اسامہ بن لادن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Suspected hoax اس مضمون کی غیرجانبداری اور/ یا اس میں شامل معلومات کی صحت شکوک سے بالاتر نہیں.


اسامہ بن لادن
أسامة بن لادن
پیدائش 10 مارچ 1957 (1957-03-10)
ریاض, سعودی عرب
وفات 2 مئی 2011 (عمر 54 سال)
ایبٹ آباد، پاکستان
وجۂ وفات ایبٹ آباد فوجی آپریشن
رہائش ایبٹ آباد, پاکستان
جانشین ایمن الظواہری
مذہب

سنی (قطبی)[1]

years_active = 1979–2011
اولاد عبداللہ لادن
سعد بن لادن
عمر بن لادن
حمزہ بن لادن
(بن لادن خاندان)
Military career
وفات ریاض, سعودی عرب
مقام وفات ایبٹ آباد, پاکستان 34°10′9″N 73°14′33″E / 34.16917°N 73.2425°E / 34.16917; 73.2425
آخری آرام گاہ شمالیبحیرہ عرب
وفاداری القاعدہ
جنگیں/محارب

افغانستان میں روسی جنگ
دہشت پر جنگ

  • افغان جنگ (2001–تا حال)
    • تورا بورا کی لڑائی
  • شمالی مغربی پاکستان کی لڑائی
    • آپریشن جیرونیمو

اسامہ بن لادن کا مکمل نام اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن۔ اسامہ بن لادن 10 مارچ 1957 کو سعودیہ عرب کے دارالحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔ امریکہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں ان کا نام شامل ہے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے اسامہ بن لادن کو یکم مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں قتل کر دیا۔

سوانح

خاندانی پس منظر

اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب کے مشہور رئیس خاندان بن لادن خاندان سے ہے۔ اسامہ بن لادن محمد بن عوض بن لادن کے صاحبزادے ہیں جو شاہ فیصل کے خاص دوستوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ بن لادن کا کاروبار پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلا ہوا ہے۔ اسامہ کے بقول انکے والد نے امام مہدی علیہ اسلام کی مدد کے لیے کروڑوں ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا تھا۔ اور وہ ساری زندگی امام مہدی کا انتظام کرتے رہے۔ ایک انٹرویو میں اسامہ بن لادن نے اپنے والد کے بارے بتاتے ہوئے کہا کہ "شاہ فیصل دو ہی شخص کی موت پر روئے تھے، ان دو میں سے ایک میرے والد محمد بن لادن تھے اور دوسرے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو تھے۔[حوالہ درکار]

تعلیم

اسامہ بن لادن نے ابتدائی تعلیم سعودی عرب سے ہی حاصل کی بعد ازاں انہوں نے ریاض کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے ماسٹر ان بزنس ایڈمنسٹریشن (MBA)کیا۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں بعض مغربی صحافیوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے لندن کی کسی یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی، تاہم اسامہ بن لادن کے قریبی حلقے سے اس خیال کی نفی ہوتی ہے۔

سرخ نشان میں موجود اسامہ بن لادن کے بچپن کی تصویر جو فالون ، سوئیڈن میں 1971 میں لی گئی۔

عملی میدان

80 کے عشرے میں اسامہ بن لادن مشہور عرب عالم دین شیخ عبد اللہ عظائم کی تحریک پر اپنی تمام خاندانی دولت اور عیش و آرام کی زندگی کو خیر باد کہ کر کمیونسٹوں سے جہاد کرنے کے لیے افغانستان آگئے.۔ جب مجاہدین کے ہاتھوں روس کی شکست کے بعد جب مجاہدین کی قیادت افغانستان میں اقتدار کے حصول کے لیے آپس میں جھگڑ پڑے تو اسامہ بن لادن مایوس ہو کر سعودی عرب چلے گئے۔ جب اسامہ بن لادن میں تھے تو صدام حسین نے 1991ء میں کویت پر حملہ کر کر اس پر قبضہ کر لیا۔ اس موقع پر جہاں دنیا کے اکثر ممالک نے عراق کے اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیا وہاں باقی عرب ممالک عراق کے اس قدم کو مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہو جہاں امریکہ نے ایک طرف کویت کا بہانہ بنا کر عراق پرحملہ کردیا تو دوسری طرف وہ سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کا بہانہ بنا کر شاہ فہد کی دعوت پر مقدس سرزمین میں داخل ہوگیا۔ تاہم اس موقع پر اسامہ بن لادن نے مقدس سرزمین پر امریکی فوجیوں کی آمد کی پر زور مخالفت کی اور شاہ فہد کو یہ تجویز دی کہ عراق کے خطرات سے نمٹنے کیلیے ایک اسلامی فورس تشکیل دی جائے اور امید دلائی کہ وہ اس کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کریں گے تاہم خادم حرمین الشرفین شاہ فہد نے شیخ اسامہ کے مشورے کو یکسر نظر انداز کرکر امریکیوں کو مدد کی اپیل کر دی۔ جس کے نتیجے میں شاہی خاندان اور اسامہ کے مابین تلخی پیدا ہوگئ اور بالآخر 1992میں اسامہ بن لادن کو اپنا ملک چھوڑ کر سوڈان جانا پڑا۔

