خرطوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مرکز شہر میں زندگی رواں دواں ہے

خرطوم سوڈان کا دارالحکومت ہے۔ یہ عین اس مقام پر واقع ہے جہاں نیل ابیض اور نیل ازرق آپس میں ملتے ہیں۔ اول الذکر دریا یوگینڈا سے جبکہ آخر الذکر ایتھوپیا سے سفر کرتا ہوا یہاں دریائے نیل کی صورت اختیار کرتا ہے اور پھر مصر سے بہتا ہوا بحیرہ روم میں جا گرتا ہے۔ حقیقی شہر کی آبادی 10 لاکھ سے زیادہ ہے جو اسے ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہر بناتی ہے لیکن منسلک مضافاتی علاقوں شمالی خرطوم اور ام درمان کو ملایا جائے تو اس کی آبادی 40 لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔

ابتدائی تاریخ[ترمیم]

والی مصر محمد علی پاشا نے 1821ء میں مصری افواج کی ایک چوکی کے طور پر خرطوم کی بنیاد رکھی لیکن یہ تجارت کے ایک علاقائی مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا۔ محمد علی مہدی المعروف مہدی سوڈانی کی زیر قیادت سوڈانی افواج نے 13 مارچ 1884ء کو خرطوم کا محاصرہ کیا، جس کا دفاع جنرل چارلس جارج گورڈن کی زیر قیادت انگریز فوج کر رہی تھی اور مہدی کی افواج کو کامیابی ملی اور یوں شہر انگریزوں کے ہاتھوں سے چھن گیا۔ بدلے کی آگ میں جلتے ہوئے انگریزوں نے ستمبر 1898ء میں ہوراٹیو کچنر کی قیادت میں مہدی کے مرکز ام درمان کا محاصرہ کر لیا اور خونریز لڑائی کے بعد شہر پر قبضہ کر لیا۔ انگریزوں نے مہدی سوڈانی کی لاش قبر سے نکال کر جلا دی۔ 1899ء میں خرطوم انگریز و مصر کے زیر قبضہ سوڈان اور 1956ء میں اسے آزاد سوڈان کا دارالحکومت قرار پایا۔

حالیہ تاریخ[ترمیم]

1973ء میں یہ شہر اس وقت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا جب بلیک ستمبر گروپ کے اراکین نے سعودی سفارت خانے میں 10 افراد کو یرغمال بنا لیا جس میں سے 5 سفارت کار تھے۔ اس کاروائی میں امریکی سفیر، امریکی نائب سفیر اور بیلجیم کے چارج ڈی افیئرز کو قتل کر دیا گیا۔ بقیہ یرغمالی رہا کر دیے گئے۔ خرطوم اور پورٹ سوڈان کے درمیان تیل کی پہلی پائپ لائن 1977ء میں بنی۔ 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں خرطوم چاڈ، ایریٹریا، ایتھوپیا اور یوگینڈا میں ہونے والے تنازعات کے باعث مہاجرین کا گڑھ بن گیا۔ یہ مہاجرین شہر کے نواح میں واقع بڑی کچی آبادیوں میں رہتے۔ 1980ء کی دہائی کے وسط سے یہ شہر دوسری سوڈانی خانہ جنگی اور دارفر تنازع سے متاثر ہونے والے افراد کی بڑی تعداد کا میزبان ہے۔ 1998ء میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے بم دھماکے کے بعد امریکہ نے اسامہ بن لادن کے القاعدہ گروہ کو ذمہ دار قرار دیا اور 20 اگست کو خرطوم شہر کے دواساز کارخانے الشفاء پر کروز میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ اس حملے سے کارخانہ مکمل طور پر تباہ ہو گيا اور سوڈانی معیشت کو زبردست دھچکہ لگا۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ کارخانے کا اسامہ بن لادن یا القاعدہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔

معیشت[ترمیم]

شہر کی صنعتوں میں طباعت، شیشے کی تیاری، غذائی اور پارچہ بافی کی صنعتیں شامل ہيں۔ پٹرولیم کی مصنوعات ریاست خرطوم کے انتہائی شمالی علاقوں میں تیار ہوتی ہیں جس سے شہر سے وابستہ کئی افراد کو روزگار حاصل ہے۔ سوڈان کے بڑے تیل صاف کرنے والے کارخانوں میں سے ایک شمالی خرطوم میں واقع ہے۔

تعلیم[ترمیم]

شہر خرطوم سوڈان کی کئی اعلٰی جامعات کا مرکز ہے جن میں:

  • جامعہ خرطوم، جسے 1902ء میں گورڈن میموریل کالج کے طور پر قائم کیا گیا تھا تاہم 1930ء کی دہائی میں اسے شہر کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔
  • اکادمی برائے طبی علوم و طرزیات (The Academy of Medical Sciences and Technology) المعروف AMST 1996ء میں پروفیسر مامون حمیدہ نے شہر کے قلب میں قائم کی۔ یہ ملک کے اعلٰی ترین تعلیمی اداروں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اور سوڈان کی بہترین نجی جامعہ قرار دی جاتی ہے۔
  • جامعہ سوڈان برائے علوم و طرزیات (University of Sudan for Science and Technology)
  • کمپیوٹر کالج برائے حضرات
  • جامعہ جوبا۔ خانہ جنگی کے ایام میں اسے جوبا سے خرطوم منتقل کر دیا گیا۔ اب حالات بہتر ہونے کے ساتھ اسے دوبارہ منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔
  • بایان جامعہ برائے علوم و طرزیات (Bayan Science and Technology University)

ذرائع نقل و حمل[ترمیم]

خرطوم سوڈان کے سب سے بڑے ہوائی اڈے 'خرطوم بین الاقوامی ہوائی اڈہ' کا حامل ہے۔ یہ سوڈان کی اہم ایئر لائن سوڈان ایئرویز کا مرکز ہے۔ہوائی اڈے کو شہر کے جنوبی علاقے میں قائم کیا گیا تھا لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے باعث اب یہ شہر کے قلب میں آ گیا ہے۔ ایک نیا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اس وقت ام درمان میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ خرطوم کی جگہ سوڈان کے اہم ترین ہوائی اڈے کی جگہ لے گا۔ علاوہ ازیں جوبا اور پورٹ سوڈان کے ہوائی اڈے بھی معروف ہیں۔

جڑواں شہر[ترمیم]