نیروبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش



نیروبی
Nairobi
NBO5.jpg
عمومی معلومات
ملک Flag of Kenya.svg کینیا
صوبہ صوبہ نیروبی
رقبہ 696 مربع کلومیٹر (268.7 مربع میل)
بلندی 1661 میٹر (5450 فٹ) از سطحِ سمندر
آبادی 3,138,295
منطقۂ وقت مُتناسق عالمی وقت +3
موجودہ ناظم جیفری ماجیوا
http://www.nairobicity.org/


نیروبی (انگریزی: Nairobi) کینیا کا دارلحکومت ہے۔ 1899ء میں قائم ہونے والا یہ شہر 1907ء میں ممباسا کی جگہ ملک کا دارالحکومت بنا۔ یہ صوبہ نیروبی کا صدر مقام بھی ہے۔ شہر جنوبی کینیا میں دریائے نیروبی کے کنارے پر سطح سمندر سے 5450 فٹ (1661 میٹر) کی بلندی پر واقع ہے۔

نیروبی آبادی کے لحاظ سے مشرقی افریقہ کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی 1999ء کی مردم شماری کے مطابق 30 سے 40 لاکھ کے درمیان ہے۔ 1899ء میں ایک ریلوے چھاؤنی کی حیثیت سے قائم ہونے والا یہ شہر ترقی پاتے ہوئے کینیا کا سب سے بڑا اور افریقہ کے بڑے شہروں میں سے ایک بن گیا۔

نیروبی اقتصادی و سیاسی لحاظ سے افریقہ کے اہم شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کئی قومی و بین الاقوامی اداروں اور انجمنوں کے دفاتر کا حامل ہے جو شہر کو کاروباری و ثقافتی مرکز بناتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

نیروبی شہر کا خلا سے نظارہ

جس جگہ موجودہ نیروبی شہر واقع ہے یہ علاقہ 1899ء تک ایک غیر آباد دلدلی علاقہ تھا، جب يوگینڈا ریلوے کا رسدی گودام یہاں قائم کیا گیا جو جلد ہی ریلوے کا صدر دفتر بن گیا۔ شہر کا نام قریب واقع پانی کے تالاب پر رکھا گیا جسے ماسائی زبان میں ایواسو نیروبی یعنی "سرد پانی" کہا جاتا تھا۔ 1900ء کی دہائی کے اوائل میں یہاں طاعون کی وبا پھوٹنے اور اصل شہر کے جل جانے کے باعث اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

نیروبی 1905ء میں ممباسا کی جگہ برطانوی مشرقی افریقہ محروسہ مملکت (British East Africa Protectorate) کا دارالحکومت بن گیا۔ ریلوے کے ذریعے یہاں دولت کی ریل پیل ہو گئی۔ اس وقت یہ ممباسا کے بعد کینیا کا دوسرا بڑا شہر تھا۔ یوں یہ شہر انتظامی اور سیاحتی لحاظ سے علاقے کا مرکز بن گیا خصوصاً شکار کے شوقین افراد یہاں جوق در جوق آنے لگے۔ برطانوی نو آبادیاتی دور میں انگریزوں نے خطے میں مہم جوئیوں کا آغاز کیا تو نیروبی کو اپنا مرکز بنایا۔ اس ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے شہر میں متعدد بڑے ہوٹل قائم کیے گئے، جن کے اہم مکین یہی برطانوی شکاری اور مہم ہوتے تھے۔

برطانوی دور میں نیروبی بدستور ترقی کی منزلیں طے کرتا گیا اور برطانوی شہریوں کی بڑی آبادی شہر کے نواح میں مقیم ہوئی۔

1919ء میں نیروبی کو بلدیہ کا درجہ دیا گیا۔ 1920ء سے 1950ء کے درمیان شہر میں سفید فام افراد کی آبادی 9 ہزار سے 80 ہزار تک پہنچ گئی۔ 1954ء میں نیروبی کو شہر کا درجہ دے دیا گیا۔ شہر میں سفید فام افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد نے مقامی قبائل افراد کی ناپسندیدگی کا باعث تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ماماؤ بغاوت کے نتیجے میں جومو کینیاٹا کو زندان میں ڈال دیا گیا، حالانکہ بغاوت سے ان کےتعلق کا کوئی ثبوت نہ تھا۔ جومو بعد ازاں کینیا کے صدر بنے۔ اس طرح کے اقدامات کے خلاف عوامی سطح پر زبردست احتجاج ہوا اور برطانیہ نے بالآخر 1963ء میں کینیا کو آزادی دے دی اور نیروبی نئی جمہوریہ کا دارالحکومت بنا۔