اسامہ بن لادن نے سوڈان میں بیٹھ کر مقدس سرزمین پر ناپاک امریکی وجود کے خلاف عرب نوجوانوں میں ایک تحریک پیدا کی اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں جاری دیگر اسلامی تحریکوں سے رابطے قائم کئے۔ اسی دوران اسامہ بن لادن نے دنیا بھر میں امریکی مفادات پر حملوں کا مشہور فتوی بھی جاری کردیا۔ جس کو ساری دنیا میں شہرت ملی یہاں تک کہ اسامہ بن لادن کی امریکہ مخالف جدوجہد کی بازگشت امریکی ایوانوں میں سنائی دینے لگی۔ یہ وہ وقت جب تنزانیہ اور نیروبی میں امریکی مفادات پر کامیاب حملوں کے بعد سوڈانی حکومت اسامہ بن لادن کی سوڈان میں موجوگی پر شدید امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

اسی دوران طالبان پاکستانی ایجینسیوں کی مدد سے کابل فتح کر کے تقریباً 60 فیصد افغانستان پر قدم جما کر ایک مستحکم حکومت قائم کر چکے تھے۔ اسی سال یعنی 1996 میں اسامہ بن لادن اپنے ایک پرائیویٹ چارٹر جہاز کے زریعے افغانستان پہنچے جہاں انہیں طالبان کے امیر ملا محمد عمر اخوند کی جانب سے امارات اسلامیہ افغانستان میں سرکاری پناہ حاصل ہوگئ۔ اسامہ بن لادن نے افغانستان کے مانوس ماحول میں بیٹھ کر اپنی تنظیم القائدہ کی ازسر نو منظم کی اور دنیا بھر میں آمریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کاروائیاں تیز کردیں۔ اسامہ بن لادن نے اپنے جہادی ٹھکانے زیادہ تر جلال آباد سے قریب تورا بورا میں قائم کئے۔ 1997 میں امریکی صدر بل کلنٹن نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالا مگر طالبان نے اپنے مہمان کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد طالبان اور امریکہ میں تلخی کافی بڑھ گئی۔

القاعدہ کا قیام

1998ء میں امریکہ نے کروز میزائل سے افغانستان اور سوڈان پر حملہ کیا اور دعوی کیا کہ حملے میں اسامہ بن لادن کے جہادی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور حملوں کا مقصد اسامہ بن لادن کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ اس حملے کےبعد اسامہ بن لادن اسلامی کو دنیا میں ایک نئی شناخت ملی۔ پوری دنیا میں انکی شہرت ہوئی اور ہر جگہ انہی کا تذکرہ ہونے لگا۔ اس حملے کے بعد القائدہ کے قدرے کم مقبول رہنما پوری دنیا میں امریکی عزائم اور جارحیت کے سامنے واحد مدمقابل کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ ان حملوں کے بعد القاعدہ کو رضاکار بھرتی کرنے میں بھی آسانی ہو گئی۔ ان حملوں کے بعد اسامہ بن لادن روپوش ہوگئے اور عوامی اجتماعات میں شرکت سے اجتناب برتنا شروع کردیا۔ امریکی حکومت نے 11 اکتوبر2001 کو امریکہ کے شہروں نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا الزام محض ایک گھنٹے کے اندر ہی ہزاروں میل دور بیٹھے اسامہ بن لادن پر لگادیا۔ تاہم اسامہ بن لادن نے اس واقع میں ملوث ہونے سے واضح انکار کیا۔ اسکے باوجود دنیا کے سب سے طاقت ور ملک نے اقوام متحدہ کی منظوری کے ساتھ کم از کم چالیس دوسرے خوشحال ملکوں کے ساتھ مل کر اکتوبر 2001کے وسط میں دنیا کے کم زور ترین اور پسماندہ ترین ملکوں میں سے ایک افغانستان پر دھاوا بول دیا۔ تاہم سات سال گزر جانے کے باوجود اسے اپنے بنیادی مقصد یعنی اسامہ بن لادن کو پکڑنے اور القاعدہ کو ختم کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے ۔ آج بھی امریکیوں کے پاس میڈیا کو جاری کرنے کے لیے دعوے تو بہت ہیں لیکن درحقیقت ان کے دامن میں نا کامی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

