ہیں۔ چنانچہ ان حاجات کو پورا کرنے کے لئے انسان محنت کرتا ہے اور دولت کماتا ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کسان کھیتوں میں، مزدور کارخانوں میں، کلرک دفتروں میں سرگرم عمل ہیں۔ غرض ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل، دھوبی اور نائی ہر شخص اپنا کام کررہا ہے تاکہ روپیہ حاصل کرکے ضرورت کی اشیاء حاصل کرسکے۔ انسان کی اس جدوجہد کا اور اس کی کوششوں کا تعلق معاشیات سے ہے۔

دراصل انسان کی خواہشات بے شمار ہیں لیکن انہیں پورا کرنے کے زرائع تھوڑے ہیں۔ لہذا اسے یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اس قلیل ذرائع سے کیسے پورا کرے۔ گویا اسے بے شمار خواہشات میں انتخاب اور ذرائع میں کفایت کرنی پڑتی ہے۔ انسانی طرز عمل کے اس پہلو کے مطالعہ کا نام معاشیات ہے۔

حاجات کی کثرت اور وسائل کی قلت کے باعث دنیا کی بیشتر آبادی مسائل سے دوچار ہے۔ مثلا ئئغربت، جہالت، بیماری، قحط، بے روزگاری اور افراط زر وغیرہ ہیں۔ چنانچہ معاشی ماہرین ان مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں اور انہیں حل کرنے کے لئے معاشی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور معاشی ترقی پر زور دیتے ہیں، ایسی تجویزیں پیش کرتے ہیں جس سے ملک میں اشیاء کی پیداوار بڑھے، روزگار ملے اور لوگوں میں دولت کی تقسیم منصفانہ ہو، خوشحالی کا معیار بلند ہو اور ان کی ضرورتیں احسن طریقے سے پوری ہوں۔ لہذا ضروری ہے کہ معاشیات کے جدید اصولوں اور نظریات سے فائدہ اٹھا کر اقتصادی ترقی کے لئے کوشش کی جائے۔ تاکہ اشیاء کی پیداوار بڑھے، لوگوں کو روزگار ملے اور لوگوں کو ضرورت کی اشیاء ملیں اور معاشرہ خوشحالی کی طرف گامزن ہو۔

انسان کے معاشی مسئلہ کے مختلف پہلوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا نظام بنایا جائے کہ کس طرح تمام انسانوں کو ان کی ضروریات زندگی بہم پہچانے کا انتظام ہو اور کس طرح معاشرے میں ہر فرد اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق ترقی کرکے اپنی شخصیت کو نشوو نمادینے اور اپنی لیاقت کو درجہ کمال پر پہنچانے کے مواقع حاصل کرے۔

معاشی نظام کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو وہ بچہ ہو یا بوڑھا، عورت ہو کہ مرد بلا امتیاز و فرق کے کم از کم اپنا سامان حیات ضرور میسر ہو۔جس کے بغیر عام طورپر ایک انسان اطمینان کے ساتھ زندہ نہیں ر ہ سکتا اور نہ ہی اپنے فرائض و واجبات ٹھیک طرح سے ادا نہیں کرسکتا ہے۔ جو مختلف حیثیت سے اس پر عائد ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے ہر ایک فرد کے لئے کسی نہ کسی درجہ میں خوراک لباس اور مکان کے علاوہ علاج، تعلیم اور روزگار کا مناسب انتظام ہو اور کوئی فرد ان بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے اور یہی ایک اسلامی معاشرے کا مقصد ہے۔

معاشی ارتقاء[ترمیم]