آزادی کے بعد شہر مزید تیزی سے ترقی پاتا گیا لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث شہر کے بنیادی ڈھانچے پر بہت زیادہ دباؤ پڑنا شروع ہو گیا اور اب بجلی اور پانی کی فراہمی میں تعطل معمول ہو گیا، تاہم گزشتہ چند سالوں میں ان مسائل پر قابو پانے کے لیے کوششیں کی گئی ہیں۔

1998ء میں نیروبی میں امریکہ کے سفارت خانے پر بم حملہ کیا گیا، جس کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کیا۔ اس حملے میں 200 شہری ہلاک ہوئے۔ اب اس مقام پر ایک یادگاری باغ تعمیر کیا گیا ہے۔

ثقافت[ترمیم]

نیروبی ایک کثیر القومی اور کثیر الثقافتی و مذہبی شہر ہے، جس کی وجہ سلطنت برطانیہ کی نو آبادیات، ہندوستان، صومالیہ اور سودان وغیرہ، سے یہاں آنے والے افراد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہاں گرجے، مساجد، مندر اور گردوارے سب ملتے ہیں۔

شہر کے بارے میں سب سے معروف کتاب اور فلم آؤٹ آف افریقہ ہے۔یہ کتاب کیرن بلکسن (قلمی نام آئوک ڈائنسن) نے لکھی جس میں انہوں نے اپنے قیام افریقہ کے ایام کو قلمبند کیا تھا۔ وہ 1917ء سے 1931ء تک نیروبی میں مقیم رہی تھیں اور جس علاقے میں وہ رہتی تھیں وہ آج انہی کے نام سے کیرن کہلاتا ہے۔

1985ء میں اس کتاب پر فلم آؤٹ آف افریقہ بنائی گئی جس کے لیے ہدایات سڈنی پولاک نے دی تھیں۔ اس فلم نے 7 اکیڈمی ایوارڈز سمیت 28 اعزازات حاصل کیے۔ اس فلم کی مقبولیت کے نتیجے ہی میں نیروبی شہر میں کیرن بلکسن عجائب گھر بنا۔

نیروبی میں متعدد امریکی اور برطانوی فلمیں بھی فلمائی گئی ہیں۔

جغرافیہ[ترمیم]

شہر 150 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور سطح سمندر سے 1660 میٹر (5450 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔

نیروبی کمپالا اور ممباسا کے درمیان وادی شق کے مشرقی کناروں پر واقع ہے۔ وادی شق کے قریب ہونے کے باعث زلزلے کے ہلکے جھٹکے آنا معمول ہے۔ شہر کے مغرب میں واقع این گوگ کی پہاڑیاں شہر کا سب سے اہم جغرافیائی حصہ ہیں۔ ماؤنٹ کینیا شہر کے شمال اور ماؤنٹ کلیمنجارو جنوب مشرق کی جانب واقع ہیں۔ دونوں پہاڑ شہر سے نظر آتے ہیں۔

دریائے نیروبی اور اس کے معاون دریا پورے نیروبی صوبے کو سیراب کرتے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ وانگاری ماتھائی نے شمالی نیروبی کے جنگلات کو بچانے کے لیے زبردست جدوجہد کی تھی جو شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کی رہائشی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے ختم کیے جا رہے تھے۔

شہر کے مرکز میں کینیا کی مجلس کی عمارات، ہولی فیملی گرجا، نیروبی سٹی ہال، جومو کینیاٹا کا مزار اور شہر کے اہم بازار واقع ہیں۔ یہاں کینیا قومی ناٹک گھر، کینیا قومی دستاویزات خانہ، ایم زیزی فنی مرکز اور کینیاٹا بین الاقوامی اجتماعی مرکز بھی واقع ہیں۔ شہر کے دیگر اہم مقامات میں راموما رحمت اللہ عجائب گھر برائے جدید مصوری، آل سینٹس گرجا اور متعدد بازار ہیں۔

