شرح سود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شرح سود سے مراد قرض کی وہ قیمت ہے جو قرض لینے والا ایک مقررہ مدت کے بعد قرض دینے والے کو بطور سود ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ اسے عام طور پر فیصد میں بیان کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر شرح سود دس فیصد سالانہ ہے تو قرض لینے والے کو ہر سو روپے کے قرض پر ایک سال بعد دس روپیہ قرض دینے والے کو سود ادا کرنا پڑے گا۔ اسکے بعد اگر قرض لینے والا اصل رقم بھی واپس ادا کر سکے تو قرض کا معاہدہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ مزید سود ادا کرنے سے آزاد ہو جاتا ہے۔

پچھلے 60 سالوں میں امریکہ کی شرح سود۔ جنوری 1980 میں جب سونے چاندی کی قیمتیں اچانک بڑھنے لگی تھیں تو فیڈرل ریزرو نے شرح سود 20 فیصد تک بڑھا دی تھی۔ حالیہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹوں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیئے شرح سود گرائی گئی ہے۔

شرح سود میں اضافے کا نتیجہ[ترمیم]

جب بھی کسی ملک میں بینکوں کی طرف سے دیئے جانے والے قرضوں پر شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کی معیشت میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔ چونکہ اس سے معیشت پر منفی اثر پڑتا ہے اس لیئے کوئی بھی ملک شرح سود میں اضافہ کرنا پسند نہیں کرتا۔ معیشت میں آنے والی تبدیلیاں یہ ہیں:

  • قرض لینے کا رجحان کم ہو جاتا ہے کیونکہ قرض کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ نئی سرمائیہ کاری کم ہو جاتی ہے اور مقابلے کی فضا (competition) کم ہو جاتی ہے جس سے قیمتیں بڑھنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ خریداری (consumption) کم ہو جاتی ہے۔
  • قسطوں پر مکان یا گاڑی خریدنے کا رجحان کم ہو جاتا ہے کیونکہ اب ہر قسط پہلے سے زیادہ گراں ہو جاتی ہے۔
  • بچت کا رجحان بڑھ جاتا ہے کیونکہ بینک میں بچت کی رقم رکھنے پر اب زیادہ منافع ہوتا ہے۔ بچت کی وجہ سے بازاروں میں مال کی فروخت کم ہو جاتی ہے۔
  • ملکی کرنسی کی قیمت بڑھ جاتی ہے کیونکہ دوسرے ممالک کے لوگ اپنی بچت اب بلند شرح سود والے ملک میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ملکی کرنسی کی قیمت بڑھنے سے برآمدات میں کمی آ جاتی ہے جبکہ درآمدات بڑھ جاتی ہیں۔
  • جب بچت اور بینک ڈپازٹ بڑھتے ہیں تو زیر گردش نوٹوں کی مقدار میں کمی آتی ہے۔ افراط زر کم ہونے لگ جاتا ہے۔
  • حکومت پر واجب الادا قرضوں کی قسطیں بھی بڑھ جاتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت عوام پر ٹیکس بڑھا دیتی ہے۔
  • امیروں کو اپنی بچت پر زیادہ سود ملتا ہے اس لیئے امیر اور امیر ہو جاتا ہے جبکہ غریب پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔[1]


شرح سود میں کمی کا نتیجہ[ترمیم]

  • جب شرح سود کم ہو جاتی ہے تو ہر منچلا قرض لینے کا خواہش مند ہو جاتا ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ قرض واپس کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس طرح risky قرضے بہت بڑھ جاتے ہیں جو بینک پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
  • لوگ بینکوں سے قرض لے کر اسٹاک مارکیٹ میں لگا دیتے ہیں یا زمین خرید لیتے ہیں۔ اس سے شئیرز اور پلاٹوں کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایکنومک بلبلہ آخرکار پھٹتا ہے جس سے بینک بھی کنگال ہو جاتے ہیں۔
  • حکومت اور بڑی بڑی کارپوریشنوں کو شرح سود میں کمی سے فائیدہ ہوتا ہے کیونکہ انکے اوپر بڑے بڑے قرضے ہوتے ہیں جبکہ انکے منافع دینے والے اثاثے کم ہوتے ہیں۔ لیکن وہ ملازمین جن کو پنشن ملنی ہوتی ہے یا جن کا انشورنس کی آمدنی پر انحصار ہوتا ہے وہ شدید مشکلات سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

شرح سود کیوں بڑھانی پڑتی ہے؟[ترمیم]

  • اگر شرح سود صفر ہو تو کوئی بھی کسی کو قرض دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
  • جب حکومت زیادہ نوٹ چھاپتی ہے تو مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مہنگائی میں اضافے کے ساتھ شرح سود میں اضافہ بھی لازمی ہوتا ہے ورنہ لوگ اپنے پیسے بینکوں میں رکھنے کی بجائے کسی اور چیز کی خریداری میں لگا دیتے ہیں جسے قیمت بڑھنے کے بعد بیچ کر بینک سے زیادہ منافع کما سکیں۔ یعنی مارکیٹ کا منافع بینک کی شرح سود کو گرنے نہیں دیتا۔
  • جہاں قرض کی واپسی کے امکانات کم ہوں وہاں بینک شرح سود بڑھا دیتے ہیں جیسا کہ کریڈٹ کارڈ
  • جب سونے کی قیمت بڑھنے لگتی ہے تو اسے گرانے کے لیئے مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کر دیتے ہیں تاکہ ہارڈ کرنسی کا دور واپس نہ آ جائے۔


شرح سود کیوں گرانی پڑتی ہے؟[ترمیم]

  • جب اسٹاک مارکیٹ بہت زیادہ گر جاتی ہے تو مرکزی بینک اسے سہارا دینے کے لیئے شرح سود گرا دیتے ہیں۔ [2]

اقتباس[ترمیم]

  • سن 2007 کے وسط سے دنیا بھر میں 511 دفعہ شرح سود کم کی گئی۔
  • 36 ممالک میں حقیقی شرح سود منفی ہو چکی ہے۔
  • پچھلے 20 مہینوں میں دنیا بھر میں معیشت کو تحریک دینے کی 385 پالیسیاں بنائی گئی ہیں۔
  • پچھلے مہینے G20 ممالک میں کسی کا بھی بجٹ متوازن نہیں تھا۔
  • ریٹنگ ایجنسی Moody's نے واشنگٹن کو وارننگ دی ہے کہ اسکے قرضوں پر اعتبار دوبارہ کم کیا جا سکتا ہے۔[3]

حوالہ[ترمیم]


مزید دیکھیئے[ترمیم]