انسائڈ جوب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Inside Job
InsideJob2010Poster.jpg
Theatrical release poster
ہدایات Charles Ferguson
تخلیق Audrey Marrs
Charles Ferguson
راوی Matt Damon
موسیقی Alex Heffes
عکسبندی Svetlana Cvetko
Kalyanee Mam
ادارت Chad Beck
Adam Bolt
تقسیم کاری Sony Pictures Classics
نمائش مئی 16, 2010 (2010-05-16) (Cannes)
اکتوبر 8, 2010 (2010-10-08) (United States)
وقت دورانیہ 108 minutes
ملک سانچہ:Film US
زبان English
میزانیہ $2 million[1]
جملہ آمدن $7,871,522[2]


ان سائڈ جوب Inside Job ایک 2010 کی دستاویزی فلم ہے جو سن 2000 کے بعد کی دہائی میں ہونے والے مالیاتی بحران کے بارے میں ہے۔ اس فلم کے ہدایت کار چارلس فرگوسن Charles H. Ferguson ہیں۔ اس فلم کے بارے میں فرگوسن کا کہنا ہے کہ یہ فلم ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بینکنگ اور مالیاتی خدمات کی صنعت میں ہونے والے منظم کرپشن اور اس منظم کرپشن کے نتائج کے بارے میں ہے۔ اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بینکوں نے پالیسیوں میں تبدیلیاں کر کے مالیاتی بحران بننے میں مدد دی تھی۔ ناقدین نے اس فلم کو بے حد سراھا ہے اور اس پیچیدہ مواد پر کی گئی تحقیق و نمائش کی تعریف کی ہے۔

فلم کی نمائش مئی 2010 کے کینیز فلم فیسٹیول Cannes Film Festival میں ہوئی اور اسے 2010 کی بہترین ڈاکومنٹری فیچر کا اکیڈمی ایوارڈ ملا ۔

خلاصہ[ترمیم]

یہ دستاویزی فلم پانچ حصوں میں ہے ۔ شروع میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح آئس لینڈ میں 2000 ء میں بینکوں کو نجی تحویل میں دیا گیا اور ان پر نگرانی کم کر دی گئی ۔ جب لہمین برادرز Lehman Brothers دیوالیہ ہو گیا اور ستمبر 15 ، 2008 میں AIG زمین بوس ہو گئی تو آئس لینڈ اور باقی دنیا ایک عالمی کساد بازاری میں چلے گئے۔

حصہ اول: ہم یہاں کیسے پہنچے؟[ترمیم]

امریکی مالیاتی انڈسٹری 1940 سے 1980 تک کسی حد تک حکومتی کنٹرول میں تھی لیکن اس دوران حکومتی کنٹرول کم ہوتا چلا گیا۔ 1980 میں امریکی ٹیکس دھندگان کو ایک بچت اور قرض بحران کی قیمت تقریبا 124 بیلین ڈالر کے خسارے کی صورت میں چکانی پڑی۔
1990 کی دھائ کے آخر میں کچھ نجی مالیاتی شعبے چند دیو ہیکل فرموں میں تبدیل ہو گئے ۔ 2001 ء میں ، انٹرنیٹ اسٹاک کا بلبلہ پھٹا کیونکہ سرمایہ کار بینکوں نے ان انٹرنیٹ کمپنیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا حالانکہ بینک جانتے تھے کہ وہ کمپنیاں ناکام ہوں گی۔ اسکے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو 5 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔
1990 کی دھائ میں ڈیری ویٹو Derivatives کو انڈسٹری میں مقبول کیا گیا جس سے عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ڈیری ویٹو کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کو Commodity Futures Modernization Act of 2000 بنا کر روکا گیا۔ اس قانون کی پشت پناہی کرنے والوں میں اعلیٰ ترین حکام شامل تھے۔
2000 میں ، صنعت پر چند لوگوں کی اجارہ داری قائم ہو چکی تھی جن میں پانچ بڑے بینک (گولڈ مین سیکس Goldman Sachs، مارگن سٹینلے Morgan Stanley، لہمین برادرز Lehman Brothers، میرل لنچ Merrill Lynch، اور بیر سٹرن Bear Stearns) ، دو بڑے مالیاتی ادارے (Citigroup, JPMorgan Chase) ، تین انشورنس کمپنیاں (AIG, MBIA, AMBAC) اور تین ریٹنگ ایجنسیاں (Moody’s, Standard & Poors, Fitch) شامل تھیں۔
بینکوں نے رہن اور قرض کا عجیب و غریب پیکج بنا کر اسے Collateralized Debt Obligation کا نام دیا جسے مختصراً CDOs کہتے ہیں۔ ریٹنگ ایجنسیاں CDOs کو بہترین یعنی AAA ریٹنگ دیتی تھیں جس سے ان کی قیمت آسمان پر پہنچ جاتی تھی اور عوام انہیں بینکوں سے مہنگے داموں خرید لیتے تھے۔ کچھ ہی دنوں بعد بینکوں نے اپنے آپ کو دیوالیہ قرار دے دیا اور عوام کے اربوں ڈالر ڈوب گئے۔


