کوت داوواغ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


République de Côte d’Ivoire
جمہوریہ کوت داوواغ
کوت داوواغ کا پرچم کوت داوواغ کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Union, Discipline, Travail
(اتحاد، نظم، محنت)
ترانہ: L’Abidjanaise
کوت داوواغ کا محل وقوع
دارالحکومت یاموسوکرو (باضابطہ)، عابدجان (انتظامی)
عظیم ترین شہر عابد جان
دفتری زبان(یں) فرانسیسی
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
جمہوریہ (صدارتی نظام)
لوراں باگبو
گویلوم سورو
آزادی
- تاریخِ آزادی
فرانس سے
7 اگست 1960ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
322463  مربع کلومیٹر (68)
124504 مربع میل
1.4
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - 1988 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
19,262,000 (57)
10815694
56 فی مربع کلومیٹر(148)
145 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

32.86 ارب بین الاقوامی ڈالر (96 واں)
1800 بین الاقوامی ڈالر (149 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.432
(166) – پست
سکہ رائج الوقت افریقی فرانک (XAF)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)

(یو۔ٹی۔سی۔ 0)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 0)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.ci
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+225

کوت داوواغ (Listeni/ˌkt dɨˈvwɑr/ (فرانسیسی: [kot d‿ivwaʁ]) یا آئیوری کوسٹ Listeni/ˌvəri ˈkst/[1][2]) افریقہ کے مغربی ساحل کا ایک ملک ہے جس نے فرانسیسی قبضہ سے آزادی حاصل کی ہے۔ کوت داوواغ کا سابقہ نام آئیوری کوسٹ تھا۔ اس نام کو 1985ء میں تبدیل کر کے اسی کا ہم معنیٰ فرانسیسی نام کوت داووغ رکھ دیا گیا۔ اس کا مطلب ہاتھی دانت کا ساحل (ساحل العاج) کے ہیں۔ عربی میں جو اس علاقے میں کافی لوگ سمجھتے ہیں، اسے ساحل العاج ہی کہا جاتا ہے۔ یہ مغربی افریقہ کا ایک ملک ہے۔ اس کی حدیں مغرب میں لائیبریا اور گی آنا سے، شمال میں مالی اور برکینا فاسو، مشرق میں گھانا اور جنوب میں گی آنا کی خلیج سے ملتی ہیں۔ ملک کی ابتدائی تاریخ تقریباً نامعلوم ہے اگرچہ یہاں نیولیتھک ثقافت کے وجود کے بارے سوچا جاتا ہے۔ 19ویں صدی میں اس پر اکان گروہوں نے حملے کئے۔ 1843 سے 1844 میں طے ہونے والے معاہدے میں یہ فرانس کی حفاظت میں چلا گیا اور 1893 میں کوت داوواغ فرانسیسی کالونی بن گیا۔ 1960 میں اسے آزادی ملی۔ 1993 تک اس پر فیلکس ہوفویٹ-بوئیگنی کی حکومت تھی اور یہ معاشی اور سیاسی طور پر اپنے مغربی افریقی ہمسائیوں سے بہت قریب تھا جیساکہ Council of the Entente کا قیام۔اسی دوران ملک نے مغربی دنیا کے ساتھ بھی قریبی تعلقات رکھے جس سے اس کی معاشی ترقی اور سیاسی استحکام میں اضافہ ہوا۔ ہوفویٹ-بوئیگنی کے دور کے بعد اس کا استحکام دو جنگوں (1999 اور 2001) کی وجہ سے تباہ ہوگیا اور 2002 سے اب تک اس میں خانہ جنگی چل رہی ہے اور معاشی ترقی نہ ہونے کے برابر۔ کوت داوواغ ایک جمہوریہ ہے جس میں صدر کو بہت زیادہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اس کا عمومی دارلحکومت یاموسوکرو ہے اور سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ کوت داوواغ کی معیشت کا بڑا حصہ مارکیٹ بیسڈہے اور زراعت پر انحصار کرتا ہے اور اس میں چھوٹے پیمانے پر نقد آور فصلوں کا غلبہ ہے۔ ترقی پذیر ملک کے حوالے سے یہ ایک بہترین نظامی ڈھانچہ ہے۔