آخری ایام

اسامہ بن لادن کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی ساری دنیا کے لیے ایک معمہ رہی ۔ اور اس کی وجہ بھی خود امریکی حکام کا رویہ ہی تھا ۔ ایک نکتۂ نظر کے مطابق ان کی موت کچھ اس طرح ہوئی ۔ 10 مئی کو ڈان نیوز ٹیوی پر خبر القاعدہ کی وضاحت شائع ہوئی ،جس میں بتایا گیا کہ شیخ اسامہ بن لادن 2003ء میں انتقال کرگئے تھے۔ حالانکہ 4 مئی کو ایک جہادی ویب سائٹ کے حوالے سے یہ بات پھیلائی گئی کہ القاعدہ نے اسامہ بن لادن کی موت کی تصدیق کی ہے۔ [2]

القاعدہ کے رابطوں کا کئی سال تک تعاقب اور پکڑے گئے قیدیوں سے تفیتیش کے نتیجے میں سی آئی اے نے پتہ لگایا کہ پاکستانی علاقے ایبٹ آباد میں ایک مکان ایسا ہے جس کے رہائشی پر اسرار حد تک خود کو سماجی و معاشرتی معاملات میں محدود رکھتے ہيں ۔ حتی الامکان اس جگہ کی جاسوسی کرنے کے باوجود حکام اس میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کی تصدیق کرنے میں ناکام رہے ۔ بالآخر امریکی حکام نے رسک لینے کا فیصلہ کیا ۔ پینٹاگون نے اس مکان پر فوجی آپریشن کی منظوری دی اور اس آپریشن کے لیے افغانستان میں بگرام میں موجود امریکی فوجی اڈے کو آپریشن مرکز بنایا گیا ۔ اس سلسلے میں امریکی فوجیوں کو اس بات کا اندیشہ نہيں تھا کہ وہ پاکستانی علاقے میں جارحیت کرنے جار ہے ہيں کیوں کہ انہیں یقین تھا کہ پاکستانی حکام پچھلے واقعات کی طرح اس دراندازی پر بھی خاموش رہیں گے ۔ اندیشہ صرف اس بات کا تھا کہ کہیں اتنے اہم اوربڑے آپریشن کے نتیجے میں اسامہ بن لادن تو دور کی بات القاعدہ کا کوئی رکن بھی ہاتھ نہ لگا تو آنے والے وقتوں میں ان کے حوصلے ٹوٹ سکتے ہيں ۔ خلاف توقع آپریشن کامیاب رہا ۔

یکم اور دو مئی 2011کی درمیانی شب تین امریکی فوجی ہیلی کاپٹر نے پاکستانی سرحد عبور کر کے اس مکان پر دھاوا بول دیا ۔ آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں ہی ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ۔ ( جس کے متعلق یہ بھی شبہ ہے کہ اسے امریکی حکام نے خود مار کر گرایا تا کہ آپریشن میں اپنے لیے ہمدردی کا جواز پیدا کر سکیں ) آپریشن جاری رہا ۔ مکان میں اسامہ بن لادن کے ساتھ اس کے بیوی بچے بھی موجود تھے ۔ بعض القاعدہ ارکان کے بہ قول اسامہ بن لادن ہر وقت خود کش جیکٹ پہنے رہتے تھے ۔ لہذا انہوں نے گرفتاری سے پہلے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔ جب کہ امریکی فوجیوں کے دعوے کے مطابق بن لادن کو گولی ماری گئی ۔ ایک امریکی فوجی کے بیان کے مطابق بن لادن گرفتاری کے وقت غیر مسلح تھا [3]