قدیم ادوار میں سونے اور چاندی کے سکے ہوتے تھے۔ جو دنیا میں محدود مقدار میں تھے، اس لئے زر Currencyکی قدر میں استحکام تھا اور اس وجہ سے دنیا ہمیشہ تفریق زر Deflation کا شکار رہی تھی۔ اس وقت جب کہ سود معاشرے میں عدم توازن پیدا کررہا تھا، تو اسلام نے ایک طرف زکواۃ کو فرض کر کے اور دوسرے طرف رضاکارانہ طور پر دولت پھیلانے کی تلقین کرکے سودIntrest پر ضرب لگائی۔ اس سے نہ صرف معاشرے میں دولت پھیل جاتی تھی بلکہ لوگوں کے پاس پیسہ آجانے سے تجارت و کاروبار میں ترقی ہوجاتی اور لوگوں کو روزگار مل جاتا تھا، جواب بھی نہایت راست ا قدام ہے۔

مگر بڑھتی ہوئی آبادی اور تیز رفتار ترقی کی وجہ سے دنیا تفریق زر اور کسادبازاری کا شکار ہونے لگی۔ کیوں کہ دنیا میں سونا محدود مقدار میں تھا، جس کی مقدار مزید بڑھ نہیں سکتی تھی اور اس کے متبادل کے طور پر کاغذی زر تخلیق کیا گیا۔ جو ابتدا میں سونے کے بدلے جاری کیا گیا تھا، اس لیے اس کی قدر مستحکم تھی۔ مگر جلد ہی اس کا تعلق سونے سے ٹورنا پڑا، اب اس کی قدر وقت کے ساتھ گرتی رہتی ہے۔

دنیا میں جہاں مختلف میدانوں میں ترقی ہوئی ہے اور مختلف ارتقائی مراحل گزر ی ہے، وہاں آج کی معاشی دنیا بھی بدل چکی ہے۔ آج کی معاشی دنیا پہلے کی طرح سادہ نہیں رہی ہے۔ زماں اور مکاں اور عرف و عادۃ کی تبدیلوں کے ساتھ اس نے مختلف ارتقائی مرحلے طے کئے ہیں اور اب یہ عہد گزشتہ کی نسبت بہت زیادہ پیچیدہ اور تیز رفتار ہو گئی ہے۔ اس لئے آج معاشی دنیا کل کی نسبت بہت کچھ بدل چکی ہے۔ پہلے سود معاشرے میں عدم توازن پیدا کرتا تھا۔ جب کہ آج کی جدید معشیت میں تیز رفتار ترقی اور وقت کے ساتھ گرتی قدر کی وجہ سے قرض لینے والا فائدے میں رہتا ہے۔

آج کا معاشی نظام عہدوسطیٰ کے مقابلے میں بہت مختلف ہے۔ پہلے صرف سونے کو زر کی حیثیت حاصل تھی، مگر اب اس کی جگہ کاغذی زر نے لے لی ہے، جس کی قدر وقت کے ساتھ گرتی رہتی ہے اور قیمتوں میں اضافے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے لوگ اپنا پیسہ جائیداد یا اس طرح کی خریداری میں لگاتے ہیں اور کاروبار کے لیے قرض کو ترجیح دیتے ہیں اور واپسی کے وقت اصل کے مقابلے میں زائد رقم خوشی خوشی ادا کرتے ہیں، کیوں کہ قرض لیتے وقت جو زر کی قدر تھی وہ ادائیگی کے وقت گھٹ چکی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے سود کے خلاف جتنے دلائل دیئے جاتے تھے وہ جدید معاشی نظام پر صادق نہیں آتے ہیں۔ کیوں کہ زر کی وقت کے ساتھ گرتی قدر نے سود کے خلاف تمام دلائل بیکار کردیئے ہیں اور سود پوری طرح معاشی معاشرے میں رائج ہوچکا ہے۔ آج ہم سود کے بغیرمعیشت کا سوچ ہی نہیں سکتے ہیں۔ حقیقت میں سودی نظام صرف بینکاریBanking کے امور تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ دوسرے معاشیEcnomic & Manitry امور مثلأئ زر کی تخلیقCapital Formation، کاغذی زر، ادائیگیوں کا توازن Balance of Payments ، قرضہ جات، معاشی حکمت عملیوں کے مطابق زر کو بازار میں پھیلانے اور کھینچنے اور روزگار وغیرہ بھی اس سے وابستہ ہیں۔