تاریخ[ترمیم]

1460 میں پرتگالی جہازوں کی آمد سے قبل تک اس کے بارے بہت کم علم موجود ہے۔ اہم لسانی گروہ نسبتاً قریبی دور میں ہمسائیہ ممالک سے آئے ہیں۔ لائیبیریا کے کرو قبائل 16ویں صدی میں آئے، سینوفو اور لوبی جنوب کی طرف برکینا فاسو اور مالی سے ہجرت کرکے ادھر آئے ہیں۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں اکان لوگ آئے جن میں باولی گھانا سے ہجرت کرکے ملک کے مشرقی حصے میں آئے اور مالینکے لوگ گیانا سے شمال مغرب میں پہنچے۔

فرانسیسی قبضہ کا دور[ترمیم]

ہمسائیہ گھانا کے مقابلے کوت داوواغ کو غلاموں کی تجارت سے کم ہی پالا پڑا۔ یورپین غلام بنانے والے اور تجارتی جہازوں نے دوسرے علاقوں کو ترجیح دی جو ساحل کے ساتھ ساتھ واقع تھے اور جہاں بہتر بندرگاہیں موجود تھیں۔ 1840 میں فرانس نے دلچسپی لی اور مقامی سرداروں کی ملی بھگت سے فرانسیسی تجارتی جہازوں کو اجارہ داری ملی۔ بعد ازاں انہی فرانس کی بنائی ہوئی بندرگاہوں سے غیر فرانسیسی تاجروں کو باہر رکھا گیا اور بتدریج اندر کی طرف فتوحات کو جاری رکھا گیا۔ یہ کام 1890 میں ہونے والی مینڈرینکا کی فوجوں جو کہ زیادہ تر گیمبیا کی طرف سے آئی تھیں، کے خلاف طویل جنگ کے بعد پایہ تکمیل کو پہنچا۔ 1917 تک باولے اور دیگر قبائل کی طرف سے گوریلا جنگ جاری رہی۔ فرانس کا بنیادی مقصد برآمدات کا فروغ تھا۔ کافی، کوکا اور پام آئل کی فصلوں کی کاشت ساحل کے ساتھ کرنے پر زور دیا گیا۔ یہاں کوکا، کافی اور کیلے کے باغات کی ایک تہائی فرانسیسی آبادکاروں کی ملکیت تھی اور جبری مزدوری کا نظام معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔

آزادی[ترمیم]