موسم[ترمیم]

1860 میٹر کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے شہر کا موسم انتہائی معتدل ہے۔ بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں کی شامیں سرد ہوتی ہیں، خصوصاً جون/جولائی میں یہاں درجہ حرارت 10 درجہ سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ گرم ترین موسم دسمبر سے مارچ تک رہتا ہے، جب درجہ حرارت دن کے وقت 25 درجہ سینٹی گریڈ کے ارد گرد رہتا ہے۔ بارشوں کا موسم پہلی بارش کے بعد ستمبر تک جاری رہتا ہے اور ان دنوں میں عام طور پر موسم ابر آلود ہی رہتا ہے اور ہلکی پھلکی بوندا باندی ہوتی ہی رہتی ہے۔ کیونکہ نیروبی خط استوار کے قریب واقع ہے اس لیے موسموں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ طلوع و غروب آفتاب کے اوقات میں بھی سال بھر بہت زیادہ فرق نہیں آتا۔

کاروبار و معیشت[ترمیم]

آئی اینڈ ایم بینک کی بلند و بالا عمارت

نیروبی اسہامی منڈی، افریقہ کی بڑی اسہامی منڈیوں میں سے ایک ہے جسے 1953ء میں لندن اسہامی منڈی کی جانب سے بین الاقوامی اسہامی منڈی کا باضابطہ درجہ دریا گیا تھا۔ یہ حجم کے اعتبار سے افریقہ کی چوتھی سب سے بڑی منڈی ہے۔

افریقہ کی کئی بڑے اداروں کے صدر دفاتر نیروبی میں واقع ہیں۔ کینیا کی قومی پرواز کینیا ایئرویز، جو افریقہ کی دوسری سب سے بڑی ایئرلائن ہے، کا صدر مقام بھی یہیں واقع ہے جو شہر کے جومو کینیاٹا ہوائی اڈے کو مرکز کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

متعدد بین الاقوامی اداروں اور انجمنوں کے علاقائی صدر دفاتر بھی نیروبی میں واقع ہیں، جو اسے افریقہ کے موثر ترین شہروں میں سے ایک بناتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دو شعبوں یو این ای پی اور یو این-ہیبی ٹیٹ کے صدر دفاتر بھی نیروبی میں ہیں۔

نیروبی میں ملبوسات، پارچہ بافی، تعمیراتی مواد، غذائی، مشروبات اور سگریٹوں کی صنعتیں واقع ہیں۔ شہر کے نواح میں چند غیر ملکی اداروں کے کارخانے بھی واقع ہیں جن میں فائرسٹون (Firestone) اور گڈایئر (Good Year) بھی شامل ہیں۔ بیشتر صنعتیں شہر کے مشرق میں واقع ہیں۔

شہر کی سیاحت کے حوالے سے بھی ایک معروف مقام رکھتا ہے، البتہ یہ سیاح شہر کی سیر کے لیے نہیں بلکہ کینیا کے جنگلات اور قومی چراگاہوں کی سیر کے لیے آتے ہیں۔

سیاحت[ترمیم]

نیروبی کی مشہور قومی چراگاہ میں ایک زرافہ، پس منظر میں نیروبی شہر نمایاں ہے

حالانکہ شہر سیاحوں کے لیے اہم مقام نہیں رکھتا لیکن یہ کینیا کے جنگلات و باغات کی سیر کے خواہشمند افراد کا پہلا پڑاؤ ہے۔ اس کے باوجود یہاں سیاحوں کے لیے چند اچھے مقامات واقع ہیں جن میں سب سے زیادہ معروف نیروبی قومی چراگاہ (Nairobi National Park) ہے۔ یہ قومی چراگاہ اس حوالے سے دنیا میں ممتاز مقام رکھتی ہے کیونکہ یہ کسی بھی دارالحکومت یا بڑے شہر سے منسلک واحد شکار گاہ ہے۔ اس چراگاہ میں شیروں اور زرافوں کے ساتھ جانوروں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ چراگاہ میں پرندوں کی 400 سے زائد اقسام موجود ہیں جو پورے جزائر برطانیہ سے زیادہ ہیں۔