مذ[ترمیم]

  • پروفیسر محمد منظور علی۔ کتاب معاشیات حصہ اول جولائی 1982ءٗ؁ مرکزی کتب خانہ، اردو بازار
  • پروفیسررفیع اللہ شہاب۔ اسلامی ریاست کامالیاتی نظام۔دسمبر1973؁ء، ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد (پاکستان)
  • فیڈرک بینیم معاشیات (زر و بینکاری) ترجمہ عظمت اللہ خان فروری 1965 ؁ء سرسید بک کمپنی اردو بازار کراچی
  • ڈاکٹر زاہد علی: تاریخ فاطمین مصر؛ جلد اول، دوم، 1975ء؁ نفیس اکیڈمی کراچی
  • ڈاکٹر معین الدین: قدیم مشرق مکتبہ فریدی کراچی

معاشیات کا ارتقاء اور تاریخ[ترمیم]

اگرچہ معاشیات کی تحریریں کافی قدیم زمانے سے ملتی ہیں مگر وہ کتاب جو باقاعدہ معاشیات کی پہلی طبع شدہ کتاب سمجھی جاتی ہے، آدم سمتھ (Adam Smith) کی مشہور کتاب 'دولتِ اقوام' (Wealth of Nations) ہے جو 1876ء میں چھپی تھی۔ اس وقت معاشیات کو بطور علیحدہ مضمون کے شناخت نہیں کیا جاتا تھا مگر 1876ء سے بھی پہلے مختلف جریدوں میں معاشیات سے متعلق تحریریں موجود ہیں مثلاً تھامس من (Thomas Munn) کے بین الاقوامی تجارت سے متعلق مضامین کا تعلق سولہویں صدی سے ہے۔ معاشی نظریات اسلامی دور میں بھی موجود تھے اور یونانی دور میں بھی مگر علیحدہ مضمون کی حیثیت سے ترقی اسے اٹھارویں صدی میں ہی آ کر ہوئی۔

معاشیات کو اس کا علیحدہ نام (انگریزی میں Economics ۔ فرانسیسی میں Sciences économiques) سن 1876ء کے کچھ بعد ملا۔ پہلی کتاب جو باقاعدہ اس نام کے ساتھ چھپی وہ الفرڈ مارشل (Alfred Marshall) کی کتاب اصولِ معاشیات (Principles of Economics ) تھی جو 1890ء میں طبع ہوئی۔ مگر معاشی نظریات کو ہم تین بنیادی ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلے دور میں عموماً یونانی، رومی اور عربی (اسلامی) نظریات شامل سمجھے جاتے ہیں۔ دوسرے دور میں چودھویں صدی کے بعد سے اٹھارویں صدی کے نظریات کو داخل کیا جاتا ہے جیسے تاجرانہ نظریات (mercantilist views) اور تیسرے دور میں آدم سمتھ اور اس کے بعد کے نظریات کو شامل کیا جاتا ہے۔ تیسرا دور ہی اصل میں معاشیات کی صحیح معنیٰ میں ترقی کا دور ہے جس میں جدید معاشیات کی بنیاد پڑی اور معاشیات کو ایک الگ مضمون کی حیثیت دی گئی۔ اسی تیسرے دور میں مختلف مکاتبِ فکر ن جنم لیا مثلاً کلاسیکی، نو کلاسیکی وغیرo

معاشیات کی بنیادی شاخیں[ترمیم]

معاشیات کے علم کو بطور مجموعی دو بنیادی شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

جزیاتی معاشیات (Microeconomics)[ترمیم]