ایک باؤل سردار کا بیٹافیلکس ہوفویٹ-بوئیگنی کوت داوواغ کی آزادی کا سبب بنا۔ 1944 میں اس نے ملک میں اپنے جیسے افریقی کوکا کے کاشتکاروں کی کی پہلی زرعی ٹریڈ یونین بنائی۔ فرانسیسی پالیسی کے خلاف انہوں نے نئے آبادکاروں کو اپنی مزروعہ زمینوں پر کام کے لئے تیار کیا۔ ہوفویٹ-بوئیگنی کو جلد ہی عروج حاصل ہوا اور ایک ہی سال کے اندر اندر اسے پیرس میں فرانسیسی پارلیمان کا ممبر چن لیا گیا۔ایک سال بعد فرانس نے جبری مزدوری کو ختم کر دیا۔ ہوفویٹ-بوئیگنی نے فرانسیسی حکومت کےساتھ گہرے تعلقات قائم کئے اور یہ تائثر دیا کہ اس سے ملک کو فائدہ ہوگا۔ یہ کئی سال تک جاری رہا۔ فرانس نے اسے وزیر کا عہدہ دیا جو کہ پہلی بار کسی افریقی کو یورپی حکومت میں ملا تھا۔ 1958 میں کوت داوواغ فرانسیسی کمیونٹی کا خودمختار رکن بن گیا۔ کوت داوواغ کی آزادی کے وقت یہ ملک خطے میں کل برآمدات کا 40 فیصد حصہ پیدا کرتا تھا ۔ جب ہوفویٹ-بوئیگنی پہلا صدر بنا تو اس کی حکومت نے کاشتکاروں کو ان کی فصلوں کی اچھی قیمت دینا شروع کی جس کے نتیجے میں پیداوار میں اضافہ ہوا۔ کافی کی پیداوار میں اتنا اضافہ ہوا کہ کوت داوواغ دنیا کا تیسرا بڑا کافی پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔1979 میں یہ ملک کوکا کی پیدوار کا دنیا میں سب سے اہم ملک تھا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ افریقہ کا سب سے بڑا انناناس اور پال آئل برآمد کرنے والا ملک بھی بن گیا۔ فرانسیسی ٹیکنیشنوں نے آئیورین معجزے کو ممکن بنایا۔ افریقہ کے دیگر علاقوں میں ممالک کی آزادی کے ساتھ ہی ساتھ یورپیوں کو نکلنا پڑا جبکہ کوت داوواغ میں انہیں خوش آمدید کہا گیا۔ فرانسیسی کمیونٹی میں آزادی سے قبل کے 10000 سے 50000 کا اضافہ ہوا جن میں اکثریت استادوں اور مشاورت دانوں کی تھی۔ 20 سال تک ملکی معیشت میں تقریباً10 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کہ ان افریقی ممالک میں سب سے زیادہ تھا جو تیل نہیں پیدا کرتے۔

ہوفویٹ-بوئیگنی کا انتظام[ترمیم]

سیاسی طور پر ہوفویٹ-بوئیگنی نے سختی کے ساتھ، یا یوں کہیں کہ آہنی گرفت کے ساتھ حکومت کی۔ کچھ لوگ اسے پدرانہ انداز کا حکمران بھی کہتے ہیں۔ صحافت آزاد نہ تھی اور صرف ایک سیاسی جماعت موجود تھی۔ اس کے علاوہ اس پر یہ بھی تنقید کی جاتی ہے کہ اس نے وسیع پیمانے والے منصوبوں پر زیادہ توجہ دی۔ کچھ لوگوں کو اس کی جانب سے لاکھوں ڈالر خرچ کرکے اس کے گاؤں کی دارلحکومت میں منتقلی پر اعتراض تھا تو کچھ لوگ اس کی طرف سے امن، تعلیم اور مذہب کو ملک کے وسط میں ایک مقام دینے پر خوشی تھی۔ لیکن 1980 میں عالمی مندی اور مقامی قحط نے آئیوری کی معیشت پر بہت برا اثر ڈالا۔ جنگلات کی حد سے زیادہ کٹائی اور چینی کی تیزی سی گرتی ہوئی قیمتوں کے سبب بیرونی قرضہ جات کی مقدار تگنی ہو گئی۔ عابدجان میں جرائم کی شرح میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔ 1990 میں سینکڑوں سرکاری ملازمین نے طلبا کا ساتھ دیتے ہوئے رشوت ستانی کے خلاف ہڑتال کردی۔عوامی بیچینی نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کی اجازت دے۔ ہوفویٹ-بوئیگنی بہت زیادہ کمزور ہوتا گیا اور 1993 میں انتقال کر گیا۔ اس نے ہنری کونان بیڈی کو اپنے جانشین بنانے کی حمایت کی۔

بیڈی کا انتظام[ترمیم]

