ریو دے جینیرو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


ریو دے جینیرو
Rio de Janeiro
Montage for Rio de Janeiro.jpg
عمومی معلومات
ملک Flag of Brazil.svg برازیل
صوبہ ریاست ریو دے جینیرو
رقبہ 1260 مربع ک م
بلندی بلند ترین 1021 م، پست ترین 0 م از سطحِ سمندر
آبادی شہر: 6,093,472
ام البلد: 14,387,000
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت: -3 (موسم گرما: -2)
رمزِ ڈاک 20000-000
رمزِ بعید تکلم 21
موجودہ ناظم ایدواردو پائیس
شہر ریو دے جینیرو



ریو دے جینیرو (پرتگیزی و انگریزی: Rio de Janeiro، یعنی جنوری کا دریا) برازیل کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جو ریاست ریو دے جینیرو کا دارالحکومت بھی ہے۔

یہ شہر تقریبا دو صدیوں تک برازیل کا دارالحکومت رہا ہے۔ جس میں سے 1763ء سے 1822ء تک پرتگیزی نو آبادیاتی دور میں اور 1822ء سے 1960ء تک ایک آزاد مملکت کا دارالحکومت رہا۔ یہ پرتگیزی سلطنت (1808ء1821ء) کا بھی سابق دارالحکومت رہا تھا۔ عام طور پر شہر کو صرف ریو کہا جاتا ہے جبکہ اس کی عرفیت "شہر عجیب" (پرتگیزی: A Cidade Maravilhosa، انگریزی: The Marvelous City) ہے۔

ریو قدرتی و جغرافیائی لحاظ سے اپنے خوبصورت مقام، اپنے میلوں ٹھیلوں، موسیقی، حسین ساحلوں اور پرتعیش قیام گاہوں کے باعث دنیا بھر میں معروف ہے۔ شہر کے اہم ترین امتیازی نشانوں میں "مسیح نجات دہندہ" (پرتگیزی: Cristo Redento، انگریزی: Christ the Redeemer) کا مجسمہ ہے جو شہر میں واقع پہاڑی کی چوٹی پر ایستادہ ہے۔ اس مجسمہ کو نئے 7 عجائبات عالم (انگریزی: New Seven Wonders of the World) میں شمار کیا گیا ہے۔ دنیا کے بڑے فٹ بال میدانوں میں سے ایک ریو ہی میں واقع ہے۔

2009ء میں بین الاقوامی اولمپک انجمن نے 2016ء کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی ریو دے جینیرو کو بخشی ہے جس کے ساتھ ہی وہ جنوبی امریکہ کا پہلا شہر بن جائے گا جسے اولمپک کھیلوں کی میزبانی حاصل ہوگی۔ علاوہ ازیں یہ 48 سال بعد پہلا موقع ہوگا کہ میکسیکو (1968ء میکسیکو شہر اولمپکس) کے بعد کسی لاطینی امریکی ملک کو اولمپک کے عالمی مقابلوں کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا ہو۔

شہر دنیا کے سب سے بڑے اور دوسرے سب سے بڑ ے شہری جنگلات کا حامل بھی ہے۔ یہاں کا گیلاؤ-انتونیو کارلوس بین الاقوامی ہوائی اڈہ شہر کے برازیل اور دنیا بھر کے شہروں سے منسلک کرتا ہے۔

اپنی تمام تر دلفریبی اور دلکشی اور حسن کے باوجود ریو جرائم کے لحاظ سے دنیا کے بڑے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے اور شہر کے اس مسئلے کو کئی فلموں میں بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ شہر کے بیشتر جرائم نواحی کچی آبادیوں میں ہوتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ درمیانے اور اعلی طبقے کے علاقوں میں بھی جرائم کی شرح کم نہیں ہے۔

جڑواں شہر[ترمیم]