اس میں انفرادی درجہ پر معاشی تجزیہ کیا جاتا ہے جیسے کسی شخص، کارخانہ، شراکت، صارف یا گھر وغیرہ کا تجزیہ کیا جائے۔ اس کی بہت سی شاخیں ہیں مثلاً رویہ صارف، فلاحی معاشیات،تجارتی معاشیات، صنعتی تنظیم، معاشیاتِ خاندان وغیرہ۔

کلیاتی معاشیات (Macroeconomics)[ترمیم]

اس میں معاشرہ کا اجتماعی درجہ پر تجزیہ کیا جاتا ہے جیسے کسی ملک کی آمدنی اور شرحِ نمو یا بین الاقوامی تجزیات وغیرہ۔ اس کی بہت سی شاخیں ہیں مثلاً معاشی ترقی، بین الاقوامی معاشیات، معاشیاتِ آبادی وغیرہ۔

اہم مکاتب فکر[ترمیم]

معاشی نظریات کا تعلق نظریات کے ساتھ ہے وقت کے ساتھ نہیں مثلاً کلاسیکی معاشی نظریات دو سو سال پہلے بھی تھے اور آج بھی کوئی ویسے نظریات رکھے گا تو اسے کلاسیکی ماہرِ معاشیات ہی کہا جائے گا۔ نظریات کے لحاظ سے جدید دور کی معاشیات کو عموماً چند نظریاتی جماعتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جو درج ذیل ہیں۔

کلاسیکی معاشیات (Classical economics)[ترمیم]

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں معاشیات کے بارے میں مخصوص نظریات رائج تھے۔ اس وقت معاشیات کو معیشتِ سیاسی (Political economy) کہا جاتا تھا۔ اس کے ابتدائی دور میں یہ وہ وقت تھا جب معاشیات کو ابھی علیحدہ مضمون کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی اور معاشیات کے نئے نظریات دینے والوں میں نہ صرف معاشیات کے ماہر بلکہ فلسفی، ریاضی دان، علومِ سیاسیہ کے ماہر اور دیگر مفکرین شامل تھے۔ معاشی نظریات یہ تھے کہ معیشت کو منڈیاں چلاتی ہیں اور معیشت میں خود بخود ایک توازن پیدا ہو جاتا ہے یا متوازن کیفیت کی طرف معاشی متغیرات کا رحجان ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر چیز کی ایک قدر ہوتی ہے اور یہ قدر یا قیمت ہی ہے جس کی وجہ سے معیشت چلتی ہے اور یہی میکانیاتِ قیمت ہی ہے جس کی وجہ سے صرف، پیداوار، طلب و رسد جنم لیتی ہیں۔ معیشت میں خود بخود مکمل روزگار جنم لے سکتا ہے اور رسد اپنی طلب خود پیدا کر لیتی ہے۔ بعض مفکرین یہ بھی سمجھتے تھے کہ اشیاء کی قیمتیں اس بات سے متعین ہوتی ہیں کہ ان پر محنت کے کتنے گھنٹے یا وقت صرف ہوا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ حکومت یا کسی بھی طاقت کی معیشت میں مداخلت نہیں ہونا چاہئے اور معیشت کو مالیاتی تدابیر(Fiscal policy) کی نسبت قدری تدابیر (Monetary policy) سے اختیار میں لایا جا سکتا ہے۔
کلاسیکی ماہرینِ معاشیات میں آدم سمتھ، جون سٹوارٹ مِل، تھامس مالتھس اور ڈیوڈ ریکارڈو جیسے نام شامل ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے مشہور کتاب آدم سمتھ کی 'دولتِ اقوام' کو سمجھا جاتا ہے جو 1876ء میں چھپی تھی۔

نو کلاسیکی معاشیات (Neo-classical economics)[ترمیم]

