نائجیریا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


Federal Republic of Nigeria
Jamhuriyar Tarayyar Nijeriya
وفاقی جمہوریہ نائجیریا
نائجیریا کا پرچم [[Image:|110px|نائجیریا کا قومی نشان]]
پرچم قومی نشان
شعار: Unity and Faith, Peace and Progress
(اتحاد و ایمان، امن و ترقی)
ترانہ: Arise O Compatriots, Nigeria’s Call Obey
نائجیریا کا محل وقوع
دارالحکومت ابوجا
عظیم ترین شہر لاگوس
دفتری زبان(یں) انگریزی
نظامِ حکومت
صدر
جمہوریہ (صدارتی نظام)
عمارو یارادو
آزادی
- تاریخِ آزادی
جمہوریہ
برطانیہ سے
یکم اکتوبر 1960ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
923768  مربع کلومیٹر (32)
356669 مربع میل
1.4
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - 2006 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
148,093,000 (8)
140003542
142 فی مربع کلومیٹر(74)
368 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

294.8 ارب بین الاقوامی ڈالر (38 واں)
2200 بین الاقوامی ڈالر (139 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.47
(158) – پست
سکہ رائج الوقت نائرا (NGN)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مغربی افریقی وقت
(یو۔ٹی۔سی۔ 1)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 1)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.ng
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+234

تاریخ[ترمیم]

نائیجیریا مغربی افریقہ میں واقع ایک اسلامی ملک ہے او اس کا دارالحکومت ابوجا ہے اور بڑا شہر لاگوس ہے۔ صحارا کے آرپار، قافلوں کیلئے موجود راستوں نے نائیجیریا کو شمال کی تاریخی تہذیبوں سے منسلک رکھا تجارت کے علاوہ یہ راستے شمال میں موجود مسلم تہذیب سے نظریات، مذہب اور ثقافت بھی لیکر آئے اس طرح اسلام 8 ویں صدی میں شمالی نائیجیریا میں داخل ہوا۔ 486ء میں پرتگیزیوں کے ایک دورے کے بعد بینن، یورپ اور یوروبلاند کے مابین تجارت کیلئے ذخیرہ گاہ بن گیا۔ 1804ء میں ایک فولانی مسلم مفکر اور ولی الله، مشہور کتاب ”احیائالسناة“ کے مصنف عثمان دان فودیو سلطان بنے اور ان کا علم اٹھانے والے فولانی ریاستوں کے سربراہ بن گئے جن کی نسلیں آج بھی موجود ہیں۔


آزادی[ترمیم]

برطانویوں نے 1553ء میں بینن کا دورہ کیا اور وہ بھی غلاموں کی تجارت میں ملوث ہوگئے یہاں تک کہ 1807ء میں اسے غیرقانونی قرار دے دیاگیا۔ 1861ء تک برطانیہ نے لاگوس کے جزیرے کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا تھا اور تبلیغی و تجارتی سرگرمیاں لاگوس سے نائیجیریا کے ساتھ ساتھ اندرونی علاقوں تک پھیل گئی تھیں۔ برطانیہ نے فولانی امراء کو اپنی سرپرستی میں آجانے کا لالچ دیا جنہیں مشرق میں جرمنی اور مغرب میں فرانس کی دھمکیوں کا سامنا تھا یکم جنوری 1900ء کو برطانیہ نے شمالی نائیجیریا کی سرپرست حکومت ہونے کا اعلان کردیا اور وہاں ایک ہائی کمشنر کو متعین کیا۔ کانو اور سوکوٹو پر 1903ء میں قبضہ کرلیاگیا مگر برونو پر 1906ء تک کنٹرول حاصل نہ کیا جاسکا۔ عوام میں سیاسی شعور بیدار ہونے کے نتیجے میں 1922ء میں مشاورتی کونسل ختم کرکے قانون ساز کونسل قائم کی گئی۔ 1951ء میں ایک آئین پیش کیا گیا جس نے ایک نیم ذمہ دار حکومت اور علاقائی خود مختاری فراہم کی مگر یہ تجربہ 1953ء میں ناکام ہوگیا۔ اسی سال فریقین کے مابین ایک اور معاہدہ طے پایا جس نے زائد علاقائی خود مختاری کے مطالبے کو جنم دیا۔ نائیجیریا کی آزا دی اور برطانوی افسران کے اخراج کا مطالبہ 1959ء میں کیاگیا جس کے نتیجے میں الحاجی ابوبکر طفاوا بلیوا کو ایک قومی کابینہ کے ساتھ وزیراعظم مقرر کیاگیا۔ نائیجیریا دولت مشترکہ میں رہتے ہوئے یکم اکتوبر 1960ء کو ایک آزا د ریاست اور یکم اکتوبر 1963ء کو وفاقی جمہوریہ بن گیا۔


بیرونی روابط[ترمیم]

نائجیریا کی تاریخ