لندن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عظیم لندن (لندن)
لندن کے مشہور مقامات
لندن کے مشہور مقامات
لندن کے مشہور مقامات
لندن کے مشہور مقامات
علاقائی اقتدار جمہوری
مجلس دستور ساز لندن مجلسِ دستور ساز
مئیر بورس جانسن
رقبہ  
 - شہر 1,577.3 مربع کلومیٹر  (609 مربع میل)
آبادی  
 - شہر ()
 - شہری 8,278,251
 - میٹرو 13 063 441
منطقۂ وقت مرکزی یورپی وقت (یو۔ ٹی۔ سی۔0)
ویب سائیٹ: www.london.gov.uk

لندن، برطانیہ کا دارالخلافہ اور سب سے بڑا شہر ہے۔[1] تقریباً دو ہزار سال پرانی آبادی، جس کے تاریخی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی بنیاد قدیم رومیوں نے رکھی تھی۔[2] اس آبادی کے قیام سے آج تک لندن بہت سے تحریکوں اور عالمگیر واقعات کا مظہر رہا ہے، جس میں انگریزی کا ارتقاء، صنعتی انقلاب اور قدیم رومیوں کا احیاء بھی شامل ہیں۔[3] مرکزِ شہر اب بھی وہی قدیم شہرِ لندن ہے، جس میں اب بھی قرون وسطٰی کی حدود نظر آتی ہیں، تاہم کم از کم اُنیسویں صدی سے نام “لندن“، اُن تمام علاقوں تک پھیل گیا، جو اس کے اطراف و اکناف میں آباد ہوئے تھے۔[4] اور آج آبادیوں کا یہ ہجوم لندن، برطانیہ کے علاقوں[5] اور عظیم لندن کے انتظامی علاقے [6] اور مقامی طور پر منتخب ناظم اور لندن دستور ساز مجلس کا حامل ہے۔ [7] لندن دنیا کے ممتاز تجارتی، معاشی اور ثقافتی مراکز میں سے ایک ہے[8] اور دنیا بھر کی سیاسی، تعلیمی، تفریحی، صحافتی، فیشن اور فنون لطیفہ اس کے گہرے اثرات، اس کے بین الاقوامی شہر ہونے کے شاہد ہیں۔ [9] لندن چار یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کا حامل ہے: ویسٹمنسٹر محل اور کلیسائے ویسٹمنسٹر، کلیسائے سینٹ مارگریٹ، لندن بُرج، گرینچ کی تاریخی آبادی اور شاہی نباتیاتی باغیچہ، کیو۔[10] یہ شہر اندرون ملک و بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔[11] لندن بہت سے قسم کے لوگ، مذاہب اور ثقافتوں کا گہوارہ ہے، اس شہر میں تین سو سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔[12] 2006ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں کی آبادی 75,12,400 ہے جو کہ عظیم لندن کی حدود میں ہے۔ [13] یہ آبادی کے لحاظ سے یورپی اتحاد کا سب سے بڑا شہر ہے۔ [14] سن 2001ء کے اعداد و شمار کے مطابق لندن کے شہری علاقوں کی آبادی 82,78,251 [15] جبکہ میٹروپولیٹن علاقوں کی آبادی ایک کڑور بیس لاکھ سے ایک کڑور چالیس لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ [16][17]

تاریخ[ترمیم]

