ڈیگو گارشیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بحر ہند میں ڈیگو گارشیا کے مقام کا تعین
جزیرے کا فضائی منظر

ڈیگو گارشیا بحر ہند کے وسط میں واقع ایک جزیرہ ہے۔ یہ بھارت اور سری لنکا کے جنوبی ساحلوں سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اصل میں یہ حلقہ نما مونگے کی چٹانیں ہیں جو مرجانی جھیل کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں جسے انگریزی میں Atoll کہا جاتا ہے۔ یہ بحر ہند میں واقع برطانوی مقبوضات کا حصہ ہے۔ 1973ء میں مقامی آبادی کی جبری بے دخلی کے بعد سے امریکہ اور برطانیہ اس جزیرے کو فوجی اڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

جغرافیہ[ترمیم]

یہ جزیرہ 37 میل (60 کلومیٹر) طویل ہے 5 میل (8 کلومیٹر) عریض ہے۔ مرجانی جھیل کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 98 فٹ (30 میٹر) ہے تاہم اس میں مرجانی چٹانوں کی کئی چوٹیاں باہر نکلی ہوئی ہیں جس کے باعث جہاز رانی خطرناک ہے۔ جزیرے کا کل رقبہ 66 مربع میل (170 مربع کلومیٹر) ہے جس میں سے 12 مربع میل (30 مربع کلومیٹر) زمینی علاقہ، 6 اعشاریہ 5 مربع میل (17 مربع کلومیٹر) پیرامونی علاقہ اور 48 مربع میل (124 مربع کلومیٹر) مرجانی جھیل پر مشتمل ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ڈیگو گارشیا کے ساحل کا ایک دلکش منظر

اس جزیرے کو 16 ویں صدی میں پرتگیزی جہاز رانوں نے دریافت کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جزیرے کا نام بھی اولین سفر کے جہاز کے کپتان یا جہاز راں کے نام پر رکھا گیا ہوگا۔ جزیرہ 18 ویں صدی تک غیر آباد تھا جس کے بعد فرانسیسیوں نے غلاموں کی مدد سے یہاں کھوپرے کی پیداوار کا آغاز کیا۔ نپولینی جنگوں کے بعد ڈیگو گارشیا برطانیہ کے قبضے میں آگیا تاہم 1814ء سے 1965ء تک یہ موریشس کے زیر نگیں رہا۔

فوجی اڈہ[ترمیم]

ڈیگو گارشیا کے امریکی فوجی اڈے پر بی-1 بمبار طیارے کھڑے ہیں

1965ء میں پورے علاقے (جزائر چیگوس) کو بحر ہند کے برطانوی مقبوضات کا حصہ بنا دیا گیا۔ 1966ء میں برطانیہ نے تمام جزیرے اور اس کی پیداوار خرید لیں تاہم 1971ء میں تمام پیداوار روک دی گئیں کیونکہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان ڈیگو گارشیا کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔ اس کے لیے بظاہر تو برطانیہ کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی لیکن کہا جاتا ہے کہ برطانیہ کو اس کے بدلے میں امریکہ سے پولارس میزائلوں کی 14 ملین امریکی ڈالر کی چھوٹ دی گئی۔ اس معاہدے کے تحت جزیرے پر کوئی اقتصادی سرگرمی نہیں ہو سکتی۔ 1971ء میں جزیرے پر دو ہزار مقامی افراد آباد تھے جو مشرقی ہند کے اُن کارکنوں اور افریقی غلاموں پر مشتمل تھ ےجو اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں یہاں لائے گئے تھے۔ فوجی اڈے کے قیام کے باعث تمام مقامی آبادی کو جبری طور پر سیشلس اور موریشس بے دخل کر دیا گیا۔ مذکورہ افراد ہمیشہ سے جزیرے پر اپنے حق کو جتاتے آئے ہیں اس لیے اپریل 2006ء میں 102 باشندوں کو ایک ہفتے کے لیے ڈیگو گارشیا میں قیام اور اپنے آباو اجداد کی قبروں اور اپنے گھروں کو دیکھنے کی اجازت دی گئی۔ یہاں پر ایک بحری اڈے کے علاوہ فضائیہ کا ایک عظیم اڈہ بھی قائم ہے جس میں جدید بمبار طیاروں بی 52 کا سب سے بڑا بیڑہ شامل ہے۔ عراق کے خلاف 1991ء اور 2003ء میں ہونے والی جنگوں اور افغانستان کے خلاف جارحیت میں اس اڈے نے اہم کردار ادا کیا اور بمبار طیارے اسی اڈے سے اڑ کر افغانستان اور عراق میں اہداف کو نشانہ بناتے تھے۔

جزیرے کا تفصیلی نقشہ

ان جنگوں سے قبل سرد جنگ کے دوران امریکہ بحر ہند میں اپنے اثر و رسوخ کو قائم کرنے کے لیے ایک اڈہ بنانے کا خواہشمند تھا اور اس کی خواہش کی تکمیل ڈیگو گارشیا میں اڈے قیام سے ہوگئی تاہم بھارت جو روس کا قریبی حلیف تھا اس کا سخت ترین مخالف رہا۔ لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ-بھارت تعلقات میں ڈرامائی طور پر بہتری دیکھنے میں آئی حتٰی کہ 2001ء سے 2004ء کے دوران امریکی اور بھارتی بحریہ کے درمیان کئی جنگی مشقیں بھی ہوئیں۔

دلچسپ معلومات[ترمیم]

اس جزیرے کی ایک اور خاص بات یہاں امریکی خلائی جہازوں کی لینڈنگ کے لیے تیار کردہ فضائی مستقر ہے۔ اور یہ بحر ہند میں واحد ہوائی اڈہ ہے جہاں امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کو اپنے جہاز اتارنے کی اجازت ہے تاہم اس کی نوبت کبھی نہیں آئی۔

علاوہ ازیں گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) کو چلانے میں مددگار جو تین انٹینا دنیا بھر میں نصب ہیں ان میں سے ایک اسی جزیرے پر ہے۔

قید خانہ[ترمیم]

انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے امریکہ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ڈیگو گارشیا کے اڈے کو گوانتانامو اور ابو غریب کی طرح ایک بڑے قید خانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور جون 2007ء میں یورپی کونسل نے اس دعوے کی تصدیق بھی کی۔ جس کے بعد برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک اسٹرا کو پارلیمان میں یہ تک کہنا پڑا کہ امریکی حکام نے بارہا یقین دلایا ہے کہ ڈیگو گارشیا میں کوئی قیدی نہیں لے جایا گیا۔ اکتوبر 2007ء میں برطانوی پارلیمان کی کل جماعتی امور خارجہ کمیٹی نے اعلان کیا کہ وہ ان دعووں کی تصدیق کے لیے معاملے کی چھان بین کرے گی۔