تحریک الاسلامی طالبان

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

افغانستان کی سب سے موثر جنگی و سیاسی قوت ہیں ان کو مختصرا طالبان کہا جاتا ہے نسلی اعتبار سے پشتون ہیں اور مسلکی اعتبار سے دیوبندی اور اہل حدیث کے مکتبہ فکر سے منسلک ہیں


فہرست

پس منظر

طالبان دراصل پاکستانی و افغانی مدارس کے وہ طالب علم ہیں جو افغان جہاد میں روس کے خلاف لڑتے رہے تھے ۔ سویت یونین کی مداخلت کے بعد ابتدائی دنوں میں اس مزاحمتی تحریک افغان جہاد کو کسی جانب سے کوئی مدد حاصل نہ تھی لیکن جلد ہی پاکستان کو احساس ہوگیا کہ سرخ فوج کی اگلی منزل کونسی ہوگی۔ سویت یونین سے براہ راست جنگ کی استعداد پاکستان تو کیا امریکہ کے بھی بس میں نہ تھی اس لئے پاکستان نے جنگ کی ابتدائی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد سرخ فوج کو افغان گوریلہ فورس کے زریعے الجھانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے مشرقی پاکستان کے میں بھارتی فوجی جارحیت کے مکتی باہنی والے تجربے کو مدّنظر رکھا گیا۔ اس گوریلہ جنگ کی اصل منصوبہ بندی پاک فوج نے کی تھی اور اس کے افسران ہی نے افغانوں کی قوت مزاحمت کو ایک نا قابل شکست قوت میں تبدیل کردیا تھا۔ کچھ عرصے بعد امریکہ بھی اس جنگ میں بلواسطہ طور پر کود گیا۔ ان تین فریقوں یعنی پاکستان امریکہ افغان مجاھدین۔طالبان نے ان تینوں کے زیر سایہ جنگ کی واضح رہے کہ اس وقت تک طالبان مختلف جہادی تنظیموں میں بکھری ہوئے تھے اور انہوں نے کوئی باقا‏عدہ تنظیم کی شکل اختیار نہ کی تھی۔ روسی فوجوں کی واپسی کے بعد ان کی اکثریت اپنے مدارس میں واپس چلی گئی تھی۔

قیام

روسی فوجوں کی واپسی کے بعد جہادی تنظیموں کی باہمی خانہ جنگی کے باعث 1995میں طالبان دوبارہ میدان جنگ میں آگئے اور افغانستان کے 90 فیصد رقبے پر اپنی عملداری قائم کرکے شریعت نافذ کردی۔تاہم ان کی شریعت پر کئی حلقوں کی طرف سے تنقید ہوتی رہی۔ ان کو سب سے پہلے سعودی عرب اور بعد میں اسامہ بن لادن سے مالی معاونت حاصل رہی۔[1][2]

پاکستان کا ان کی مضبوطی میں کردار

جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ روسی فوجوں کی واپسی کے افغانستان میں جہادی تنظیموں کی باہمی خانہ جنگی اور ان کے داخلی انتشار ، بار بار معاہدوں کی عہد شکنی کا ایک افسوسناک دور چل نکلا تھا ۔ حکومت پاکستان جو 10 سالہ جنگ لڑ کر اس بات کی منتظر تھی کہ اب افغانستان میں پہلی بار پاکستان کی حلیف حکومت قائم ہوگی مگر ان تنظیموں کی داخلی خانہ جنگی نے کابل کا جنگی درجہ حرارت وہ ہی رکھا جو روسی جارحیت کے دوران رہا کرتا تھا نتیجتہ حکومت پاکستان ان سے نالاں ہوگئ ۔ افغانستان میں اپنی حکومت کے قیام کے بعد طالبان پاکستان کے لئے اجنبی اس لئے بھی نہ تھے کہ آئی ایس آئی کے روابط جہادی تنظیموں سے افغان جہاد سے ہی قائم تھے اور طالبان بھی ان تنظیموں کا ہی حصہ رہے تھے ۔ پھر طالبان نے افغانستان میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے نہ صرف یہ کہ پاکستان مخالف عناصر بالخصوص بھارتی عناصر کا مکمل صفایا کردیا بلکہ ڈیورنڈ لائن کو بھی پاکستان کے لئے مکمل محفوظ کردیا ۔ان وجوہ پر حکومت پاکستان نے طالبان کو افغانستان کا جائز حکمران تسلیم کرلیا۔