اکتوبر 1995 میں غیر منظم اور بکھری ہوئی اپوزیشن کے خلاف اکثریت سے انتخابات جیت لئے۔ اس نے سیاسی زندگی کے گرد اپنا جال مضبوط کیا اور سینکڑوں مخالفین کو جیل میں ڈال دیا۔ اس کے برعکس معاشی صورتحال بہتر ہوئی اور بظاہر افراط زر کی شرح میں کمی ہوئی اور بیرونی قرضہ جات کو اتارنے کی کوشش کی گئی۔ ہوفویٹ-بوئیگنی کے برعکس، جو کہ کسی بھی لسانی یا گروہی اختلاف کے لئے بہت محتاط تھا، اس نے ہمسائیہ ممالک سے آنے والے مہاجرین کے لئے انتظامی عہدے خالی کر دیئے۔ اس نے آئیوری ہونے پر زور دیا اور اس طرح اپنے مخالف الاسانے قوارتارا کو جس کا صرف والد آئیوری کوسٹ کا شہری تھا، کا راستہ بند کر دیا۔ چونکہ برکینا فاسو سے بہت سارے لوگ آئیوری آبادی کا بڑا حصہ تھے، ان کی ترقی کے راستے مسدود ہوگئے اور اس پالیسی کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کو آئیوری کی شہریت نہ مل سکی اور مختلف لسانی اور نسلی گروہوں میں خلیج بڑھتی چلی گئی۔

1999 کی فوجی بغاوت[ترمیم]

اسی طرح بیڈی نے فوج سے اپنے کئی پوشیدہ مخالفین کو ہٹایا۔ 1999 کے آخر میں غیر مطمئن افسران نے فوجی بغاوت کی اور جنرل رابرٹ گوئی کو حکمران بنایا۔ بیڈی فرانس فرار ہو گیا۔ اس فوجی بغاوت نے جرائم کی شرح میں کمی کی اور کرپشن کو روکا۔

گباگبو کا انتظام[ترمیم]

اکتوبر 2000 میں صدارتی انتخابات ہوئے جن میں لاورنٹ گباگبو نے گوئی کا مقابلہ کیا لیکن یہ سب پرامن رہا۔ اس کے نتیجے میں سول اور فوج میں بیچینی پیدا ہوئی۔ گوئی نے انتخابات میں دھاندلی کی کوشش کی جس کے نتیجے میں عوامی مزاحمت ہوئی اور 180 افراد مارے گئے اور گوئی کی جگہ اس کے مقابل گباگبو نے لے لی۔ الاسانے اواتارا کو ملکی سپریم کورٹ نے اس کی متنازعہ برکینابے کی شہریت کے سبب نااہل قرار دیا۔ موجود اور اس کے بعد کی آئینی ترامیم نے غیر شہری کو صدر ہونے سے روک دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں متشدد احتجاج شروع ہوئے جس میں اس کے حامیوں نے جو کہ زیادہ تر شمال سے تھے، یاموسوکرو میں پولیس کے خلاف ایک طرح کی جنگ لڑی۔

2002 کی ڈی ٹاٹ کی بغاوت[ترمیم]

