برٹرینڈ رسل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
برٹرینڈ رسل 1907ء میں

برٹرینڈ رَسَل (پورا نام: برٹرینڈ آرتھر ولیمز رسل، انگریزی: Bertrand Arthur William Russell) ایک معروف محقق، مورّخ، سائنسدان، ماہر ریاضیات، ماہر طبیعیات، مدرّس، فلسفی، مفکّر اور افسانہ نگار تھے۔ 18 مئی 1876ء بمقام ویلز میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سر جان رسل انگلستان کے وزیر اعظم بھی رہے۔ آپ کا تعلق طبقہ اشرافیہ اور کٹّر مذہبی گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم ویلز سے ہی حاصل کی۔ دولت مند والدین کی زندگی مصروف تھی۔ بچپن تنہائی اور استغراق میں گزرا۔ یہ استغراق کئی مرتبہ خودکشی کی جانب لے گیا لیکن اس سے باز رہے۔ اپنے والدین کی زندگی میں مذہبی اقدار کی کامل پاسداری کی، ان کے مرتے ہی مذہب سے بیزاری اور لا ادریت کا اعلان کردیا۔ بچپن میں ہی نہایت ذہین طالب علم تھے۔ اپنے گھر پڑھانے آنے والے استاد کو ریاضی سمجھایا کرتے تھے۔ 1890ء میں جامعہ کیمبرج سے ریاضی کی اعلٰی سند حاصل کی۔ پھر اسی جامعہ میں مدرّس کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس کے علاوہ نیشنل یونیورسٹی آف پیکنگ (چین)، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اور دوسرے اعلٰی تعلیمی اداروں میں تدریسی مشغلہ ساری عمر ہمراہ رہا۔ 1894ء میں اٹھارہ برس کی عمر میں کوئیکر ایلس سے شادی کی جو 1910ء میں علیحدگی پر منتج ہوئی اور آخر 1921ء میں طلاق ہوگئی۔ بیوی سے علیحدگی کے بعد برسوں تک خواتین سے معاشقے چلتے رہے۔ 1921ء میں ہی ڈورا گریو سے دوسری شادی کی جس نے 1932ء میں طلاق لے لی۔ ڈورا کے نامور امریکی صحافی گرفن سے تعلقات تھے۔ 1936ء میں اپنے بچوں کی آیا پیٹریشیا سے تیسری شادی کی جو تادمِ مرگ برقرار رہی۔ 1970ء میں یہ ادیب دنیا سے رخصت ہوگیا۔

برٹرینڈ رسل کے علمی اور فلسفیانہ کاموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ فلسفہ، سائنس، تاریخ، سیاست، معاشرت، جنگ، امن، جنس، قانون اور انسانی ہمدردی پر برٹرینڈ رسل کی علمی اور تحقیقی کتب اور کتابچوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچتی ہے۔ انہوں نے ویت نام کی جنگ میں واشگاف الفاظ میں امریکہ کو مطعون کیا۔ سامراجی طاقتوں کے خلاف جرأت رندانہ سے قلم کے ساتھ ساتھ عوامی قیادت کا عَلَم بھی اٹھایا۔ انسان دوستی کے جرم میں پابند سلاسل بھی رہے۔ 1950ء میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا، یہ واحد اعزاز تھا جو انہوں نے قبول کیا۔ 1967ء میں ان کی آپ بیتی شائع ہوئی جس کا شمار دنیا کی مقبول آپ بیتیوں میں ہوتا ہے۔ 1970ء میں پیرانہ سالی کے باوجود عرب اسرائیل جنگ میں علی الاعلان اسرائیل کو غاصب قرار دیا، مغربی عوام میں انسانیت کا پرچار کیا۔ روس، چین، برطانیہ، امریکا اور پورے یورپ کے نوجوانوں کے محبوب رہنما رہے۔ ایٹمی سائنسدانوں کو انسانیت کا قاتل قرار دیا۔ درازئ عمر کے باوصف رسل نے دمِ آخر تک اپنا وقت کارِ قلم میں گزارا۔ ستم ظریفی ہے کہ رسل نے کہانی کم کم ہی لکھی۔ پر جو بھی کہانی تخلیق کی و ہ اپنے خالق کی عظمت کا پتا خوب دیتی ہے۔ عمر کے آخری برسوں میں رسل نے کہا

میں نے اپنی زندگی کے 80 سال فلسفے کی نذر کیے، باقی ماندہ کہانی کی نذر کرنا چاہتا ہوں

پر زندگی کہانی کے نام پر اس سے چند برس سے زیادہ نہیں لے سکی۔ ان کے افسانوں کے بس دو ہی مجموعے شائع ہوئے۔