اسٹینلے، جزائر فاکلینڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش





اسٹینلے
Stanley
Aerial photo Port Stanley.jpg
عمومی معلومات
ملک Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ
صوبہ جزائر فاکلینڈ
آبادی 2115 بمطابق 2006ء
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت -4 (موسم گرما -3)
www.falklandislands.com


Location of Stanley on East Falkland

اسٹینلے (سابق نام پورٹ اسٹینلے، Stanley) برطانیہ کے زیر انتظام جزائر فاکلینڈ کا دارالحکومت اور واحد قصبہ ہے۔ یہ جنوبی امریکہ کے ساحلوں کے قریب بحر اوقیانوس میں واقع فاکلینڈ کے مشرقی جزیرے پر واقع ہے۔ اس کی آبادی تقریبا 2 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔ یہ دنیا کا جنوبی ترین انتظامی مرکز ہے، چونکہ فاکلینڈ خود مختار ریاست نہیں ہے اس لیے یہ دنیا کا جنوبی ترین دارالحکومت نہیں ہے، یہ اعزاز نیو زیلینڈ کے دارالحکومت ویلنگٹن کو حاصل ہے۔

تاریخ[ترمیم]

اسٹینلے کے مقام پر پہلی نو آبادی کے قیام پر کام 1843ء میں شروع ہوا اور جولائی 1845ء میں اسے دارالحکومت بنایا گیا۔ اس کا نام اس وقت کے وزیر جنگ و نو آبادیات ایڈورڈ اسمتھ اسٹینلے سے موسوم ہے۔ یہ نو آبادی جلد ہی جہازوں کی مرمت کے لحاظ سے ایک اہم مقام اختیار کر گئی۔ آبنائے میگلان کے علاقے میں شدید ترین موسم اور طوفانوں کے باعث یہ بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان آمدورفت کرنے والے جہازوں کے لیے اہم قیام گاہ کا درجہ رکھتی تھی۔نہر پاناما کی تعمیر سے قبل بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان آنے جانے والے جہاز آبنائے میگلان کا راستہ اختیار کرتے تھے۔ جہازوں کی مرمت اس وقت جزیرے کی سب سے اہم صنعت تھی۔ بعد ازاں جنوبی بحر اوقیانوس اور انٹارکٹیکا کے قریب وھیل مچھلیوں اور اودبلاؤ کا شکار اس علاقے کی اہم صنعت بن گیا۔

بعد ازاں یہ برطانیہ کی شاہی بحریہ کے لیے ایندھن کے حصول کا اہم مقام بنا اور یہیں موجود جہازوں نے پہلی جنگ عظیم میں معرکہ جزائر فاکلینڈ اور دوسری جنگ عظیم میں معرکہ ریور پلیٹ میں حصہ لیا۔ یہاں کا ہوائی اڈہ انٹارکٹیکا میں برطانیہ تجربہ گاہوں سے رابطے کا اہم ذریعہ ہے۔ اسے 1979ء میں کھولا گیا تھا۔

1982ء میں جنگ فاکلینڈز کے دوران 10 روز کے لیے اسٹینلے پر ارجنٹائن کی افواج کا قبضہ ہو گیا جنہوں نے اس کا نام بدل کر پورتو ارجنتینو رکھا تاہم اب برطانیہ کے دوبارہ قبضے کے بعد اس کا پرانا نام بحال کر دیا گیا۔

جنگ فاکلینڈز کے اثرات اب بھی علاقے میں موجود ہیں، اور شہر کے قرب و جوار میں کئی علاقے بارودی سرنگوں سے اٹے پڑے ہیں۔