افراط زر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

افراط زر (Inflation) زری معاشیات کی اہم اصطلاح ہے۔ تعریف کے مطابق کسی معیشت میں موجود اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی شرح کو افراط زر کہتے ہیں۔ افراط زر میں مسلسل اضافہ کا رجحان مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ تاہم ہر معیشت میں کم و بیش افراط زر کی موجودگی قدرتی امر ہے ۔ یہ اوسطاً 5 سے 6 فیصد سالانہ رہتا ہے۔ تاہم دیوالیہ معیشتوں میں افراط زر ہزار فیصد سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ اسکو معقول حدود میں رکھنا مرکزی بینک کا بنیادی وظیفہ ہے۔
افراط زر کی بنیادی وجہ حکومت کا اپنی آمدنی بڑھانے کے لیئے زیادہ نوٹ چھاپنا ہے۔

تفریق زر سے افراط زر[ترمیم]

گزشتہ صدیوں میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ صرف انیسویں صدی اس سے مستثنیٰ ہے۔ کیوں کہ یہ انقلاب کی صدی تھی اس صدی میں مختلف ایجادات و انکشافات کی بدولت پیداوار میں اضافہ اور قیمتو ں میں شدید کمی ہوئی تھی اور یہی وجہ ہے بیسویں صدی کے اوائل سے ہی پوری دنیا کسادبازاری کا شکار ہوگئی۔ دنیا نے اس کسادبازاری سے نکلنے کے لیے دو جنگ عظیم لڑیں۔

ایم۔ ایچ ڈیکاک M H Dekok اپنی کتاب مرکزی بینکاری Centrl Banking میں لکھتا ہے کہ 1929 سے 1938 کے آخر تک برطانیہ، کنیڈا، آسٹریلیا اور ارجیٹینا کے علاوہ ہر ملک میں دوران گردش کرنسی میں تقریبأئ 90 فیصد اضافہ ہوا، برطانیہ عظمیٰ میں یہ اضافہ تقریبأئ 35 فیصد رہا۔

1938 کے آخر سے 1944 کے اختتام کا زمانہ جنگ کازمانہ تھا۔1944 کے اختتام پر ریاستہائے متحدہ میں دوران گردش نوٹوں کی تعداد 1929 کے مقابلہ میں دوران گردش نوٹوں کی تعداد سے 900 فیصد، برطانیہ میں 300 فیصد، جرمنی میں 960 فیصد، فرانس میں 850 فیصد، کنیڈا میں 570 فیصد، آسٹریلیا میں 500 فیصد، جنوبی افریقہ میں 670 فیصد، سوئیڈن میں 440 فیصد، سوئزر لینڈ میں 360 فیصد، ارجنٹینا میں 190 فیصد اور چلی میں 740 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

غیر جانب دارممالک میں نوٹوں کی گردش میں اضافہ کا باعث وہ موافق توازن تجارت تھا، جو محارب ملکوں کے متوازن سے پیدا ہوا تھا۔ محارب ملکوں میں جنگ کے اخراجات کا بڑا حصہ جنگی قرضوں سے پورا ہوا تھا۔ ان جنگی قرضوں کا اجرا نہیں ہوتا تو محارب ملکوں میں جنگ کے اختتام پر دوران گردش نوٹوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی۔ 1929 سے1933 کا زمانہ شدید کسادبازاری اور بیکاریUnemplyment کا زمانہ تھا۔ اس کسادبازاری کے دور میں قرض کو سہل الحصول بنانے کے لیے دوران گردش زر کے اضافے کے ساتھ ساتھ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور برطانیہ میں مرکزی بینک کی شرح سود بھی گھٹادی گئی تھی، لیکن سرمایا کار اس ارزاں مالی پالیسی کے باوجود کوئی فائدہ نہیں اٹھارہے تھے۔

گردش زر کی اس کثرت کے باعث رسد زر Money Supply پرقابو پانے کے عام زرائع اور مرکزی بینک کی شرح کٹوتی کی کارستانی غیر موثرہو کر رہ گئی۔ ڈیکاک Dekok مزید لکھتا ہے کہ تقریبأئ 1933 سے مرکزی بینک کی شرح کٹوتی کی کارستانی کے زوال کا اصلی سبب قریب قریب ہر ملک میں زر کی سیالی کیفیت کا وجود رہا ہے جس کے اسباب مختصر طور پر حسب ذیل ہیں۔