حصہ دوم : بلبلہ (2001-2007)[ترمیم]

ہاؤسنگ بوم Housing Boom کے دوران ، چھوٹے بینکوں نے اپنے اثاثوں سے کہیں زیادہ رقم کے برابر قرضے لیئے۔ کریڈٹ ڈیفالٹ سواپ (credit default swap-CDS) ، ایک انشورنس پالیسی کے مشابہ تھا ۔ منافع کی امید میں سرمایہ دار ایسے CDSs بھی خرید سکتے تھے جن CDOs کی وہ ملکیت نہ رکھتے تھے ۔ متعدد CDOs "سب پرائم مارٹ گیج" subprime mortgages کی پشت پناہی پر قائم تھے ۔ گولڈ مین سیکس Goldman Sachs نے 2006 کی پہلی ششماہی کے دوران 3 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے CDOs کی فروخت کی ۔ گولڈ مین سیکس نے کم اعتبار کے CDOs میں سرمایہ کاری کر کے یہ تاثر دیا کہ یہ CDOs اعلی معیار کے تھے ۔ تینوں بڑی ریٹنگ ایجنسیوں نے مسئلہ کو اور بڑھا دیا ۔ بہترین یعنی AAA درجہ رکھنے والے مالی کاغذات کی اقسام 2000 ء میں صرف ایک مٹھی بھر تھی جو 2006 میں 4،000 سے زیادہ ہو گئی۔

حصہ سوم : مالی بحران 2007[ترمیم]

CDOs کی مارکیٹ گرنےسے سرمایہ کاری کرنے والے چھوٹے بینکوں کے اربوں ڈالر قرضوں میں پھنسے رہ گئے اور اب وہ ان CDOs اور رہن کی جائیداد سے جان نہیں چھڑا سکتے تھے ۔ اس طرح نومبر 2007 میں عظیم کساد بازاری کا آغاز ہوا اور مارچ 2008 میں Bear Stearns کنگال ہو گیا ۔ ستمبر 2008 میں ، وفاقی حکومت نے Fannie Mae اور Freddie Mac کا انتظام سنبھال لیا جو تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے ۔ دو دن بعد لہمین برادرز کا دیوالیہ ہو گیا ۔ "بیل آوٹ" ہونے سے چند دن پہلے تک ان اداروں کی ریٹنگ AA یا AAA تھی ۔ میرل لنچ جو تباہی کے کنارے پر تھا اسے بینک آف امریکہ نے خرید لیا۔ Henry Paulson اور Timothy Geithner نے فیصلہ کیا کہ لہمین برادرز کو عدالتی کاروائ کے ذریعے دیوالیہ پن حاصل کرنا چاہیئے جس کے نتیجے میں Commercial papers کی مارکٹ بری طرح گر گئی ۔ 17 ستمبر کو دیوالیہ ہونے والی AIG کو حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا ۔