دور حکومت

طالبان کا دور حکومت 1995 سے 2001 تک تقریبا 6 سال کے عرصے پر محیط ہے اس دوران ان کا زیادہ تر وقت اپنے حریف شمالی اتحاد سے جنگ میں گزرا۔ افغانستان کو اگر کوئی چیز طالبان نے دی تھی تو وہ انصاف کی بروقت فراہمی اور امن و امان کی مثالی صورتحال تھی۔ ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں شاہراوں کو محفوظ بنادیا گیا تھا۔ پوست کی کاشت پر پابندی عائد کردی گئی تھی تمام غیر قانونی ٹیکس اور چنگیاں ختم کردی گئی تھیں جن کے باعث آمدرفت میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا ساتھ ہی ساتھ ‏غیر قانونی تجارت کو بھی خاصا فروغ حاصل ہوگیا تھا۔ مزید کسی میدان میں طالبان کو‎ئی خاص پیش رفت نہ کرسکے ۔

نصیر اللہ خان بابر اور طالبان

سرد جنگ کے بعد امریکہ کا کردار

سویت افواج کی شرمناک شکست کے بعد سویت یونین اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا جس کے باعث افغانستان میں امریکی دلچسپی ختم ہوچکی تھی۔ امریکا جو افغان جہادی تنظیموں سے ہاٹ لائن پر رابطے میں رہا کرتا تھا یکلخت ان سب معاملات سے الگ ہوگیا۔ امریکا کی نظر خلیج کے تیل پر تھی اس لۓ وہ عراق کو کویت پر حملے کے لۓ اکسانے کی سازشوں میں مصروف ہوگیا تاکہ اس بہانے خلیج میں امریکی افواج کے قدم جمائے جاسکیں۔

نسل کشی کا الزام

طالبان نے 1998ء میں ہرات پر قبضہ کے بعد مزار شریف پر قبضہ کیا تو اس شہر میں قتل عام کیا۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ ٹرکوں اور گاڑیوں میں عام سڑکوں اور گلیوں میں جاتے اور دائیں بائیں فائرنگ کرتے تھے۔[3]۔[4] اس طریقہ سے انہوں نے 8000 لوگوں کا قتل عام کیا۔ یہی طریقہ انہوں نے بامیان پر قبضہ کے بعد اختیار کیا [5] واضح رہے کہ طالبان سے قبل بامیان پر ایران نواز شیعہ ملیشیاء حزب وحدت کا قبضہ تھا۔

خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک

طالبان خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کے اصولوں کا تعلق اسلام سے زیادہ پشتون ولی قوانین کے ساتھ ہے۔ وہ نہ صرف خواتین کی مردوں کے ساتھ مخلوط تعلیم کے سخت خلاف ہیں بلکہ خواتین کو بلاضرورت گھر سے باہر بھی نہیں نکلنے دیتے۔ خواتین کو غیر اسلامی طریقہ سے سزائیں بھی دینے کے قائل ہیں مثلاً بھرے بازار میں خواتین کو لکڑی کی چھڑیوں کے ساتھ پیٹنے کی روایت انہوں نے قائم کی۔[6] ان کے دور میں خواتین کے مدرسے بند کر دیے گئے۔

خارجہ پالیسی

طالبان حکومت کو صرف تین ممالک پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے تسلیم کیا تھا لہذا ان کی خارجہ پالیسی کی کوئی خاص سمت متعین نہیں تھی ۔ افغانستان کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ایرانی مدا‏خلت کے باعث ایران سے طالبان کے تعلقات کبھی خوشگوار نہ رہے ایک موقع پر تو دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے تاہم دوسرے اسلامی ممالک کی مداخلت سے باعث یہ جنگ بمشکل روکی جاسکی۔ پڑوسی ممالک میں صرف پاکستان ہی سے ان کے بہترین تعلقات تھے۔ اسامہ بن لادن نے جب سرزمین عرب پر امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف آواز بلند کی تو طالبان کے سعودی عرب سے بھی اختلافات پیدا ہوچلے تھے۔

دور حکومت کا خاتمہ

ستمبر2001 ایک میں امریکا شہروں نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور امریکی محکمہ دفاع کے صدر دفتر المعروف پینٹاگون پر حملے کئے گئے جن کا زم دار القا‏عدہ کو قرار دیا گیا۔ القاعدہ کے میزبان ہونے کے ناطے طالبان کو اکتوبر2001 میں امریکی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