شہر میں متعدد عجائب گھر بھی واقع ہیں۔ جن میں نیروبی ریلوے عجائب گھر اور قومی عجائب گھر کینیا زیادہ معروف ہیں۔

شہر کی معروف قیام گاہوں میں ہلٹن، انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل، سفاری پارک، نیو اسٹین لے ہوٹل، گرینڈ ریجنسی اور نورفوک ہوٹل ہیں۔ آخر الذکر شہر کی قدیم ترین قیام گاہ ہے۔ پناری ہوٹل شہر کی پانچ ستارہ قیام گاہوں میں نیا اضافہ ہے جو 2006ء میں کھولا گیا۔

نیروبی افریقہ کے سب سے بڑے تختہ برف کا بھی حامل ہے، جو پناری اسکائی سینٹر کہلاتا ہے۔ یہ تختہ برف 15 ہزار مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

نقل و حمل[ترمیم]

ہوائی اڈے[ترمیم]

نیروبی کا جومو کینیاٹا بین الاقوامی ہوائی اڈہ

نیروبی کے لیے فضائی خدمات فراہم کرنے والا مرکزی ہوائی اڈہ جومو کینیاٹا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے۔ یہ مشرقی و وسطی افریقہ کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے جس نے 2005ء میں 40 لاکھ سے زائد مسافروں کو خدمات فراہم کیں۔ مشرقی افریقہ کے قدرتی مقامات اور افریقہ کے چھوٹے شہروں کو جانے والے سیاحوں اور عوام کے لیے یہ ہوائی اڈہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ہوائی اڈہ شہر کے مرکزی کاروباری ضلع سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس ہوائی اڈے سے یورپ اور ایشیا کے لیے بین البراعظمی پروازیں بھی چلتی ہیں۔

نیروبی کے مغرب میں ایک چھوٹا مگر مصروف ہوائی اڈہ ولسن ہوائی اڈہ واقع ہے۔ یہ چھوٹے طیاروں کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے جو اندرون ملک یا مشرقی افریقہ کے دیگر مقامات کے لیے اڑتے ہیں۔

ایسٹ لے ہوائی اڈہ دراصل جیٹ جہازوں سے قبل کے زمانے کی ایک فضائی پٹی ہے۔ یہ 1930ء اور 1940ء کی دہائی میں برطانوی مسافروں اور ڈاک لے جانے والے ہوائی جہازوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی جو ساؤتھمپٹن سے کیپ ٹاؤن جاتے تھے۔ اب یہ ہوائی اڈہ ایک عسکری اڈہ ہے۔

دیگر ذرائع[ترمیم]

شہر کا سب سے عام ذریعہ نقل و حمل بسیں ہیں، جو نجی شعبے میں چلائی جاتی ہیں۔ یہ اندرون و بیرون شہر کے لیے چلائی جاتی ہیں۔

ایک ریلوے مرکز کی حیثیت سے قائم ہونے والا شہر آج بھی کینیا ریلویز کا صدر دفتر ہے جو مرکز شہر کے قریب واقع ہے۔ پٹریاں ممباسا سے کمپالا کی جانب جاتی ہیں۔ بنیادی طور پر ریلیں بار برداری کے لیے استعمال ہوتی ہیں لیکن ممباسا اور کسومو کے لیے روزانہ رات کو مسافر ٹرینیں چلائی جاتی ہیں۔ شہر میں کوئی ہلکی ریل، ٹرام یا زیر زمین ریلوے نہیں ہے۔

بلند عمارات[ترمیم]

نیروبی شہر کی بلند عمارات

آزادی کے بعد اور 1990ء کی دہائی میں شہر میں تعمیراتی طور پر ایک انقلاب برپا ہوا جس کے نتیجے میں یہاں افریقہ کی بلند ترین عمارات میں سے چند تعمیر ہوئیں۔ ان میں نیوسینٹرل بینک ٹاور (140 م)، ٹیلی پوسٹا ٹاورز (120 م)، کینیاٹا انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (105 م)، این ایس ایس ایف بلڈنگ (103 م)، آئی اینڈ ایم بینک ٹاور (100 م) اور گورنمنٹ آفس کانفرنس ہال (98 م) شامل ہیں۔