کلاسیکی معاشیات میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ بنیادی طور پر معاشیات دولت کا علم ہے مگر نو کلاسیکی معاشیات میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ معاشیات دولت کا نہیں بلکہ انسانی رویہ سے تعلق رکھنے والا علم ہے۔ یہ انسان کے معاشی رویہ کا تجزیہ کرتا ہے جس میں انسان کی خواہشات بہت زیادہ ہوتی ہیں اور ان کو حاصل کرنے کے ذرائع کمیاب ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے انسان کو ان محدود ذرائع کے استعمال کو چننا ہوتا ہے۔ زیادہ اہم خواہشات یقیناً پہلے پوری ہوتی ہیں۔ یعنی دولت کو صرف اس لیے زیرِ بحث لایا جاتا ہے کہ وہ انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جدید معاشیات کی بنیاد بھی انہی نوکلاسیکی معاشیاتی نظریات پر ہے جس میں وسائل و ذرائع کے مستعد ترین (efficient) استعمال پر بحث ہوتی ہے۔ یعنی انسانی فیصلے لاگت اور قیمت پر انحصار کریں گے۔ نوکلاسیکی نظریات کے مطابق بنیادی بات یہ ہے کہ قیمت، پیداوار اور آمدنی کی تقسیم جیسے فیصلے رسد و طلب کی مدد سے ہوں گے۔ صارف کی کوشش یہ ہوگی کہ افادہ کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے اور شرکت (Firm) کا مطمعِ نظر اپنے سرمایہ پر منافع زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا ہے۔
مجموعی طور پر نوکلاسیکی معاشیات کی بنیاد تین مفروضات پر ہے۔

  • انسان عاقلانہ (Rationally) انداز میں اپنے فیصلے کرتا ہے۔ اور اس کے ذہن میں ان فیصلوں کے ممکنہ نتائج کے بارے میں کچھ قدر و قیمت متعین ہوتی ہے۔
  • صارف کی کوشش یہ ہوگی کہ افادہ کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے اور شرکت (Firm) کا مطمعِ نظر اپنے سرمایہ پر منافع زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا ہے۔
  • انسان اپنے فیصلے آزادانہ طور پر متعلقہ مواد اور مکمل معلومات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔

نوکلاسیکی معاشیات دانوں میں ابتدائی ناموں میں ولیم جیون (William Stanley Jevons)، کارل مینجر (Carl Menger)، لیوں والرس (Leon Walras)، جیریمی بینتھم (Jeremy Bentham) اور الفریڈ مارشل (Alfred Marshall) جیسے نام شامل ہیں۔

فارش اے نورتاریخ دان اور ماہرِ سیاسیات ہیں۔ ان کا تعلق ملائشیا سے ہے اور وہ برلن کے زینٹرم ماڈرنر اوریئنٹ میں رہتے ہیں۔ وہ ایک تحقیقی ویب سائٹ www.othermalaysia.org .کے بانیوں میں بھی شامل ہیں۔

14اسلام اوراس دور میں تجارت کی بات کرنا تو جیسے فیشن بن گیا ہے۔ تاہم اسلام اور اقتصادیات، کاروبار، بنکاری، مالیات اور جالبین (Internet) پر خصوصی طور پرمسلمانوں کیلئے بنائی گئی مصنوعات کی فروخت پر ایک نظر ڈالنےسے پتہ چلتا ہے کہ مسلم تجارت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ پچھلے دو عشروں سے ہورہا ہے اور شائد ہی کسی نےاس پر توجہ دی ہو۔

