ہیرلڈ پنٹر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ہیرلڈ پینٹر

پیدائش:10 اکتوبر 1930ء

انتقال: 24 دسمبر 2008ء

نوبل انعام یافتہ مصنف اور بیسویں صدی کےعظیم ڈرامہ نگار اور شاعر ۔ ڈرامہ نگاری میں اپنے مخصوص سٹائل ’پنٹریسک‘ سے پہچانے جاتے ہیں۔ پنٹر کے کرداروں کی ڈائیلاگ کی ادائیگی کے دوران لمبی خاموشی کو ’پینٹرسک سٹائل‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

ہیرلڈ پینٹر نے تیس سے زائد ڈرامے لکھے جن میں ’دی کیئر ٹیکر، ’ہوم کمنگ‘ اور ’بیٹریئل‘ بہت مشہور ہوئے۔ ہیرلڈ پینٹر ایک سیاسی سوچ کے حامل شخصیت تھے اور زندگی آخری سالوں میں وہ اپنی سیاسی تحریروں کے وجہ سےپہچانے جانے لگے۔لندن کے علاقے ہیکنی میں پیدا ہونے والے ہیرلڈ پینٹر بائیں بازو کی سوچ رکھتے تھے اور امریکہ اور برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے بڑا نقادوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ انہوں نے زندگی صرف ایک بار دائیں بازو کی جماعت کنزویٹو پارٹی کی رہنما مارگریٹ تھیچر کے حق میں ووٹ ڈالا اور وہ ان کی ان کی زندگی کا سب سے ’شرمناک عمل‘ تھا۔

عراق جنگ[ترمیم]

ہیرلڈ پینٹر نے سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکہ اور برطانیہ کی جارحیت کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ انہوں نے 2005ء میں اپنی نوبل پرائز تقریب میں اپنی تقریر میں مطالبہ کیا کہ صدر بش اور ٹونی بلیئر پر عالمی عدالت انصاف میں جنگی جرائم کےتحت مقدمہ چلنا چاہیے۔ہیرلڈ پینٹر نے کہا تھا کہ بیشتر سیاست دان ’طاقت اور طاقت پر اپنے کنٹرول کی بقا میں دلچسپی رکھتے ہیں، سچائی میں نہیں۔‘پِنٹر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سیاست دان سمجھتے ہیں کہ یہ ’ضروری ہے کہ لوگ لاعلم رہیں، سچائی سے بےخبر رہیں، یہاں تک کہ اپنی زندگی کی سچائی سے بھی۔‘ ہیرلڈ پنٹر مزید کہا کہ عراق پر حملہ کرنے سے پہلے امریکہ کا دعویٰ تھا کہ صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار تھے، جو سچ نہیں تھا۔‘

ڈرامے[ترمیم]

ہیرلڈ پینٹر نہ صرف تیس سے زائد ڈرامے لکھے بلکہ بے شمار ڈارموں میں خود بھی اداکاری کی۔ وہ ایک اعلی پائے کے شاعر بھی تھے۔