19 ستمبر 2002 کی علی الصبح صدر کا تختہ الٹنے کی ایک فوجی بغاوت کی کوشش کی گئی۔ اس دوران صدر اٹلی کے دورے پر تھا۔ دستوں نے کئی شہروں پر حملہ کیا۔ دوپہر تک فرانس کی طرف سے حکومت کے حق میں مداخلت کی گئی تاہم یہ ابھی تک نہیں کہا جا سکتا کہ اس مداخلت کے سبب صورتحال بہتر ہوئی کہ بدتر۔ تاہم دن کے اختتام تک ملک کے شمال پر ان کا کنٹرول ختم ہو چکا تھا جو کہ آج تک جنوب سے کٹا ہوا ہے۔ جنوب کے لئے ہونے والی لڑائی بہت سخت تھی۔ مین جینڈارماری بیرک کے لئے عابدجان میں ہونے والی لڑائی اگلے دن صبح تک جاری رہی۔ اس رات کیا ہوا، یہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ سابقہ صدر رابرٹ گوئی نے فوجی بغاوت کی سربراہی کی اور ریاستی ٹی وی نے اس کی اور پندرہ دیگر افراد کی لاشیں سڑکوں پر پڑی دکھائیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو گھروں پر قتل کرکے سڑکوں پرڈالا گیا تاکہ انہیں مجرم گردانا جا سکے۔ الاسانے اوتارا نے فرانسیسی سفارت خانے میں پناہ لی اور اس کا گھر جلا دیا گیا۔ صدر گباگبو نے اپنا اٹلی کا دورہ مختصر کردیا اورملک واپسی پر یہ اعلان کیا کہ کچھ باغی ان قصبوں میں چھپے ہوئے ہیں جہاں غیرملکی مہاجرین ورکر رہتےہ یں۔ جینڈآرمس نے ہزاروں گھروں کو بلڈوز کیا اور جلا دیا جبکہ مکینوں پر بھی حملے کئے گئے۔ باغیوں سے ہونے والا فائر بندی کا معاہدہ عارضی ثابت ہوا اور کوکا کی کاشت کے علاقوں میں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ فرانس نے اپنے فوجیوں کو بھیجا تاکہ فائر بندی، سرحدوں اور ملیشیا کو روکا جا سکے جسسے لائبیریا اور سیریالون سے آنے والے جنگی سردار اور جنگجوؤں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی حصوں پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔

2003 کی متحدہ حکومت[ترمیم]

جنوری 2003 میں صدر گباگبو اور باغی رہنماؤں نے ایک معاہدے پر دستخط کئے جس کی رو سے "ملکی اتحاد کے لئے حکومت" بنانے کا کہا گیا تھا۔ کرفیو اٹھا لیا گیا اور فرانسیسی دستوں نے مغربی لاقانونیت کا شکار علاقہ صاف کر دیا۔ تب سے متحدہ حکومت انتہائی غیر مستحکم ثابت ہوئی ہے اور مرکزی مسائل ویسے کے ویسے ہیں اور کوئی بھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو رہا۔ مارچ 2004 میں 120 لوگ اپوزیشن کی ریلی میں مارے گئے اور اس کے بعد مشتعل ہجوم سے پیدا ہونے والے حالات میں غیرملکیوں کا انخلا کیا گیا۔ بعد ازاں ایک رپورٹ کے مطابق یہ قتل پہلے سے طے شدہ تھے۔ اگرچہ اقوام متحدہ کے امن سفارت کار تعینات کئے گئے تاکہ زون آف کانفیڈنس قائم رہ سکے لیکن گباگبو اور اپوزیشن کے تعلقات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔

2004-2007 کے نتائج[ترمیم]

نومبر 2004 کے اوائل میں امن معاہدے کی ناکامی کے بعد باغیوں نے غیر مسلح ہونے سے انکار کر دیا اور گباگبو نے باغیوں کے خلاف فضائی حملے کا حکم دے دیا۔ بوآکے میں ہونے والے ان حملوں میں فرانسیسی فوجی بھی شکار ہوئے اور نو فوجی مارے گئے۔ آئیوری حکومت کے مطابق یہ غلطی تھی لیکن فرانسیسیوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جان بوجھ کر حملہ کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے آئیوری کے طیاروں کو تباہ کیا جن میں دو سخوئی مگ 25 اور پانچ ہیلی کاپٹر شامل ہیں جس کے بعد فرانس کے خلاف متشدد بغاوتیں عابدجان میں شروع ہو گئیں۔ گباگبو کی اصلی صدارتی مدت 30 اکتوبر 2005 میں ختم ہو رہی تھی لیکن ملکی حالات کے پیش نظر انتخابات کا ہونا غیر یقینی تھا اور اس کے نتیجے میں صدارتی مدت میں زیادہ سے زیادہ ایک سال کا اضافہ کیا گیا۔ اس کا منصوبہ افریقی یونین نے بنایا تھا اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی منظور کیا۔ اکتوبر 2006 کی ڈیڈ لائن پہنچنے کے بعد یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ اب بھی انتخابات کا انعقاد مشکوک ہے لیکن اپوزیشن نے گباگبو کو مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا۔ سلامتی کونسل نے صدارتی مدت میں ایک سال کا مزید اضافہ کرتے ہوئے یہ بھی منظور کیا کہ وزیر اعظم کے اختیارات کو بڑھا دیا جائے۔ اگلے ہی دن گباگبو نے کہا کہ اس قراردار کے نکات ملکی آئین سے متصادم ہیں اس لئے ان پر عملدرامد نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اور باغیوں میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت، جسے نیو فورس کا نام دیا گیا، 4 مارچ 2007 کو اس پر دستخط ہوئے اور نتیجتاً نیوفورسز کے لیڈر گویلیام سورو وزیر اعظم بن گئے۔ کچھ مبصروں نے ان واقعات کو گباگبو کی مضبوطی میں اضافے کی نظر سے دیکھا۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