میدان جنگ میں

طالبان کا سب سے موثر طریقہ جنگ گوریلا جنگ ہے جو صدیوں سے افغانستان میں بیرونی مداخلت کاروں کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا جاتا رہا ہے ماضی میں برطانیہ، روس اور آج کل امریکا کو اسی مزاحمت کا سامنا ہے ۔افغانستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بیرونی مداخلت کاروں کے خلاف مزاحمت میں صرف افغان قوم ہی نہیں بلکہ اس ملک کا جغرافیہ بھی شامل ہوجاتا ہے۔ افغانستان کا بیشتر حصہ سخت گزار پہاڑی سلسلوں پر محیط ہے جہاں جدید ترین اسلحہ سے لیس تربیت یافتہ افواج بھی بے بس نظر آتی ہیں۔ خودکش حملوں کو طالبان کا سب سے موثر ہتھیار مانا جاتا ہے ان کو اس وقت افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ سڑک کے کناروں پر نصب باروی سرنگیں اور ریمورٹ کنٹرول بم بھی طالبان کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ بنیادی طور پر طالبان گوریلا جنگجو ہونے کی وجہ سے چھوٹے ہھتیاروں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ طالبان جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کر رہے ہیں۔ [7] ۔

2009

افعانستان میں امریکی فوجی سربراہ جنرل میک کرسٹل کا کہنا ہے کہ طالبان کی پوزیشن دن بہ دن مضبوط ہوتی جارہی ہے اگر امریکا نے 45000 مزید فوج افغانستان روانہ نا کی تو خدشہ ہے کہ ایک سال کے اندر اندر اتحادی افواج کو شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ستمبر 2009 میں ہی اتحادی فوج کے ایک کانوا‌ۓ پر طالبان کے ایک حملے میں اٹلی کے 6 فوجیوں کے ہلاک [8] ہوجانے پر اٹلی کے وزیر اعظم نے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ ان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی افوا ج افغانستان سے نکال لیں [9] ۔

عالم اسلام پر اثرات

تحریک طالبان کے عالم اسلام پر منفی و مثبت دونوں ہی طرح کے اثرات مرتب ہوئے ۔ عالمی جہادی تحریکوں کا طالبان سے خاصی تقویت ملی جن میں القاعدہ سرفہرست ہے ۔ کشیمر میں سرگرم جہادی تحریکوں کو بھی طالبان کی پشت پناہی حاصل تھی۔ شرعی قوانین کے نفاذ سے جنگ سے تباہ حال ملک میں امن و امان قائم ہوگیا تھا۔ طالبان حکومت کے گورنروں اور وزراء کی نہایت سادہ طرز زندگی ایک روشن مثال تھی جن کو بغیر کسی پروٹوکول کے اکثر سائیکلوں پر گھومتے دیکھا جاسکتا تھا یہ صورتحال خاص کر پاکستان جیسے ممالک کے حکمرانوں کے لۓ ناقابل قبول تھی جن کے وزیراعظم اور صدور کے ہمراہ درجنوں گاڑیاں اور سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی اہلکار سفر کرتے ہیں اور جن کے عالیشان محلات کے محض ایک روز کے اخراجات ایک کروڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔


20 ویں صدی کی ایک باقا‏عدہ اسلامی حکومت کے قیام عمل میں آنے سے عالم اسلام کے اکثر ممالک میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں ۔

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. ^ طالبان از راشد، 2000 صفحہ 132۔ و 139
  2. ^ طالبان انگریزی وکیپیڈیا
  3. ^ طالبان از راشک، 2000، صفحہ 73
  4. ^ افغانستان کی غیر فانی جنگ از گڈسن، 2001 صفحہ 79
  5. ^ افغانستان کی غیر فانی جنگ از گڈسن، 2001 صفحہ 79
  6. ^ طالبان کی خواتین کے خلاف جنگ انسانی حقوق و محنت کی رپورٹ۔ 2001ء
  7. ^ [ طالبان اور جدید ٹیکنالوجی http://www.ummatpublication.com/2009/06/23/lead14.html]
  8. ^ [1]
  9. ^ [اٹلی کے قدم لڑکھڑا گئے http://www.ummatpublication.com/2009/09/19/lead23.html]