  • (۱) تمام ممالک میں محفوظ سونے کی دوبارہ قیمت بندی۔ جس کا تعلق کم و بیش سابقہ مساوات زر طلائی کے پیش نظر ان ممالک کے سکہ کی قیمت گھٹ جانے سے ہوا ہے یا نئے سونے کی بہت زیادہ بڑھی ہوئی

قیمتوں کے مد نظر سونے کی مجموعی قیمت میں غیر معمولی بیشی مقدار زر میں اضافہ باعث ہوئی ہے۔

  • (۲) ریاستہائے متحدہ امریکہ، سوئیڈن، سوئزرلینڈ، پرتگال، انڈیا، ارجنٹینا، اور جنوبی افریقہ، جیسے ممالک کی صورت میں زیر تبصرہ سالوں میں موافق توازن اد ائیگی بہ حیثیت مجموعی اس کا باعث ہوئی ہے۔
  • (۳) مرکزی بینکوں کا بلواسطہ یا بلاواسطہ افزائش زر جو انہوں نے حکومت کے ایما پر یا دوسرے مقاصد کے پیش نظر جنگ سے پہلے اور بعد جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کیا۔

بالخصوص ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ان تمام اسباب نے زیر بحث زمانے میں ایک ساتھ مل کر اثر ڈالا۔ جب کہ جرمنی میں تیسرا سبب اس تمام مدت میں بنیادی حیثیت سے کار فرما رہا برطانیہ عظمیٰ میں بھی تینوں اسباب کسی وقت اثر انداز ہوتے رہے، لیکن یہ آخری یعنی تیسرا سبب تھا جس نے بازار زر کو مسلسل طور پر متاثر کیا۔

ڈیکاک Dekok مزید لکھتا ہے کہ عامۃ الناس کے فائدے کے لیے منظم کرنسی کی ترویج اور سہل الحصول Cheap Money کی برقراری کے مد نظر بہت سے اشخاص کو کینزKeynes کے اس نظریہ سے متفق ہونا پڑا کہ مرکزی بینک کی شرح کٹوتی سود کو تنظیم زر کا متروک یا غیر مستعمل آلہ سمجھنا چاہیے۔

کینز Keynes کے پیش کردہ نظریہ ترجیح سیال کا گرم با زاری کا پہلو برطانیہ میں 47۔ 1945 میں پایا ثبوت کو پہنچا۔ 1945 میں انگلینڈ کے مرکزی بینک کی مروجہ شرح 3 فیصد تھی، اس کو گھٹا کر ڈھائی فیصد کردیا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا اور دوسری جنگ عظیم کو ختم ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا، اس لئے ہر چیز کی کمی تھی اور سرمایا کاری کا زرین موقع تھا، کینز Keynes کے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’اختتامی کارکردگی اصل‘ Marginal Efficiency of Capital بڑھ گئی تھی۔ سرمایا کار اپنا سرمایا لگانے کو تیار بیٹھے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اختتامی کارکردگی میں اضافہ کے باعث زیادہ شرح سودپر سرمایادار قرض لینے پر بھی مائل تھے۔ ان کے پاس سرکاری کفالتیں بھی تھیں، اگر انگلینڈ کا مرکزی بینک شرح کٹوتی میں اضافہ کردیتا تو سرمایاکار نقصان کے خوف سے کفالتیں نہیں بھناتے اور نہ تجارتی بینکوں کے پاس قرض کی خاطر جاتے۔ لیکن بینک آف انگلینڈ نے شرح سود گھٹا کر ڈھائی فیصد کردی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن اشخاص کے پاس سرکاری کفالتیں تھیں، انہوں نے یا تو وہ فروخت کردیں یا تو ان کو بھنالیا۔ کیوں کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کفالتوں کے پیسے سے کوئی کارو بار کریں، کیوں کہ گرم بازاری کا دور تھا اور اختتامی کارکردگی بڑھی ہوئی تھی۔ اس طرح بینک آف انگلینڈ کو ایک سال سے کچھ زیادہ مدت میں 90 کروڑ پونڈ اسٹرلنگ بازار زر میں لانے پڑے۔ لیکن بازارکے جذبات نہیں سرد ہوئے اور آخر کار بینک آف انگلنیڈ کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ بینک آف انگلینڈ کی شرح سود پھر ۳ فیصد بلکہ اس سے زیادہ ہوگئی۔ یہ ایک طرف بینک آف انگلینڈ کی حکمت عملی کی ناکامی تھی، دوسری طرف کینز Keynes کے نظریہ ترجیح سیال کی کامیابی کا ثبوت تھا۔

