فلم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ایک 16 م۔م۔ کا ایچ-16 عکاسہ، جو عام طور پر فلمی اسکولوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔

فلم (film)، جسے مووی (movie) یا متحرک تصویر (motion picture) بھی کہا جاتا ہے، ساکت تصاویر کا ایسا سلسلہ ہوتا ہے جو پردے (اسکرین) پر یوں دکھایا جاتا ہے کہ اس پر متحرک ہونے کا دھوکا ہوتا ہے۔ مختلف اشیا کو تسلسل کے ساتھ تیز رفتاری سے دکھائے جانے کے باعث یہ بصری دھوکا ناظرین کو احساس دلاتا ہے کہ وہ مسلسل متحرک اشیا دیکھ رہے ہیں۔ ایک موشن پکچر کیمرے کے ذریعے اصل مناظر کی عکس بندی کرکے فلم تخلیق کی جاتی ہے۔ موشن پکچرے کیمرے کے ذریعے اصل مناظر کی عکس بندی؛ تصاویر یا روایتی اینیمیشن تکنیکیں استعمال کرتے ہوئے چھوٹی شبیہوں کی عکس بندی؛ سی جی آئی اور کمپیوٹر اینیمیشن کے ذریعے؛ یا ان میں سے بعض یا تمام تر تکنیکیوں اور دیگر بصری اثرات (visual effects) استعمال کرتے ہوئے فلم تخلیق کی جاتی ہے۔ لفظ ’’سینما‘‘ (cinema) عمومماً فلم اور فلم سازی یا فنِ فلم سازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سینما کی رائج تعریف کے مطابق یہ خیالات، کہانیاں، احساسات، جذبات، خوب صورتی یا ماحول کے ابلاغ کے تجربات کی نقل پیش کرنے کا فن ہے۔[1]

فلم سازی کا عمل فن بھی ہے اور صنعت بھی۔ ابتدا میں فلمیں پلاسٹک جھلی پر نقش کی جاتی تھیں جنھیں مووی پروجیکٹر کے ذریعے بڑے پردے پر دکھایا جاتا تھا (بہ الفاظِ دیگر، اینالوگ ریکارڈنگ عمل)۔ سی جی آئی پر مبنی خصوصی اثرات کے استعمال سے فلم تخلیق کیے جانے کے ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کی طرف پیش رفت ہوئی۔ اب عصرِ حاضر کی زیادہ تر فلمیں پروڈکشن، تقسیم، اور نمائش، گویا آغاز سے لے کر انجام تک، مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوتی ہیں۔

فلمیں مخصوص ثقافت کے تحت تخلیق کی جاتی ہیں اور وہ ان ثقافتوں کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اُن پر اثر انداز بھی ہوتی ہیں۔ موجودہ دور میں فلم کو فن کی ایک اہم شکل تصور کیے جانے کے ساتھ ساتھ، تفریح کا مقبول ذریعہ، اور تعلیم و شعور پھیلانے کا مضبوط ترین ذریعۂ ابلاغ مانا جاتا ہے۔ بصری صورت میں پیش کیے جانے کے باعث فلم ایک کائناتی ابلاغ کا ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ بعض فلمیں اپنے مکالموں کے مختلف زبانوں میں منتقل کیے جانے (ڈبنگ) یا مکالموں کا ترجمہ ناظرین کی زبان میں سب ٹائٹل کی صورت میں پیش کیے جانے کے باعث دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرتی ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے فلمی صنعت پر تشدد کی ترویج،[2] اور عورتوں کے جنسی پہلو کو اجاگر کیے جانے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔[3] [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ آندرے سیورنے (5 ستمبر 2013ء)، "The Movie Theater of the Future Will Be In Your Mind [مستقبل کا مووی تھیٹر آپ کے ذہن میں ہوگا]" (انگریزی میں)، ٹرائبیکا فلم، http://tribecafilm.com/future-of-film/future-of-the-movie-theater-is-in-your-mind۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جنوری 2015ء
  2. ^ Media, Sex, Violence, and Drugs in the Global Village [عالمی گاؤں میں میڈیا، سیکس، تشدد اور منشیات] - صفحہ 51، کلدیب آر رامپال - 2001ء
  3. ^ ریچل سائمنز (16 اپریل 2011ء)، "The Astonishing Sexism of Hollywood and What it Means for Girls [ہالی ووڈ کا عجوبہ سیکس ازم اور لڑکیوں کے لیے اس کی اہمیت]" (انگریزی میں)، ریچل سائمنز ڈاٹ کام، http://www.rachelsimmons.com/2011/04/the-astonishing-sexism-of-hollywood-and-what-it-means-for-girls/۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جنوری 2015ء
  4. ^ الیگزینڈرا سی کوف مین، برینٹ لینگ (22 جنوری 2013ء)، "Sexist Hollywood?: Women Still Struggle to Find Film Jobs, Study Finds [سیکسی ترین ہالی ووڈ؟ خواتین اب بھی فلمی ملازمتیں تلاش کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں، تحقیق کے نتائج]" (انگریزی میں)، دی ریب ڈاٹ کام، http://www.thewrap.com/music/article/sexist-hollywood-women-still-struggle-find-film-jobs-study-finds-74076/۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جنوری 2015ء

بیرونی روابط[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=فلم&oldid=1122744’’ مستعادہ منجانب