اگلے دن ہنری پالسن اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین Ben Bernanke نے کانگریس سے 700 ارب ڈالر کا مطالبہ کر دیا تا کہ بینکوں کو "بیل آوٹ" کیا جا سکے ۔ عالمی مالیاتی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ۔ 3 اکتوبر 2008 ء کو صدر بش نے Troubled Asset Releif Program پر دستخط کئے لیکن عالمی اسٹاک مارکیٹ کا گرنا جاری رہا ۔ امریکہ اور یورپی یونین میں بے روزگاری 10 فیصد تک جا پہنچی ۔ دسمبر 2008 تک گاڑیاں بنانے والی دو مشہور فیکٹریاں جنرل موٹرز اور کرسلر کو بھی دیوالیہ پن کا سامنا کرنا پڑا ۔ امریکہ میں قرضوں کا قبل از وقت انہدام (Foreclosures) غیر معمولی سطح تک پہنچ گیا ۔


2008 میں پانچ بڑے بینک ڈوبے۔ گولڈ مین سیکس Goldman Sachs اور مارگن سٹینلے Morgan Stanley کو حکومت امریکہ نے بیل آوٹ کیا، لہمین برادرز Lehman Brothers نے عدالت سے دیوالیہ پن حاصل کیا، میرل لنچ Merrill Lynch، اور بیر سٹرن Bear Stearns کو اونے پونے داموں بیچ دیا گیا۔ ان اداروں پر کل ملا کر 4000 ارب ڈالر کے قرضے تھے۔


حصہ چہارم : احتساب[ترمیم]

حیرت کی بات یہ ہے کہ دیوالیا ہونے والی کمپنیوں کے ایگزیکیٹوز کو نہ ہی کوئ نقصان ہوا نہ سزا، بلکہ ان ایگزیکیٹوز اور انکے من پسند ڈائریکٹرز کو اربوں ڈالر بونس ملا ۔ بڑے بینکوں کے اقتدار میں مزید اضافہ ہوا اور اصلاحات کے خلاف انکی کوششیں دوگنی ہو گئیں ۔ پچھلی کئی دہائیوں سے تعلیمی ماہرین اقتصادیات کو ڈی ریگولیشن کرنے کی وکالت کیا کرتے تھے اور وہ 2008 کے بحران کے بعد بھی اصلاحات کی مخالفت کرتے رہے۔

حصہ پنجم: اب ہم کہاں ہیں[ترمیم]

ہزاروں امریکی فیکٹری کے کارکنوں کو فارغ کر دیا گیا ۔ نئی اوبامہ انتظامیہ کی مالی اصلاحات کو کمزور کر دیا گیا اور ریٹنگ ایجنسیوں کو کنٹرول کرنے کا کوئ قانون نہیں بنایا گیا ۔ ایگزیکیٹو افسران کا معاوضہ کتنا ہونا چاہیئے اس بارے میں کوئی قابل ذکر ریگولیشن زیر غور نہیں ہے۔ Geithner وزیر خزانہ بن گئے ۔ Feldstein, Tyson اور Summers اوباما کے اعلیٰ ترین اقتصادی مشیر بنے رہے۔ ۔ Bernanke کو دوبارہ فیڈرل ریزرو کا چیئر مین بنا دیا گیا ۔
یورپی ممالک نے بینک کے معاوضوں پر سخت قانون نافذ کر دیئے ہیں لیکن امریکہ نے ان کے خلاف سخت مزاحمت کی ہے ۔


مزید دیکھیئے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

حوالے[ترمیم]

  1. ^ (March 2, 2011). "Adam Lashinsky interviews Charles Ferguson regarding 'Inside Job' at the Commonwealth Club" یوٹیوب پر. YouTube. Retrieved March 22, 2011.
  2. ^ "Inside Job (2010)". Box Office Mojo. انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس. Retrieved October 25, 2011.