1300ء کا لندن، قرونِ وسطٰی کی حدود نمایاں ہیں۔

لفظ لندن کا اشتقاقی مفہوم ہنوز صیغہء راز میں ہے۔ ابتدائی اشتقاقی وضاحتوں کو جیوفرے آف منماؤتھ برطانیہ کی قبل از تاریخ سے جوڑا جاتاہے۔ ایک قیاس یہ بھی ہے کہ یہ نام اسے اس وقت کے برطانوی بادشاہ لد کی بدولت ملا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس نے لندن پر قبضہ کر لیا اور اسے کیرلد کے نام سے موسوم کیا، کیرلد وقت کے ساتھ ساتھ کیرلدن اور پھر آخر کار لندن ہوگیا۔ اس سلسلے میں اور بھی کئی قیاس آرائیاں ہیں، جوکہ گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی جارہی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کے مطابق یہ نام ویلزی یا برطانوی لفظ سے اخذ کردہ ہے جبکہ بعض کے مطابق یہ متروک شدہ پرانی انگریزی حتٰی کے بعض کے مطابق یہ لفظ عبرانی سے اخذ شدہ ہے۔
انگريزوں كا دعوي هے كه قديم رومى دور ميں بهى لندن ايكـ سر گرم مركز تها ـ يه چهوٹا سا گاؤں دريائے تهيمز كے كنارے اس طرح آباد كيا گيا كه ايكـ طرف سے دريا اس كى حفاظت كرتا تها ـ تاريخ بتاتى هے كه جن دنوں عرب مسلمانوں كى تهذيب ہسپانیہ يعنى اسپین ميں عظمت كى بلنديوں كو چهو رهى تهى ـ ان دنوں لندن ايكـ چهوٹے سے گاؤں كى حثيت ركهتا تها ـ جهاں كى دلدلى اور بنجر زمين پر چند جهونپڑى نما مكانات اور كچى سڑكيں تهيں اور لوگ بهى ذياده تر وحشى اور غاروں كے باسى تهے ـ چناچه جب انگريزوں كى فوج رچرڈ شير دل كى قيادت ميں صلاح الدین ایوبی سے صليبى جنگوں ميں مقابله كرنے گئى تو اس کی اكثريت كهالوں ميں ملبوس تهى اور مسلمان فوج كے لباس اور هتهيار ديكهـ كررچرڈ كے فوجى دنگ ره گئے ـ 1258ء كے سقوط بغداد كے عظيم الميے كے بعد جب تەذيب كا سورج مغرب ميں طلوع هوا تو يورپى اقوام نے اپنے شہر منظم كرنے شروع كئيے ـ يورپ ميں شهر بسانے كے لئيے پہلے كوئى يادگارمثلا فوارا يا گهنٹا گهر قسم كى چيز تعمير كر كے اس كے گرد ايكـ بهت بڑا گول چوراها بنايا جاتا تها۔ جس سے كچهـ فاصلے پر اردگرد گولائى ميں مكانات بننے شروع هو جاتے تهے اور يوں شەر وجود ميں آجاتا تهاـ اس كے برعكس مشرق ميں پہلے ايكـ سيدها طويل بلكه مستطيل بازار تعمير كيا جاتا هے جس كے اردگرد مكانات تعمير كئے جاتے هيں ـ انگريزوں نے برصغير ميں جو شہر آباد كئےان ميں اپنا انداز اپنايا چناچه لائل پور موجوده فیصل آباد اور گوجرانواله ميں یہی اُصول اپنایا گياـ اصل لندن بهى ايكـ فوارے كے گرد آباد هے جس كا نام پكاڈلى سركس هےـ اس فوارے پكاڈلى سركس كے چاروں طرف چهـ بازار نكلتے هيں جو آدھے آدھے ميل لمبے هيں، اصل شہر لندن كى بس یہى حدود هيں يعنى ایک ميل لمبا اور ایک ميل چوڑا ـ انگريزوں كى كالونياں هونے كى وجه سے جب دور دور كى دولت سمٹ كر لندن پہنچى تو چند ہزار كى آبادى سے يه شہر لاكهوں كا شہر بن گيا اور لندن كے گرد مضافاتى بستياں بنائى گئيں اور انهيں مكمل شەروں كے اختيارات دئيے گئے چناچه لندن شہر سے كہيں بڑے باره شہر لندن کے گرد 1940ء ميں آباد كئيے گئے ـ ان شہروں كو ہوم كاؤنٹى كا نام ديا گيا ـ برطانیہ بھر ميں ايسى كاؤنٹيوں كى تعداد 32 ہے، جن ميں سے باره لندن ميں ہیں ـ لندن شہر اور اس كى كاونٹيوں كا موجوده كل رقبعه 610 مربع میل هے ، جسے عظيم لندن كہا جاتا ہے ـ ایک محتاط اندازے كے مطابق روزانه گياره سے باره لاكهـ افراد لندن ميں داخل هوتے، گهومتے پهرتے ہیں اور شام كو واپس جاتے هيں اور ٹرانسپورٹ كے بەترين نظام سے فائده اٹهاتے هيں جو ہائى ويز سے لے كر ريل كے جديد نظام تكـ پهيلا هوا هے ـ لندن كے بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیتھرو پرقريبا ساڑے چار كروڑمسافر سالانه سفر كرتے هيں دنيا كى سب سے پەلى زير زمين ريل گاڑى١٨٦٣ء ميں لندن ميں چلائى گئى ـ دوسرى جنگ عظيم ميں زير زمين ريل گاڑى كے نظام كو كافى نقصان پەنچا ـ اب اس كى پٹريوں كى كل لمبائى٢٥٤ميل هے ـلندن كا كوئى مقام ايسا نەيں جو اس كى دسترس سے باہرهو ـ


حکومتی تشکیل[ترمیم]

