دولت مشترکہ ممالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دولت مشترکہ ممالک
Flag of the Commonwealth of Nations
دولتِ مشترکہ      موجودہ اراکین      معطل شدہ اراکین      سابقہ اراکین      اراکین پر منحصر علاقہ جات       اراکین     اینٹیگوا و باربوڈا ، آسٹریلیا ،بہاماس ، بنگلہ دیش ،بارباڈوس ، بیلیز ،بوٹسوانا ، برونائی ،کیمرون ، کینیڈا ،سائپرس ، ڈومینیکا ،گیمبیا ، گھانا ،گریناڈا ، گیانا ،بھارت ، جمیکا ،کینیا ، کیریباتی ،لیسوتھو ، ملاوی ،ملائشیا ، مالدیپ ،مالٹا ، موریشس ،موزمبیق ، نمیبیا ،ناورو ، نیوزی لینڈ ،نائجیریا ، پاکستان,پاپوا نیو گنی ، روانڈا ،سینٹ کیٹز ، سینٹ لوسیاسینٹ وینسینٹ و گریناڈائنز ، سمواسیچیلیس ، سیرالیون ،سنگاپور ، جزائر سلیمان ،جنوبی افریقہ ، سری لنکا ،سوازی لینڈ ، تنزانیہ ،ٹونگا ، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو ،ٹووالو ، یوگنڈا ،مملکت متحدہ ، وانواتو ،زیمبیا       معطّل شدہ اراکین     فجی       سابقہ اراکین     آئرلینڈزمبابوے
دولتِ مشترکہ
     موجودہ اراکین      معطل شدہ اراکین      سابقہ اراکین      اراکین پر منحصر علاقہ جات


صدر دفاتر مرلبورو ہاؤس ، لندن ، مملکتِ متحدہ
دفتری زبان انگریزی
سربراہان
 -  دولت مشترکہ کا صدر ملکہ ایلیزبیتھ دوم
(since 6 February 1952)
 -  معتمد عام کملیش شرما
(since 1 اپریل 2008)
 -  سربراہ دفتر جولیا گلارڈ
(since 28 اکتوبر 2011)
اشاعت
 -  Balfour Declaration 18 نومبر 1926 
 -  Statute of Westminster 11 دسمبر 1931 
 -  London Declaration 28 اپریل 1949 
رقبہ
 -  Total 31,462,574 km2 
12,147,768 sq mi 
آبادی
 -  2005 estimate 2,100,000,000 
 -  Density 61.09/km2 
158.2/sq mi
موقعِ حبالہ
thecommonwealth.org



رکن ممالک

اقوام کی دولت مشترکہ ان ملکوں کی تنظیم ہے جو نو آبادیاتی دور میں برطانیہ کی غلامی میں رہے ہیں۔ یہ تنظیم 1926ء میں اس وقت قائم ہوئی جب سلطنت برطانیہ کا زوال شروع ہوا۔ اس تنظیم کے 53 رکن ممالک ہیں جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر دولت مشترکہ بھی موجود ہیں جن میں آسٹریلیا کی دولت مشترکہ اور آزاد ممالک کی دولت مشترکہ شامل ہیں لیکن اقوام کی دولت مشترکہ ایک الگ تنظیم ہے۔


اقوام کی دولت مشترکہ کی اصطلاح 1884ء میں لارڈ روزبیری کے دورۂ آسٹریلیا کے موقع پر وجود میں آئی۔ دولت مشترکہ سیاسی تنظیم نہیں۔ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم دولت مشترکہ کی سربراہ ہیں جبکہ تنظیمی معاملات معتمد عام (سیکرٹری جنرل) دیکھتا ہے تاہم یہ واضح رہے کہ ملکہ برطانیہ یا معتمد عام کا کسی رکن ملک یا اس کی حکومت پر کوئی اختیار نہیں اور تمام 53 رکن ممالک آزاد ہیں۔ تنظیم کے قائم کرنے کا مقصد رکن ممالک میں

  • اقتصادی تعاون کو فروغ دینا
  • جمہوریت کو فروغ دینا
  • اور حقوق انسانی کی پاسداری ہے۔

مفید معلومات[ترمیم]

  • دولت مشترکہ کے تمام ممالک کی کل آبادی 1.975 ارب ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 31 فیصد بنتا ہے۔
  • دولت مشترکہ کے 4 بڑے ممالک بھارت (1،100 ملین)، پاکستان (159 ملین)، بنگلہ دیش (141 ملین) اور نائیجیریا (137 ملین) ہیں۔
  • ٹووالو بلحاظ آبادی سب سے چھوٹا رکن ہے جس کی آبادی صرف 11 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
  • تمام 53 رکن ممالک کا کل رقبہ 12.1 ملین مربع میل ہے جو زمین کے کل رقبے کا 21 فیصد بنتا ہے۔
  • رقبے کے لحاظ سے دولت مشترکہ کے تین بڑے ممالک کینیڈا (3.8 ملین مربع میل)، آسٹریلیا (3 ملین مربع میل) اور بھارت (714 ہزار مربع میل) ہیں۔

تمام رکن ممالک کی معیشت عالمی اقتصادیات کا 16 فیصد بنتی ہے۔

اس وقت دولت مشترکہ کے معتمد عام ڈون میک کینون ہیں جو 1999ء سے اس عہدے پر فائز ہیں جبکہ رینزفورڈ اسمتھ نائب سیکرٹری معتمد عام ہیں۔ تنظیم کا صدر دفتر برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ہے۔

ارکان میں سے 16 ممالک ملکہ برطانیہ کو سربراہ مملکت تسلیم کرتے ہیں جبکہ اکثر رکن ممالک کے اپنے سربراہان مملکت ہیں۔

ہر 4 سال بعد اولمپک کھیلوں کی طرز پر دولت مشترکہ کھیل بھی منعقد ہوتے ہیں۔

پاکستان نے 1972ء میں دولت مشترکہ کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کئے جانے پر احتجاجا دولت مشترکہ کی رکنیت چھوڑ دی تھی تاہم 1989ء میں ایک مرتبہ پھر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1999ء میں جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی تھی تاہم 2004ء میں اسے بحال کردیا گیا۔

کرکٹ اور رگبی کے کھیل، سڑک اور پٹری کے بائیں جانب ڈرائیونگ کا نظام اور امریکی کے بجائے برطانوی انگریزی کا استعمال دولت مشترکہ کے رکن ممالک کی پہچان ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

دولت مشترکہ کے رکن ممالک