شرح سود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شرح سود سے مراد قرض کی وہ قیمت ہے جو قرض لینے والا ایک مقررہ مدت کے بعد قرض دینے والے کو بطور سود ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ اسے عام طور پر فیصد میں بیان کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر شرح سود دس فیصد سالانہ ہے تو قرض لینے والے کو ہر سو روپے کے قرض پر ایک سال بعد دس روپیہ قرض دینے والے کو سود ادا کرنا پڑے گا۔ اسکے بعد اگر قرض لینے والا اصل رقم بھی واپس ادا کر سکے تو قرض کا معاہدہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ مزید سود ادا کرنے سے آزاد ہو جاتا ہے۔

پچھلے پچاس سالوں میں امریکہ کی شرح سود۔

شرح سود میں اضافے کا نتیجہ[ترمیم]

جب بھی کسی ملک میں بینکوں کی طرف سے دیئے جانے والے قرضوں پر شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کی معیشت میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔ چونکہ اس سے معیشت پر منفی اثر پڑتا ہے اس لیئے کوئی بھی ملک شرح سود میں اضافہ کرنا پسند نہیں کرتا۔ معیشت میں آنے والی تبدیلیاں یہ ہیں:

  • قرض لینے کا رجحان کم ہو جاتا ہے کیونکہ قرض کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ نئی سرمائیہ کاری کم ہو جاتی ہے اور مقابلے کی فضا (competition) کم ہو جاتی ہے جس سے قیمتیں بڑھنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ خریداری (consumption) کم ہو جاتی ہے۔
  • قسطوں پر مکان یا گاڑی خریدنے کا رجحان کم ہو جاتا ہے کیونکہ اب ہر قسط پہلے سے زیادہ گراں ہو جاتی ہے۔
  • بچت کا رجحان بڑھ جاتا ہے کیونکہ بینک میں بچت کی رقم رکھنے پر اب زیادہ منافع ہوتا ہے۔ بچت کی وجہ سے بازاروں میں مال کی فروخت کم ہو جاتی ہے۔
  • ملکی کرنسی کی قیمت بڑھ جاتی ہے کیونکہ دوسرے ممالک کے لوگ اپنی بچت اب بلند شرح سود والے ملک میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ملکی کرنسی کی قیمت بڑھنے سے برآمدات میں کمی آ جاتی ہے جبکہ درآمدات بڑھ جاتی ہیں۔
  • جب بچت اور بینک ڈپازٹ بڑھتے ہیں تو زیر گردش نوٹوں کی مقدار میں کمی آتی ہے۔ افراط زر کم ہونے لگ جاتا ہے۔
  • حکومت پر واجب الادا قرضوں کی قسطیں بھی بڑھ جاتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت عوام پر ٹیکس بڑھا دیتی ہے۔
  • امیروں کو اپنی بچت پر زیادہ سود ملتا ہے اس لیئے امیر اور امیر ہو جاتا ہے جبکہ غریب پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔[1]


شرح سود میں کمی کا نتیجہ[ترمیم]

  • جب شرح سود کم ہو جاتی ہے تو ہر منچلا قرض لینے کا خواہش مند ہو جاتا ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ قرض واپس کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس طرح risky قرضے بہت بڑھ جاتے ہیں جو بینک پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
  • لوگ بینکوں سے قرض لے کر اسٹاک مارکیٹ میں لگا دیتے ہیں یا زمین خرید لیتے ہیں۔ اس سے شئیرز اور پلاٹوں کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایکنومک بلبلہ آخرکار پھٹتا ہے جس سے بینک بھی کنگال ہو جاتے ہیں۔
  • حکومت اور بڑی بڑی کارپوریشنوں کو شرح سود میں کمی سے فائیدہ ہوتا ہے کیونکہ انکے اوپر بڑے بڑے قرضے ہوتے ہیں جبکہ انکے منافع دینے والے اثاثے کم ہوتے ہیں۔ لیکن وہ ملازمین جن کو پنشن ملنی ہوتی ہے یا جن کا انشورنس کی آمدنی پر انحصار ہوتا ہے وہ شدید مشکلات سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]