60ء کے عشرے میں مسلم دنیا کئی طرح کے احیاء کے تجربے سے گزر رہی تھی۔ بلا مبالغہ اس کرہ ارض پر موجود مسلم اکثریت والے ہر ملک کو نو آبادیاتی نظام کے بعد حکمرانی کے بحران سے گزرنا پڑا جب مسلم معیشتوں کو یہ احساس ہوا کہ انہیں ہر شئے باہر سے درآمد کرنے والی نو آبادیاتی دور کی روش کوچھوڑنا ہوگا۔ چنانچہ نو آبادیاتی دور کے ترقیاتی ماڈل کو فی الفور ترک کردیا گیا۔ 60ء کی دہائی ہی میں بیشتر مسلمان ملکوں کی حکومتوں کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ انہیں بین الاقوامی کاروباری شعبے کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے درمیان موجود نئے شہری حلقوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھنا تھا۔ اس اقتصادی، اداراتی اور ڈھانچہ جاتی تبدیلی کے ساتھ چلنے سے ایک نئی قوت ابھر کر سامنےآئی جسے سیاسی اسلام کہا جاتا ہے۔ مراکش سے انڈونیشیا تک مسلمان اسلام کے جھنڈے تلے ایک نئے حلقے کے طور پر اپنی سیاسی تنظیم کررہے تھے۔ کچھ ملک تو ان نئے سیاسی حقائق کےمطابق خود کو ڈھالنےکے قابل تھے لیکن شاہ کی زیرِ قیادت ایران جیسے بعض ممالک ایسے بھی تھےجنہوں نے کوشش کی کہ تبدیلی کےنئے راستے تو کھولے جائیں لیکن سیاسی نظام میں بنیادی اصلاحات کرنےکی ضرورت کو نظر انداز کیا جائے، جس میں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

70ء کے عشرے کےاواخر اور 80ء کی دہائی میں سیاسی اسلام اپنے عروج پر تھا جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا اور پاکستان، سوڈان اور نائجیریا میں اسلمہ ﴿Islamization) کی گئی۔ مصر، مراکش اور تیونس جیسے ممالک کے زیادہ ترقی یافتہ شہری حلقوں میں مقبولیت کی بنا پر سیاسی اسلام کے حامیوں کو عرب دنیا میں بھی نظرانداز کرنا بہت مشکل تھا۔ ایشیا کے مسلمان ملکوں میں بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی جہاں پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیا میں اسلمہ ﴿Islamization) کا عمل پوری تندہی اور تیزی سے ہورہا تھا۔ مثال کے طور پر 1980 ء کے عشرے نے دیکھا کہ ملائشیا کی سیاسی معیشت کی تیزی سے تنظیم ِ نو کی گئی جب ریاست نے سیاسی اسلام کے حامیوں کو پزیرائی بخشی اور انہیں حکومتی مشینری کا حصہ بنایا۔

آجکل ملائشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک اسلامی بنکاری اور فنانس سمیت بہت سے شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں خصوصی طور پر مسلمانوں کے لئےتیار کی جانے والی مصنوعات کی کامیابی حیران کن ہے۔ اگر ہم مسلم ممالک میں تجارتی مراکز ﴿Super Markets) کا چکر لگائیں تو بڑی تعدادمیں ایسی اشیاء نظر آتی ہیں جن پر 'مسلم' کی چھاپ لگی ہے۔ ان میں مسلم کولا مثلاً زم زم یا مکّہ کولا سے لے کر مسلم جینز مثلاً القدس جینز تک بہت سی مصنوعات شامل ہیں جو مسلمانوں کے ذوق اور ترجیحات کو مدِ نظر رکھ کر بنائی گئی ہیں۔

ملائشیا میں ایک کار بھی تیار کی جارہی ہے جوشائد اپنی قسم کی پہلی 'مسلم کار' ہوگی۔ اس کار میں مکّہ کی طرف اشارہ کرنے والا سمت نما اور قرآن رکھنےکیلئے خصوصی خانہ تیار کیا گیا ہے۔ عوامی تفریح اور پلاسٹک آرٹ جیسے شعبوں میں مقبول مسلم ثقافت اہم کاروبار بن گئی ہے اور ای ایم آئی جیسی بڑی کمپنیاں مسلمان پاپ گروپس کے ساتھ معاہدے کررہی ہیں۔ تاہم ہمیں یہ یاد رکھنےکی ضرورت ہے کہ جو کچھ بھی ہم آج کی مسلم دنیا میں دیکھ رہے ہیں اسے انقلابی یا بنیاد پرستانہ نہیں کہا جا سکتا۔ اس ضمن میں بہت سےاہم نکات پرزوردینے کی ضرورت ہے۔