کوت داوواغ کو 19 خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو کہ مزید 58 محکموں میں منقسم ہیں۔

سیاست[ترمیم]

1983 سے کوت داوواغ کا سرکاری دارلحکومت یاموسوکرو ہے تاہم عابدجان کو انتظامی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔اکثر ممالک کے سفارت خانے عابدجان میں واقع ہیں۔ کچھ ممالک جن میں برطانیہ بھی شامل ہے، نے یورپی لوگوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث اپنے سفارت خانے بند کر دیئے ہیں۔ جاری رہنے والی خانہ جنگی کے باعث متذکرہ بالا آبادی کا نقصان جاری رہا۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے کئی امور کی نشاندہی کی جن میں غیر جنگی قیدیوں سے برا سلوک اور کوکا کی پیداوار کے لئے بچوں کی غلامی میں بڑھتا ہوا اضافہ شامل ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر لڑائیاں 2004 کے اختتام تک ختم ہو چکی تھیں، ملک بدستور دو حصوں میں منقسم رہا۔ اکتوبر 2005 میں نئے صدارتی انتخابات متوقع تھے لیکن لیکن تیاریاں نہ ہونے کے سبب وہ اکتوبر 2006 تک ملتوی ہو گئےاور پھر انہیں باغیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے اکتوبر 2007 تک ملتوی کر دیا گیا۔

جغرافیہ[ترمیم]

کوت داوواغ مغربی سب صحارائی افریقہ کا ملک ہے۔ اس کی حدیں مغرب میں لائیبریا اور گی آنا سے، شمال میں مالی اور برکینا فاسو، مشرق میں گھانا اور جنوب میں گی آنا کی خلیج سے ملتی ہیں۔

معیشت[ترمیم]

1960 میں آزادی کے بعد سے فرانس کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات رہے۔ زراعت میں برآمدات کے لے تنوع پیدا ہوا اور غیرملکی سرمائے کے موقعوں نے استوائی افریقی ریاستوں میں کوت داوواغ کو سب سے خوشحال ریاست بنا دیا۔ تاہم موجودہ دور میں اس کی اہم فصلوں یعنی کافی اور کوکا کی بین الاقوامی منڈی میں گرتی قیمتوں کے باعث خسارے کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی طور پر رشوت ستانی نے کاشتکاروں اور بیرون ملک برآمد کنندگان کے لئے زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔

آبادی[ترمیم]