آر ایس سیرز R S sayers اپنی کتاب جدید بینکاری Modern Banking میں لکھتا ہے کہ 47۔ 1945 میں یہ بات نہیں تھی کہ حکام شرح سود گھٹانے میں عجلت کررہے تھے۔ جو کے ان حالات میں گھٹنے والی تھی اور یہ احساس کہ سرکاری پالیسی معاشیات کے وقتی تقاضوں کے منافی تھی، افراط زر کے ظہور کا باعث ہوا، جس کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا یا اس کوشش میں سارا مالیاتی نظام Monetary System بدنام ہوکررہ گیا۔

بڑے پیمانے پر تخلیق زر کی یہ کوششیں جو تمام بڑے ملکوں کی حکومتوں نے اختیار کیں، تجارتی بینکوں کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ بن گیئں۔ سرمایا کار ان سے قرض لینے نہیں آرہے تھے۔ آر۔ ایس۔ سیرز R S sayers اپنی کتاب’متحرک اقتصادیات کی راہ پر‘Towards Dynamic Ecnomice میں لکھتا ہے کہ موجودہ صدی میں خصوصا 1920 سے بینک کاری کے اعداد شمار کی ایک خصوصیت (کرنسی کی گھٹتی ہوئی قیمت کو ملحوظ رکھ کر) بینک کے قرضوں میں نشیبی کا رجحان رہا ہے۔ اس تحریک کے نتائج اتنے دور رس ہیں کہ ان پر خصوصی بحث کی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف انگلینڈ بلکہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور کنیڈا میں بھی بہت نمایاں ہے اور اس کا اثر کافی سنگین ہے۔ جب کہ بینکاری کے دوسرے نظام بھی کم و بیش اسی تجربہ سے دوچارہیں۔

توسیع زر اور التباس زر[ترمیم]

پروفیسر ہن سن Per Hansen اپنی کتاب ’مالی نظریہ اور مالیاتی پالیسی‘Monetary Theory and Fiscal Policy میں لکھتا ہے جب آپ زیادہ قومی آمدنی اور کامل روز گار کے خیال سے اپنی معیشت کی ترقی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ تب آپ کو رسد زر یا مقدار زر میں اضافہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کو نوٹوں کے جاری کرنے کے موجودہ طریقہ کار میں مرکزی بینک کو حامل سود کفالتیں دیتی ہے کہ نوٹ چھاپے جائیں اور جب مرکزی بینک یہ محسوس کرتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ نوٹ گردش کررہے ہیں تو وہ نوٹوں کی واپسی کے لیے مرکزی بینک سرکاری کفالتیں تجارتی بینکوں کو فروخت کردیتا ہے۔

ہن سن Hansenکا کہنا ہے کہ ’یہ درست ہے ہم اپنے مالی اداروں کو کلی طور پر بدل سکتے تھے، ہم پرانے طریق کار کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔ جب کہ حکومت بغیر اپنی کفالت کے خودکاغذی نوٹ چھاپتی تھی۔ جدید بادی النظر میں معقول طریقہ سرکاری کفالتوں کی بنا پر مرکزی بینک کی طرف سے کاغذی نوٹ چھاپتا ہے۔ وفاقی محفوظ بینک (امریکہ کا مرکزی نظام بینکاری) سرکاری کفالتیں بازار سے خرید کرلوگوں کے پاس نوٹوں کی تعداد یا بینکوں کے پاس نقد روپیہ بڑھا سکتا ہے۔ یہ سرکاری کفالتیں بغیر سود کے ہونا چاہیے۔ اس طریق کار میں بمقابلہ دوران جنگ کے مروجہ تقلیدی طریقہ کار کے جس میں وفاقی بینک اور تجارتی بینک دونوں نے سرکاری کفالتوں کی خریداری میں حصہ لیا تھا، کچھ اچھائیاں اور بہت سی برائیاں ہیں‘۔ نوٹوں کی کفالت کے لیے ہن سن Hansen حامل سودی کفالتوں کے بجائے غیر حامل سودی کفالتوں کے رواج کے حق میں ہے، لیکن وہ کچھ برائیوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہ برائیاں ملک میں مقدار زر کے بڑھ جانے سے پیدا ہوتی ہیں۔ جب آپ کے ملک میں مقدار زر بڑھ جائے تو آپ کس طرح روپیہ واپس لائیں گے۔