اس آپریشن کے مناظر براہ راست مختلف مقامات پر نشر کیے جاتے رہے جس میں پینٹا گان اور وائٹ ہاؤس بھی شامل ہیں ۔ آپریشن چند ہی منٹوں میں ختم ہو گیا ۔ پاکستانی حکام کو جتنی دیر میں امریکی دراندازی کے بارے میں معلوم ہوا اور ان کے جیٹ طیاروں نے مذکورہ مکان کی طرف آنے کے لیے پرواز کی اس سے پہلے ہی آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں نے اسامہ بن لادن کی لاش ، اس کی بیوی بچوں ، اس کے مکان سے ملنے والے تمام اہم سامان لٹیریچر ہیلی کاپٹر میں ڈال کر افغانستان میں اپنے اڈے پر پہنچ گئے ۔ وہاں پہنچ کر ڈی این اے کے ذریعے اسامہ بن لادن کی میت کی پہچان کی گئی ۔ مگر بن لادن کے لاش کی تصویر کبھی منظر عام پر نہيں آئی ۔ جب کہ اس کی میت کو بھی بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری بیڑے پر پہنچایا گیا بعد ازاں اس کو بحیرہ عرب میں سمندر برد کر دیا گیا ۔

مشہور امریکی صحافی سیمور حرش نے اسامہ کی اس حملہ میں موت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی روئداد جھوٹ پر مبنی ہے۔[4]


کارہائے نمایاں

حرمین کی تعمیر

اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ انہیں ہمیشہ سے مقدس اسلامی مقامات مسجد الحرام اور مسجد نبوی اور سے انتہائی عقیدت رہی ہے۔ ان کی تعمیراتی کمپنی نے شاہ فیصل اور شاہ فہد کے ادوار میں ان دونوں مقدس مقامات کی تعمیر کا کام کیا تھا۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر اس منصوبے میں دلچسپی لی اور مختلف توسیعی منصوبے اپنی نگرانی میں مکمل کرائے ۔

مذہبی رجہانات

اسامہ بن لادن کے کٹر مذہبی خیالات خاندان کی طرف وراثت میں ملے تھے۔ محمد بن لادن اور ان کا خاندان ہمیشہ سے امام احمد بن حنبل کا مقلد اور شیخ عبدالوہاب نجدی کے تحریک احیاء توحید و سنت کا حامی اور مددگار رہا تھا۔ شروع میں انہوں نے ایک عرب شہزادے کی سی زندگی گزاری مگر وقت کے ساتھ ساتھ انکے اندر تبدیلیاں آئیں۔ 1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کی جارحیت کی خبر انہوں نے ریڈیوپر سنی۔ ابتدا میں انہوں نے افغان مجاہدین کی مالی معاونت کی مگر کچھ عرصے بعد وہ خود اپنی تمام دولت اور اساسوں کی پرواہ کئے بغیر میدان کارزار میں اتر آئے۔ اسامہ بن لادن نے شیخ عبداللہ عظائم اور دیگر عرب مجاہدین کے ساتھ ملکر سوویت فوجیوں کے دانت کھٹے کر دئے۔

تنازعات

الزامات

اسامہ بن لادن پر کنیا کے دارالحکومت نیروبی کے دھماکوں سے لیکر ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگوں پر حملوں کے کئی الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ولڈ ٹریڈ سینٹر سے پہلے جہاز ٹکرائے جانے کہ صرف پندرہ منٹ کے اندر آمریکی میڈیا اور حکومت نے اسکا الزام نیویارک سے ہزاروں میل دور افغانستان کے پہاڑوں میں روپوش اسامہ بن لادن پر عائد کردیا تھا، تاہم مختلیف حملوں کے زرئع لگ بھگ 6000افراد کو لقمعہ اجل بنانے کا الزام ہے۔ تاہم اب تک دنیا کی کسی بھی عدالت میں آج تک ان پر کوئی الزام ثابت نہیں کیا جاسکا۔ ایسے لوگوں کی کمی بھی نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن سی آئی اے کے پرانے کارندے ہیں اور سی آئی اے نے ہی انہیں اس جگہ پہنچایا جہاں وہ آج کھڑے ہیں۔ سی آئی اے کے ملٹ بیرڈن (Milt Bearden ) نے بھی ٹی وی پر اس بات کی تصدیق کی ہے۔ یہی تصدیق ریکس ٹومب (Rex Tomb) نے بھی کی جو سابقہ ایف بی آئی سے تعلق رکھتے تھے۔[5] اگرچہ وہائٹ ہاؤس اس بات کی تصدیق نہیں کرتا۔