آبادی کا بیس فی صد سے کچھ زائد مسلمان ہیں۔ تقریباً بائیس سے پچیس فی صد عیسائی ہیں جن میں یورپی لوگ بھی شامل ہیں۔ آبادی کا 77 فیصدی حصہ آئیوری لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان میں بہت سے مختلف لوگ اور بہت سی زبانیں شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 65 مختلف زبانیں اس ملک میں بولی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ عام زبان ڈیولا ہے جو کہ مسلمان آبادی اور تجارت سے متعلقہ لوگوں کی مشترکہ زبان ہے۔ فرانسیسی سرکاری زبان ہے اور اسے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے اور شہری علاقوں میں عام بول چال کی زبان بھی یہی ہے۔ چونکہ کوت داوواغ نے خود کو مغربی افریقہ کی سب سے خوشحال ریاست ثابت کیا ہے، اس کی کل آبادی کا 20 فیصد حصہ ہمسائیہ ممالک سے جیسا کہ لائبیریا، برکینا فاسو اور گی آنا سے آیا ہے۔ اس وجہ سے ان بیرونی ورکرز جو کہ مسلمان ہیں اور مقامی عیسائی آبادی کے درمیان کشیدگی کو ترقی ملی ہے۔ آبادی کا چار فیصد حصہ وہ لوگ ہیں جو کہ آئیوری کے نہیں، بلکہ باہر سے آئے ہیں۔ ان میں فرانسیسی، ویت نامی اور ہسپانوی شہری ہیں اور اسی طرح امریکہ سے آنے والے عیسائی مشنری بھی شامل ہیں۔ نومبر 2004 میں 10000 کے لگ بھگ فرانسیسی اور دوسرے غیر ملکیوں کا ملک سے انخلا ہوا کیونکہ ان پر حکومت کی حمایت یافتہ ملیشیا کے حملے شروع ہو گئے تھے۔ یہاں پر رہنے والے فرانسیسی شہریوں کے علاوہ ان فرانسیسی آباد کاروں کی نسلیں بھی آباد ہیں جو شروع میں ادھر آئے تھے۔

نام[ترمیم]

ملک کو انگریزی میں آئیوری کوسٹ کہا جاتا تھا۔ اکتوبر 1985 میں حکومت کی درخواست پر فرانسیسی زبان میں ملک کا نام کوت داوواغ کر دیا گیا۔

استعمال[ترمیم]

آئیوری کی حکومت کی درخواست کے باوجود "آئیوری کوسٹ" یا "دی آئیوری کوسٹ" کو انگریزی میں اب تک استعمال کیا جاتا ہے: •بی بی سی عموماً اپنی ویب سائیٹ اور خبروں میں "آئیوری کوسٹ" کا لفظ استعمال کرتی ہے •دی گارڈین نامی اخبار کی سٹائل گائیڈ یہ کہتی ہے کہ "آئیوری کوسٹ، نہ ہی دی آئیوری کوسٹ اور نہ ہی کوت داوواغ، کیونکہ یہاں کے باشندے آئیورین کہلاتے ہیں" •اے بی سی نیوز، دی ٹائمز، دی نیویارک ٹائمز اور جنوبی افریقہ کی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن، "آئیوری کوسٹ" استعمال کرتے ہیں حکومتیں کوت داوواغ لفظ سفارتی وجوہات کی بنا پر کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ میں انگریزی میں رجسٹر ہونے والے ممالک کے نام میں کوت داوواغ ہی لکھا جاتا ہے۔ انگریزی بولنے والے ہمسائے لائبیریا اور گھانا دونوں کوت داوواغ استعمال کرتے ہیں۔ مزید ادارے جو یہ لفظ استعمال کرتے ہیں:

  • اقوام متحدہ کا ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ اپنی رسمی دستاویزات میں کوت داوواغ اور عمومی کاغذات میں آئیوری کوسٹ استعمال کرتا ہے


فہرست متعلقہ مضامین کوت داوواغ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ The government officially discourages this usage, preferring the French name Côte d'Ivoire to be used in all languages.
  2. ^ Ivory Coast is the name used by the BBC, e.g. Laurent Gbagbo exit 'could worsen Ivory Coast crisis'. Retrieved 1 January 2011.

بیرونی روابط[ترمیم]