ہاٹرے Hawtrey اپنی کتاب کرنسی اور ادھار Currency and Credit میں لکھتا ہے کہ ’جب مرکزی بینک ہی رائج الوقت سکہ کا واحدذریعہ ہے تو یہ رسد زر کو اس طرح کم کرسکتا ہے کہ قرض دینے سے صاف انکار کردے۔ لیکن تجربہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ صاف انکار کرنا نہایت سخت روئیہ ہے، اس لیے یہ تخفیف زر کا معقول ذریعہ نہیں بن سکتا ہے۔ شرح مرکزی بینک کی حکمت عملی زیادہ شرح سود طلب کرکے صاف انکار کا ایک نعم البدل ہو سکتی ہے اور یہ شرح سود وقت کے تقاضے کے مطابق کم وبیش کی جاسکتی ہے‘۔ اس کا آج کل کے زمانے میں بھی یہ خیال ہے کہ شرح مرکزی بینک ہی روپیہ کو بازار کھنچنے کا موثر طریقہ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ التباض زر اتنا ضروری ہے جتناکہ توسیع زر، توسیع زر کا خطرہ دائمی ہے، لہذا قبل اس کے یہ خطرہ مہلک صورت اختیار کرلے التباض زر ضروری ہے۔

پروفیسر ہن سن Hansen Pro جیک وائیر Jacob Viner کے ایک مضمون ’کیا ہم افراط زر کو روک سکتے ہیں Can we chech inflation ’جو پیل یونیور سٹی‘ کے پیل ریویو میں شائع ہوا تھا لکھتا ہے کہ اپنی دستوری روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسا طریقہ کار تلاش کرنا چاہیے، جو صیضہ منتظمہ کو اس بات کا مجاز کرے کہ وہ کانگریس کے تفویض شدہ خصوصی اختیارات کے تحت فوری فیصلے و اقدامات کرسکے۔ اس پروگرام کے دستوری اجزائے ترکیبی پر تفصیلی روشنی ڈالنے کا یہ موقع نہیں ہے، لیکن جن باتوں پر زور دینا چاہتا ہوں۔ ان میں کانگریس کے وضع کردہ اصول کی مطابقت سے صدر کو شرح محصول میں تغیر کرنے کا اختیار تمیزی حاصل ہونا اور وسیع اساس پر بینکوں کے افزائش زر کے اختیار کو منضبط کرنے کے لیے وفاقی محفوظ بینک کے افسروں Federal Reserve Authorities کے اختیارات میں توسیع کرنا ہیں۔ اس نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے پرفیسر ہن سن لکھتا ہے ’جس طرح کانگریس نے (قانونی حدود کے اندر) منتظمہ کو محصول درآمد برآمد کے رد وبدل کا اختیار دیا ہے اور جس طرح کانگریس نے قانون وفاقی محفوظ بینک کے تحت جو مالی افسران کو (مقنہ کی حدود کے اندر) بینکوں کے محفوظ تناسب کو گھٹانے بڑھانے کے اختیارات دیئے ہیں، اسی طرح یہ بہت ضروری ہے کہ کانگریس کی حدود متعینہ کے اندر منتظمہ کو شرح انکم ٹیکس کے رد وبدل کا اختیار دیا جائے‘۔

بادی النظر میں ٹیکس کے ذریعے افراط زرکو قابو میں رکھنا ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ ٹیکس مالیاتی پالیسی کا اہم جز ہیں اور حکومت ان کی وصولی سے ہی اپنے اخراجات پورے کرتی ہے۔ مگر یہ حقیقت پیش نظررکھنی چاہیے کہ ٹیکس صرف حکومتی اخرجات پورے کرنے کے لیے نہیں لگائے جاتے ہیں۔ بلکہ کسی بھی حکومت کی مالیاتی پالیسی میں دوسرے مقاصد بھی کار فرما ہوتے ہیں۔ خاص کر کسی معاشرے کی ضروریات اور سیاسی محرکات شامل ہوتے ہیں۔جس میں معاشرے کے کسی خاص طبقے یا کسی خاص علاقے کے علاوہ کسی خاص صنعت یا سرپرستی یا کسی خاص اشیاء پرکنٹرول کے لیے بھی خاص ٹیکس شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح بیرونی تجارت میں برآمد کے لیے خاص چھوٹ دی جاتی ہے کہ برآمد کی حوصلہ افزائی ہو، یا بعض اشیاء کی بیرون ملک برآمد کو رکنے کے لیے ان پر ٹیکس میں اضافہ کردیا جاتا ہے کہ ان کی برآمد شکنی ہو اور ملک کے اندر ان کی قلت نہ ہو۔ اس طرح درآمد پر بھی کسی چیز کی قلت کے پیش نظر اس کو چھوٹ دی جاتی ہے۔ گویا حکومت ٹیکسوں کے زریعے صرف اپنے اخراجات ہی نہیں برداشت کرتی ہے، بلکہ اس کے زریعے معاشیات کو بھی کنٹرول کرتی ہے۔

