برٹرینڈ رسل

وکیپیڈیا سے

Jump to: navigation, search

برٹرینڈ رَسَل؛ محقق، مورّخ، سائنس دان، ماہر ریاضیات، ماہر طبیعات، مدرّس، فلسفی، مفکّر، افسانہ نگار، قلمی جرنیل اور سب سے بڑھ کر ایک راست گو رہمنا۔

  • پیدائش: 18 مئی 1876 بمقام ویلز، انگلستان
  • والد کا نام: سر جان رسل، جو انگلستان کے وزیر اعظم بھی رہے۔
  • طبقہ اشرافیہ اور کٹّر مذہبی گھرانے سے تعلق تھا۔ ابتدائی تعلیم ویلز سے ہی حاصل کی۔ دولت مند والدین کی مصروف زندگی تھی۔ بچپن تنہائی اور استغراق میں گذرا۔ یہ استغراق کئی مرتبہ خودکشی کی جانب لے گیا لیکن اس سے باز رہا۔ اپنے والدین کی زندگی میں مذہبی اقدار کی کامل پاسداری کی، ان کے مرتے ہی مذہب سے بیزاری اور لاادریت کا اعلان کردیا۔ بچپن میں ہی نہایت ذہین طالب علم تھا۔ اپنے گھر پڑھانے آنے والے استاد کو ریاضی سمجھایا کرتا تھا۔ 1890میں کیمبرج سے ریاضی کی اعلٰی ڈگری حاصل کی۔ پھر اسی یونیورسٹی میں مدرّس کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس کے علاوہ نیشنل یونیورسٹی آف پیکنگ (چین)، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اور دوسرے اعلٰی تعلیمی اداروں میں تدریسی مشغلہ ساری عمر ہمراہ رہا۔
  • 1894 میں اٹھارہ برس کی عمر میں کوئیکر ایلس سے شادی کی جو 1910 میں علیحدگی پر منتج ہوئی اور آخر 1921 میں طلاق ہوگئی۔ بیوی سے علیحدگی کے بعد برسوں تک خواتین سے معاشقے چلتے رہے۔ 1921 میں ہی ڈورا گریو سے دوسری شادی کی جس نے 1932 میں طلاق لے لی۔ ڈورا کے نام ور امریکی صحافی گرفن سے تعلقات تھے۔ 1936 میں اپنے بچوں کی آیا پیٹریشیا سے تیسری شادی کی جو تادم مرگ برقرار رہی۔ 1970 میں یہ ادیب دنیا سے رخصت ہوگیا۔
  • برٹرینڈرسل کے علمی اور فلسفیانہ کاموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ فلسفے، سائنس، تاریخ، سیاست، معاشرت، جنگ، امن، جنس، قانون اور انسانی ہمدردی پر برٹرینڈ رسل کی علمی اور تحقیقی کتابوں اور کتابچوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچتی ہے۔ اُس نے ویت نام کی جنگ میں واشگاف الفاظ میں امریکہ کو مطعون کیا۔ سامراجی طاقتوں کے خلاف جرأت رندانہ سے قلم کے ساتھ ساتھ عوامی قیادت کا عَلَم بھی اٹھایا۔ انسان دوستی کے جرم میں پابند سلاسل بھی رہا۔ 1950 میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا، یہ واحد اعزاز تھا جو اس نے قبول کیا۔ 1967 میں اس کی آپ بیتی شائع ہوئی جس کا شمار دنیا کی مقبول آپ بیتیوں میں ہوتا ہے۔ 1970 میں پیرانہ سالی کے باوجود عرب اسرائیل جنگ میں علی الاعلان اسرائیل کو غاصب قرار دیا، مغربی عوام میں انسانیت کا پرچار کیا۔ روس، چین، برطانیہ، امریکا اور پورے یورپ کے نوجوانوں کا محبوب رہنما رہا۔ ایٹمی سائنسدانوں کو انسانیت کا قاتل قرار دیا۔ درازئ عمر کے باوصف رسل نے دمِ آخر تک اپنا وقت کارِ قلم میں گزارا۔ ستم ظریفی ہے کہ رسل نے کہانی کم کم ہی لکھی۔ پر جو بھی کہانی تخلیق کی و ہ اپنے خالق کی عظمت کا پتا خوب دیتی ہے۔ عمر کے آخری برسوں میں رسل نے کہا،" میں نے اپنی زندگی کے اسّی سال فسلفے کی نذر کیے، باقی ماندہ کہانی کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔ " پر زندگی کہانی کے نام پر اس سے چند برس سے زیادہ نہیں لے سکی۔ اس کے افسانوں کے بس دو ہی مجموعے شائع ہوئے۔ رسل نے زندگی می صرف تین کام کیے؛ محبت، تلاشِ علم اور انسان دوستی۔