اوّل: ہمیں باربار دوسروں کو یہ باور کرانا چاہیے کہ اسلام کوئی ایسا مذہب یا عقائد کا نظام نہیں ہے جو کاروبار کے خلاف ہے۔ اسلام کے اخلاقی اصول کسی کو تجارت کرنے سے نہیں روکتے۔ خود حضرت محمدﷺ کا تعلق ایک کاروباری گھرانےسے تھا۔ اسلام آزادانہ کاروبار، نجی ملکیت اور دولت کے حصول کا دفاع بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ دوم: مسلم دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے یہ کوئی انہونی چیز یا نئی اختراع نہیں ہے۔ مسلمان تو صرف کاروباری روایات اور طریقہ کار کو اپنی کمیونٹی کے لئے موزوں بنا رہے ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کےکاروباری شعبےکی ترقی سب کیلئےایک اچھی خبر ہے۔ یہ سماج کو ترقی دینے، دولت کی پیداوار اور اس کی تقسیم کےذریعے کے طور پر کام کرتا ہے۔ بلکہ جب مغرب اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات اتنے اچھے نہ رہیں جتناکہ وہ ہو سکتے تھے تو ایسے میں دونوں کے درمیان پُل کا کام بھی دیتا ہے۔ مسلم کولا، جینز یا کاروں کی تیاری اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسلمان ان اشیاء سے لطف اندوز ہورہے ہیں جو ایک طویل عرصے سے مغرب کے صنعتی سماج میں تیار ہورہی تھیں۔

چنانچہ مسلم کامرس کے ابھرنے کو کسی طرح کی رکاوٹ نہیں سمجھناچاہیئے بلکہ اس سے دنیا بھر کے کاروباری طبقوں کوایک دوسرےکےقریب آنے اور ایک ایسی صارف منڈی دریافت کرنے، اسے ترقی دینےاور اس میں کام کرنے کے کاروباری امکانات اور مواقع میسر آئیں گے جو اپنے اقتصادی مقام اورموقع سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ایک ایسے دور میں جب ذرائع ابلاغ تواتر کے ساتھ مصیبت زدہ معاشروں کی تصاویراور بین الثقافتی جھگڑوں اور تشدد کی داستانوں کی بوچھاڑ کئے ہوئے ہے، مغرب اور مسلم دنیا کے کاروباری منصوبے ثقافتوں کے درمیان خلیج کو پاٹنے اور ثقافتی کاروباری منصوبے بنانے جیسا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جو معاشروں کو ایک دوسرے سے دورہٹانے کی بجائے قریب لانے کا باعث بنے گا۔

مأخذ: خلیج ٹائمز، 7 دسمبر 2007 ( کامن گراؤنڈ نیوز )

کینزی معاشیات (Keynesian economics)[ترمیم]

کینزی معاشیات جون مینارڈ کینز (John Maynard Keynes) کے نظریات پر مشتمل ہے۔ اس نظریہ کے حامل ماہرین قلیل عرصہ (Short run) کی کلیاتی معاشیات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں معاشی متغیرات بالکل لچکدار نہیں ہوتے اور ان کے تغیر میں کچھ رکاوٹیں بھی آسکتی ہیں۔ مثلاً جب قیمتیں بڑھ جائیں تو ان کو کم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ قیمت کی کمی کے حالات پیدا ہو جائیں، وہ اس آسانی سے کم نہیں ہوتیں جتنی آسانی سے بڑھتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لوگ بالکل آزاد معیشت (Free Economy) پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے خیال میں بعض صورتیں ایسی پیدا ہو جاتی ہیں جس میں معاشی متغیرات میں مکمل طور پر توازن پیدا نہیں ہوتا اور وہ توازنی کیفیت کے علاوہ کہیں اور اٹکی رہ سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں معیشت میں کسی طاقت مثلاً حکومت کی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے۔ یہ مداخلت مالیاتی حکمتِ عملی (Fiscal Policy) کے ذریعے سب سے بہتر نتائج دیتی ہے۔ کینزی معاشیات ایک آزاد معیشت یا ایک مکمل طور پر پابند معیشت (Controled economy) دونوں کی جگہ ایک ملی جلی معیشت (Mixed Economy) کا پرچار کرتی ہے جس میں حکومتی ادارے اور نجی شعبہ دونوں ہی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کلاسیکی معاشی نظریات کے برعکس یہ لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ معیشت میں خود بخود مکمل روزگار اور توازن پیدا ہوگا۔ ان نظریات کا منبع کینز کی مشہور کتاب 'نظریہ عمومی' (General theory) ہے۔