کچی آبادیاں[ترمیم]

افریقہ کی سب سے بڑی کچی آبادی کبیرا کا ایک منظر

ترقی پذیر ممالک کے عام شہروں کی طرح نیروبی کے نواح میں بھی کچی آبادیاں واقع ہیں جو زیادہ تر روزگار کی تلاش میں آنے والے دیہی علاقوں سے آنے والے افراد سے آباد ہیں۔

افریقہ کی سب سے بڑی اور غریب ترین کچی آبادی کبیرا نیروبی کے مغرب میں واقع ہیں۔ کبیرا میں 5 سے 10 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ اس علاقے کی زمین حکومت کی ملکیت ہے، اور دو مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس علاقے میں متعدد فلمیں بھی فلمائی گئی ہیں جن میں ایک کونسٹینٹ گارڈنر ہے۔

دیگر بڑی کچی آبادیوں میں مٹھارے اور کوروگوچو شامل ہیں۔ صومالیہ سے آنے والے مہاجرین ایسٹ لے میں رہتے ہیں جسے عرف عام میں "چھوٹامقدیشو" کہا جاتا ہے۔


رہائشی علاقے[ترمیم]

کچی آبادیوں کے علاوہ نیروبی کے بیشتر علاقے نسبتاً بہتر رہائشی سہولیات کے حامل ہیں۔ خصوصاً شہر کے مغربی علاقے میں اچھے گھر واقع ہیں۔ برطانوی افراد نے لنگاٹا اور کیرن میں اپنی رہائش گاہیں بنائی تھیں اور آج درمیانی اور زیادہ آمدنی کے حامل افراد پارک لینڈز، ویسٹ لینڈز، ہرلنگھم، ملیمانی اور نیروبی ہل کے علاقوں میں رہتے ہیں۔

درمیانے طبقے کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث کئی نئی بلند و بالا عمارات و رہائشی منصوبے شہر اور گرد و نواح میں تعمیر کیے گئے ہیں۔

جرائم[ترمیم]

نیروبی جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث مسائل کا شکار ہے، اور ایک خطرناک شہر کی حیثیت سے مشہور ہونے لگا حتیٰ کہ اسے " Nairobbery" تک کہا جانے لگا۔ 2001ء میں اقوام متحدہ کے بین الاقوامی شہری خدمات کے ادارے (International Civil Service Commission) نے نیروبی کو دنیا کے غیر محفوظ ترین شہروں میں شمار کیا۔

شہر میں جرائم کی بڑی وجہ قرب و جوار کے علاقوں سے آنے والے افراد کو روزگار نہ ملنا سمجھی جاتی ہے جو کچی آبادیوں میں مقیم ہیں۔

شہر کے بیشتر بڑے گھروں میں چوکیدار اور محافظ کتے رکھے جاتے ہیں۔ سیاحوں کو بھی تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنی قیمتی اشیاء ظاہر نہ کریں اور رات کے وقت شہر کے مرکز میں نہ گھومیں۔

جامعات[ترمیم]

جامعہ کینیاٹا

نیروبی میں ملک کی ممتاز جامعات واقع ہیں۔

جامعہ نیروبی کینیا کی سب سے قدیم جامعہ ہے۔ یہ جامعہ 1956ء میں جامعہ مشرقی افریقہ کے ایک حصے کے طور پر قائم کی گئی، لیکن 1970ء میں اسے ایک علیحدہ جامعہ بنا دیا گیا۔ جامعہ کے طلبہ کی تعداد 22 ہزار کے قریب ہے۔

مرکز نیروبی سے 23 کلومیٹر کے فاصلے پر جامعہ کینیاٹا واقع ہے۔ یہ جامعہ 1985ء میں قائم کی گئی۔

جامعہ اسٹراتھ مور 1961ء میں ایک کالج کی حیثیت سے شروع کی گئی۔ 1966ء میں اسے جامعہ کا درجہ دیا گیا۔

جڑواں شہر[ترمیم]