اگرچہ چند ٹیکس جن میں انکم ٹیکس ا ور پراپرٹی ٹیکس شامل ہیں،جو ادائیگی کرنے والے خاص طبقے پر اثر انداز ہوتے ہیں کے علاوہ اکثر ٹیکس ان اشیاء یا صنعتوں پر لگائے جاتے ہیں جن کا اثر معاشرے کے تمام طبقوں پرپڑھتا ہے یا جو ان اشیاء یا خدمات کو استعمال میں لاتے ہیں۔ اس طرح یہ برائے راست ان کی آمدنیوں پر اثر ہوتے ہیں۔ جب کہ ہمارے عوام کی اکثر یت کم آمدنی سے گزارا کر رہی ہے۔ اس لیے کسی ٹیکس کے نفاذ سے پہلے ان تمام عوامل اور محرکات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ پھر اہم بات یہ ہے کہ کسی ٹیکس کے نفاذ صرف مالیاتی عوامل در پیش نہیں ہوتے، بلکہ اس کا مقصد کسی صنعت کی سرپرستی اور تحفظ بھی ہوتا ہے۔

موجودہ دور میں معاشیات کل بہت اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ کسی بھی ملک کو معا شی ترقی دینے یا افراد کی خوشحالی میں اضافہ کرنے کے لئے اجتماعی مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس کے لئے ملک میں موجودہ ذرائع کو استعمال کیا جانا چاہیے، تاکہ قومی آمدنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاسکے۔ قومی آمدنی مراد ان تمام اشیاء و خدمات کی مالیتوں کا مجموعہ ہے جو کسی ملک میں ایک سال میں پیدا کی جائیں۔ اس لئے قومی آمدنی کو زر کی صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ زر کی مددسے ہی تمام اشیاء و خدمات کی قدر کو ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ قومی آمدنی میں اضافہ ہو جانے کی صورت میں زر کی رسد کو بڑھایا جاسکتا ہے، تاکہ زر کی مدد سے اشیاء پیدائش خریدی جاسکیں۔ اس طرح زر کی رسد بڑھانے سے سرمایاکاری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح قومی آمدنی میں اضافہ ہوجاتا ہے، گویا زر کا قومی آمدنی سے گہرا تعلق ہے۔ ملک میں افراط زر ہو تو زر کی رسد کم کرکے اور تفریق زر کی صورت میں رسد زر کو بڑھا کر ملک کے معاشی استحکام کو قائم رکھا جاسکتا ہے۔ کسی بھی ملک میں زر مرکزی بینک یا حکومت کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے۔ مرکزی بینک اپنی زری پالیسی کے تحت اقدامات کرتا ہے اور اس کے مطابق زر کی رسد کو کنٹرول کرکے معاشی اتارچڑھاؤ کو کم کرسکتاہے۔

ملک میں مالیاتی پالیسی کے تحت حکومت ملک میں استحکام کی خاطر سرکاری خرچ و ٹیکس کے متعلق اقدامات کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف ملک کو معاشی استحکام حاصل ہوتا ہے بلکہ قومی آمدنی بڑھتی ہے اور لوگوں کو روزگار emplyment بھی ملتا ہے۔

ماخذ نصیر احمد شیخ اسلامی دستور اور اسلامی اقتصادیات کے چند پہلو۔ ۹۵۹۱؁ء نصیر احمد شیخ میکلوڈ روڈ کراچی BOOK OF ECONOMIC & THEORRY . SIONIER & HAGUE

مزید دیکھیئے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]