گبرون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
گبرون، بوتسوانہ

گبرون افریقہ کا تیز ترین تر‍قی کرتا ہوا رنگا رنگ شہر اور بوتسوانہ کا دارالحکومت ہے، جو گالی اور اودی کی پہاڑیوں کی درمیانی وادی میں دریائے نوٹوان کے کنارے آباد ہے۔ جنوری 2005ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی دو لاکھ آٹھ ہزار چار سو گیارہ ہے۔

تاریخ[ترمیم]

گبرون کا نام قریب واقع دیہات گیبرونز سے لیا گیا ہے، اور یہ نام اس دیہات کو پرانی افریقی رویات کے مطابق ایک سابقہ سردار کے نام پر دیا گيا، جسکا نام گوسی گبرون (Kgosi Gaborone) تھا۔ اور اسکا تعلق باتلوکوا (موجودہ لوکوینگ) سے تھا۔

1969ء سے پہلے شہر گبرونز کے نام سے ہی جانا جاتا تھا، جسے بعد میں مافکنگ کی جگہ دارالحکومت بنایا گیا۔ 1965ء میں برطانیہ کے زیر انتطامیت سے نکلنے کے بعد اور مافکنگ کے بوتسوانہ سے باہر ہونے کی وجہ سے ایک نئے دارالحکومت کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسکے لیے کئی شہر زیر غور آۓ لیکن گبرون کو علاقائی اہمیت کی وجہ سے چنا گیا، کیونکہ یہ واحد شہر تھا جہاں سبھی قبائل کی رسائی آسانی سے ممکن تھی اور یہ کسی ایک قبیلہ کے زیر اثر بھی نہیں تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شہر پانی کے منبہ کے قریب تھا۔

شہر کے مرکز کو تین سال میں تعمیر کیا گیا، جس میں قومی اسمبلی، حکومتی دفاتر، بجلی گھر، ہسپتال، سکول، ریڈیو سٹیشن، ٹیلیفون ایکسچینج، تھانہ، ڈاکخانہ اور تقریباً ایک ہزار رہائشی مکانات شامل تھے۔ تمام انتظامات 30 جون 1966ء تک مکمل کر لیے گۓ تھے جس دن بوتسوانہ کو آزادی ملی جو افریقہ میں تاج برطانیہ سے چھٹکارہ پانے والا گیارہواں ملک تھا۔

موجودہ شہر[ترمیم]

گبرون، بوتسوانہ رات کا منظر
گبرون، بوتسوانہ
گبرون، بوتسوانہ شہر کی سڑکیں

کئی سالوں تک گبرون دنیا کے تیز ترین ترقی کرنے والے شہروں میں رہا اور اب بھی ہے۔ ہر سال ملک کے بجٹ میں سے خطیر حصہ گبرون کی سڑکوں، اور دیگر سہولتوں کی تعمیر نو اور بہتری پر خرچ کیا جاتا ہے۔ مرکزی حصہ کی تمام عمارتیں جدید طرز تعمیر کی عکاسی کرتی ہیں، جنکی تعمیر میں شیشہ، سٹیل اور اینٹوں کو ملا کر استعمال کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ شہر کے مضافات کو بھی مرکز کی طرح جدید بنایا جا رہا ہے۔ نۓ شہر میں پانی کی ترسیل کا اچھا نظام موجود ہے جو شروع میں ایک چھوٹے قصبہ کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا تھا، لیکن شہر کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک بڑا ڈیم تعمیر کیا گیا ہے۔ قریب واقع مینگانیز اور اسبسٹاس کی کانوں کی وجہ سے صنعتی ترقی بھی ہوئی ہے۔

جنوبی افریقی تعمیراتی اتحاد یا ساؤتھ افریقن ڈویلوپمنٹ کمیونٹی (SADC) کے مرکزی دفاتر بھی گبرون میں واقع ہیں۔ تنظیم کی تشکیل رکن ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ اور جنوبی افریقہ پر انحصار کم کرنے کے لیے 1988ء میں کی گئی۔ اسکے علاوہ شہر میں جامعہ بوتسوانہ (یونیورسٹی آف بوتسوانہ) اور بوتسوانہ کا پہلا ائر پورٹ سرسیریتسے خامہ بین الاقواقی ائر پورٹ واقع ہیں۔

خارجی ربط[ترمیم]