مقامی حکومت[ترمیم]

قومی حکومت[ترمیم]

جغرافیہ[ترمیم]

طُول و عرض[ترمیم]

اہمیت[ترمیم]

مقام نگاری[ترمیم]

آب و ہوا[ترمیم]

اضلاع[ترمیم]

آبادتیاتی اعداد و شمار[ترمیم]

نسلی گروہ[ترمیم]

مذہب[ترمیم]

عیسائیت[ترمیم]

دیگر مذاہب[ترمیم]

معیشت[ترمیم]

موسیقی[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "سن 2006ء میں دنیا کے عظیم اور وسیع ترین شہری علاقے". City Mayors.com. http://www.citymayors.com/statistics/urban_2006_1.html. 
  2. ^ "قدیم رومی سلطنت". لندن کا عجائب گھر. http://www.museumoflondon.org.uk/English/EventsExhibitions/Permanent/RomanLondon.htm. 
  3. ^ "قدیم رومی طرزِ تعمیر". Ontario Architecture. http://www.ontarioarchitecture.com/gothicrevival.html. Retrieved 2008-05-06. 
  4. ^ ملز, ڈیوڈ (2001-02-22). مقامات کے نام، لندن کی لغت. آکسفورڈپیپرز. ISBN 978-0192801067. OCLC 45406491. http://www.amazon.co.uk/Dictionary-London-Place-Names-Paperback-Reference/dp/0192801066. 
  5. ^ "ملفِ حقیقت: لندن سرکاری دفاتر برائے انگریزی علاقہ جات". لندن کے سرکاری دفاتر. http://www.gos.gov.uk/gol/factgol/London/?a=42496 ملفِ حقیقت: لندن. 
  6. ^ الکوک, ہاورڈ (1994). مقامی حکومت: حکمتِ عملی و انتظام برائے مقامی حکومت. روڈلیج. pp. 368. ISBN 0415101670. 
  7. ^ جانز, بل; ڈینس کوانگ، مائیکل موران، فلپ نورٹن (2007). سیاستِ برطانیہ. پئیرسن ایجوکیشن. pp. 868. ISBN 1405824115. 
  8. ^ ز۔ین لیمیٹڈ (نومبر 2005). "لندن بہ لحاظ سے بین الاقوامی معاشی مرکز" (PDF). CityOfLondon. http://www.cityoflondon.gov.uk/NR/rdonlyres/131B4294-698B-4FAF-9758-080CCE86A36C/0/BC_RS_compposition_FR.pdf. 
  9. ^
  10. ^ "فہرستیں: عظیم برطانیہ کے متحدہ ممالک اور شمالی آئرلینڈ". ثقافتِ دنیا. http://whc.unesco.org/en/statesparties/gb. 
  11. ^ "برطانونی روزگار میلہ;— بیرون ملک کا دورہ". وائے ایکس بیرون ممالک روزگار. Archived on 2008-06-07. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://web.archive.org/web/20070123080157/http://www.y-axis.com/verybritish/VisitOverseas.htm. Retrieved 2008-06-07. 
  12. ^ "برطانیہ کے لوگوں میں بولی جانے والی زبانیں". CILT. http://www.cilt.org.uk/faqs/langspoken.htm. Retrieved 2008-06-06. 
  13. ^ "منتخب عمر کے افراد کے گروہ، مقامی برطانون اربابِ اقتدار" (XLS). دفتر برائے سرکاری اعداد و شمار. http://www.statistics.gov.uk/statbase/ssdataset.asp?vlnk=9664&More=Y. 
  14. ^ "یورپی اتحاد کا سب سے بڑا شہر:2001 میں ستر لاکھ سے زائد مکین". www.statistics.gov.uk. http://www.statistics.gov.uk/cci/nugget.asp?id=384. 
  15. ^ "عمومی شہری آبادی:مردم شماری 2001 شہری علاقوں کے اعداد و شمار". www.statistics.gov.uk. http://www.statistics.gov.uk/statbase/ssdataset.asp?vlnk=8271&More=Y. 
  16. ^ "فرہنگ جغرافیہ". دنیا کے میٹروپولیٹن علاقے. Archived on 2007-09-30. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://web.archive.org/web/20070930211424/world-gazetteer.com/wg.php?x=&men=gcis&lng=en&dat=32&srt=npan&col=aohdq&pt=a&va=&srt=pnan. 
  17. ^ "لندن میٹرو پولیٹن علاقوں کی آبادی". ناشر آبادتیاتی. 28 August 2007. http://www.demographia.com/dm-lonarea.htm.