روپوشی

اسامہ بن لادن دنیا کے سب سے مطلوب شخص ہیں۔ اسامہ بن لادن 1998 سے پاک افغان بارڈر کے قریب کہیں روپوش ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 2001 میں آمریکی حملوں کے بعد اسامہ کا القائدہ کی آپریشنل ایکٹیویٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ وہ پہاڑوں پر رہتے ہیں اور گھوڑے یا چھڑی کی مدد سے سفر کرتے ہیں۔ مصری سانس دان اوراسامہ کے دست راست ایمن الظہوری اسامہ کی عدم دستیابی میں القائدہ کے آپریشنل نگران سمجھے جاتے ہیں۔ اسامہ بن لادن کا اب تک کا آخری انٹرویو مشہور پاکستانی صحافی حامد میر نے 2001 میں لیا تھا۔ جبکہ ان کا دنیا سے آخری رابطہ 2004 میں آمریکی انتخابات کے دوران ایک ویڈیو ٹیپ کے زرئعے ہوا تھا جو عر بی زبان کے ایک سٹیلاءٹ چینل الجزیرہ نے نشر کیا تھا۔

متضاد اطلاعات

2001 میں امریکی حملے کے بعد سے اسامہ بن لادن کے بارے مختلیف متضاد اطلاعات ہر وقت گردش میں رہتی ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے اسامہ بن لادن آمریکی فوجیوں کے گھیرے میں آگئے ہیں تو کبھی یہ مشہور ہوجاتا ہے کہ اسامہ بن لادن انتقال کرگئے ہیں۔ بعض لوگ اسامہ بن لادن کی بیماری کی خبریں بھی دیتے ہیں اور کچھ کے خیال میں اسامہ 2001 میں تورا بورا پر آمریکی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے تھے ان لوگوں کے مطابق اسامہ کی بعد کے تمام پیغامات جعلی ہیں۔ تاہم ان خیالات میں سے کسی ایک کی بھی تصدیق آج تک نہ ہوسکی اور غالب گمان یہی ہے کہ اسامہ بن لادن پاک افغان سرحد کے قریب کہیں روپوش ہیں۔ امریکی اہلکار بھی اسامہ کی موت کے بارے بیانات دیتے رہے ہیں۔[6]

خاندان

اسامہ بن لادن لادن نے تیں شادیاں کی ہیں اور انکے 24 یا 25 اولادیں ہیں۔ انکے خاندان کے زیادہ تر افراد سعودیہ عربیہ میں رہائش پزیر ہیں۔ اسامہ کے ایک صاحب زادو ایک ہثپانی دوشیزہ سے شادی کے بعد اسپین میں ساسی پناہ حاصل کرچکے ہیں اور وہ اپنے والد کی کاروائوں کے مخالف ہیں۔ اسامہ بن لادن کے چھوٹے بیٹے انکے ساتھ افغانستان میں ہی موجود ہیں اور وہ القائدہ کی کاروائوں میں حصہ لیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. ^ "The label of Catholic terror was اسامہ بن لادن (2007)" (انگریزی میں)، guardian.co.uk، 2005-07-11. 
  2. ^ "ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی"، 25 مئی 2011، http://forum.mohaddis.com/threads/%D8%A7%DB%8C%D8%A8%D9%B9-%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D9%85%DB%81-%D8%A8%D9%86-%D9%84%D8%A7%D8%AF%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DA%AF%DB%8C.937/#post4686. 
  3. ^ "بن لادن غیر مسلح تھا . امریکی فوجی کا بیان"، وقت نیوز، اگست 2012، http://waqtnews.tv/46678 
  4. ^ "Seymour Hersh on Obama, NSA and the 'pathetic' American media". گارجین. http://www.theguardian.com/media/media-blog/2013/sep/27/seymour-hersh-obama-nsa-american-media. 
  5. ^ ایک ویڈیو جس میں اسام کے سی آئی اے سے تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے یوٹیوب پر
  6. ^ "Inside Sources: Bin Laden’s Corpse Has Been On Ice For Nearly a Decade". ای یو ٹائمز. 2 مئی 2011ء. http://www.eutimes.net/2011/05/inside-sources-bin-ladens-corpse-has-been-on-ice-for-nearly-a-decade/. Retrieved 18 August 2011.