مارکسی معاشیات (Marxian economics)[ترمیم]

مارکسی معاشیات کی بنیاد کارل مارکس (Karl Marx) کے نظریات پر ہے جو بنیادی طور پر اس کی مشہور کتاب 'سرمایہ' (جرمن میںDas Kapital۔انگریزی میں The Capital) سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ مارکس اقتصادی مسائل کو ایک طبقاتی تفاوت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کے خیال میں سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ (capital) اور محنت (labor) کے درمیان دولت اور پیداوار کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوتی اور سرمایہ دار مزدور کا استحصال کرتا ہے اور یہی طبقاتی تفاوت کی بنیاد ہے۔ ان خیالات کی بنیاد اس کی نظریہ قدر از محنت (labor theory of value) پر ہے جس کے مطابق اشیاء کی قدریں یا قیمتیں ان پر لگی ہوئی محنت (labor) سے متعین ہوتی ہیں۔ مزدور کی محنت اشیاء میں قدر پیدا کرتی ہے مگر اسے اس کا جائز حصہ نہیں ملتا اور پیداوار و منافع کا بیشر حصہ سرمایہ دار اینٹھ لیتا ہے۔ اس کے مطابق اس کی وجہ سے طبقاتی تفاوت بڑھتا چلا جائے گا اور تصادم ناگزیر ہو جائے گا۔

نقدی معاشیات (Monetarist economics)[ترمیم]

اس قسم کی معاشیات کا پرچار کرنے والے لوگ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ قومی آمدنی بڑھانے جیسے عوامل میں اصل حیثیت زر کی طلب و رسد کی قوتوں پر ہے۔ یہ زر کی رسد میں اتار چڑھاؤ سے معیشت کو اختیار میں لانے کے قائل ہیں۔ ان کے کچھ نظریات کلاسیکی معاشیات سے ملتے ہیں مگر کچھ نظریات بالکل الگ ہیں۔ ان نظریات کے حامل افراد میں ملٹن فریڈمین (Milton Friedman) جیسے لوگ شامل ہیں۔ ان لوگوں میں سے کچھ تو امریکہ کی فیڈرل ریزرو سے بھی منسلک رہے ہیں۔ یورپی مرکزی بنک بھی اکثر ان کی تجاویز کردہ حکمت عملی پر عمل کرتا ہے جس میں زر کی رسد کو ھدف بنایا جاتا ہے۔

آسٹروی معاشیات (Austrian economics)[ترمیم]

اس قسم کے نظریات سے متعلق لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بازار (Market) کی اصل قوت وہ لوگ ہیں جو خطرہ مول لے کر نئے کاروبار شروع کرتے ہیں اور یہی لوگ معاشی ترقی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس سے متعلق ماہرینِ معاشیات میں جوزف شمپیٹر (Joseph Schumpeter)، فریڈرک ہایک (Friedrich Hayek)، فریڈرک وون ویسر (Friedrich von Wieser)، آگن وون بوہم باورک (Eugen von Böhm-Bawerk) وغیرہ شامل ہیں۔

معروف ماہرین معاشیات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]