ایوب خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سالار المیدان (فیلڈ مارشل)
 محمد ایوب خان

22 جنوری 1961ء کو ایوب خان کی جرمنی میں لی گئی ایک تصویر

در منصب
27 اکتوبر 1958ء – 25 مارچ 1969ء
پیشرو سکندر مرزا
جانشین یحییٰ خان

در منصب
7 اکتوبر 1958ء – 27 اکتوبر 1958ء
صدر سکندر مرزا
پیشرو فیروز خان نون
جانشین نور الامین

پیدائش 14 مئی 1907 (1907-05-14)
ہری پور, برطانوی راج
وفات 19 اپریل 1974 (عمر 66 سال)
اسلام آباد, پاکستان
سیاسی جماعت مسلم لیگ
مادر علمی جامعہ علی گڑھ (نامکمل)
رائل ملٹری اکیڈمی سندھرسٹ
مذہب اسلام
فوجی خدمات
وفاداری British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہندوستان
Flag of Pakistan.svg پاکستان
نوکری/شاخ برطانوی ہندوستانی فوج
پاک فوج
نوکری کے سال 1928–1958
عہدہ سالار المیدان (فیلڈ مارشل)
اکائی پیادہ فوج (1/چودہویں پنجاب رجمنٹ)
اَمر وزیرستان میں برگیڈ
چودہویں انفنڑی ڈیویژن, ڈھاکہ
ایڈو (اے جی)
ڈپٹی کمانڈر انچیف
کمانڈر انچیف پاک فوج
جنگیں برما کمپین
جنگ عظیم دوم
اعزازات ہلال جرأت
ہلال پاکستان
نشان امتیاز

محمد ایوب خان (ولادت: 14 مئی 1907ء بمقام ریحانہ نزد ہری پور ہزارہ، وفات: 19 اپریل، 1974ء) پاکستان کے سابق صدر، فیلڈ مارشل اور سیاسی راہ نما تھے۔ وہ پاکستانی فوج کے سب سے کم عمر سب سے زیادہ رینکس حاصل کرنے والے فوجی ہیں۔ وہ تاریخ میں پاکستان کے پہلے فوجی آمر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں جنہوں نے 1958ء میں پاکستان میں فوجی حکومت قائم کر کے مارشل لاء لگایا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

صدر محمد ایوب خان 14 مئی 1907 کو ہری پور ہزارہ کے قریب ایک گاؤں ریحانہ میں ایک ہندکو پشتو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والد میر داد خان کی دوسری بیوی کے پہلے بیٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے آپ کا نام سرائے صالح کے ایک سکول میں داخل کروایا گیا اور اس کے علاوہ ایک قریبی گاؤں کاہل پائیں میں بھی حاصل کی جو کہ ان کے گھر سے 5میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ خچر کے ذریعے سکول جایا کرتے تھے۔ آپ نے 1922 میں علیگڑھیونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن تعلیم مکمل نہ کی کیونکہ اس دوران آپ نے رائل اکیڈمی آف سینڈہسٹز کو قبول کر لیا تھا۔

frameفیلیڈ مارشل محمد ایوب خان

ابتدائی فوجی دور[ترمیم]

آپ نے اس تربیت گاہ میں بہت اچھا وقت گزارا اور آپ کو 14 پنجاب رجمنٹ شیر دل میں تعینات کیا گیا جو کہ اب 5 پنجاب رجمنٹ ہے۔ جنگ عظیم دوم میں آپ نے بطور کپتان حصہ لیا اور پھر بعد میں برما کے محاذ پر بطور میجر تعینات رہے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے پاکستان آرمی جوائن کرلی جبکہ اس وقت آپ آرمی میں دسویں نمبر پر تھے۔ جلد ہی آپ کو برگیڈئر بنا دیا گیا اور پھر 1948 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔ 1949 میں مشرقی پاکستان سے واپسی پر آپ کو ڈپٹی کمانڈر ان چیف بنا دیا گیا۔ آپ محمد علی بوگرہ کے دور میں بطور وزیر دفاع خدمات انجام دیتے رہے۔(1954)۔ جب اسکند مرزا نے 7 اکتوبر 1958 میں مارشل لاء لگایا تو آپ کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹیٹر بنا دیا گیا۔ یہ پاکستانی تاریخ میں پہلی دفع تھا کہ کسی فوجی کو براہ راست سیاست میں لایا گیا۔

صدرِ پاکستان 1958-1969[ترمیم]

صدر اسکندر مرزا سے اختلافات کی بنا پر مرزا صاحب سے ایوب خان کے اختلافات بڑھتے گیے اور بلا آخر ایوب خان نے پاکستان کی صدارت سنھبال لی اور اسکندر مرزا کو معزول کر دیا۔ قوم نے صدر ایوب خان کو خوش آمد ید کہا کیونکہ پاکستانی عوام اس دور میں غیر مستحکم جمہوریت اور بے وفا سیاستدانوں سے بیزار ہو چکی تھی۔جلد ہی ایوب خان نے ہلال پاکستان اور فیلڈ مارشل کے خطابات حاصل کر لیے۔ ایوب خان نے 1961 میں آئین بنوایا جو کہ صدارتی طرز کا تھا اور پہلی دفعہ تحریری حالت میں انجام پایا۔ اس آئین کے نتیجے میں 1962 میں عام انتخابات ہوئے، جب مارشل لاء اٹھا لیا گیا۔ لیکن دیکھا جائے تو یہ جزوی طور پر تھا۔ ان انتخابات میں صدر ایوب خان کے مدِ مقابل سب سے اہم حریف مادرِ ملت فاطمہ جناح تھیں جو کہ قائد اعظم کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود ہار گئیں۔ یہی وجہ ان انتخابات کو مشکوک بناتی ہے۔

17 ستمبر1965 کو شائع ہونے والے ٹائمز میگزین کا سرورق جس میں بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور صدر ایوب کو دیکھایا گیا ہے

اگرچہ صدر ایوب کے دور میں پاکستان نے دن دگنی رات چونگنی ترقی کی لیکن عوام مسلسل دس سالہ آمر حکومت سے بیزار آگئی، اس پر ذوالفقار علی بھٹو نے وقت سے فائدہ اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ملک ہنگاموں کی لپیٹ میں آگیا اور صدر ایوب کو مجبوراً عوام کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے اور انہوں نے صدارت سے استعفٰی دے دیا اور اپنا اقدار یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔ 2007 میں چھپنے والی ایوب خان کی ڈائری کے مطابق امریکہ براہ راست صورتحال کو خراب کرنے میں ملوث تھا۔ دولتانہ اور چوھدری محمد علی ملک میں افراتفری پھیلانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے۔ امریکہ ایک زوال پذیر پاکستان چاہتا تھا تاکہ خطے میں بھارت ایک طاقتور ملک بنے جسے چین کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ [1]

یاداشت[ترمیم]

اپنی یاداشت میں ایوب خان نے سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور یحییٰ خان ملک توڑنے پر اتفاق کر چکے تھے۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  • Mohammad Ayub Khan, "Diaries of Field Marshal Mohammad Ayub Khan, 1966-1972", edited by Craig Baxter, Oxford University Press.
  1. ^ روزنامہ جنگ، 4 مئی 2007
  2. ^ روزنامہ نیشن،3 مئی2007، "Ayub on Bhutto"

بیرونی روابط[ترمیم]

ایوب خان کی ڈائری


فوجی دفاتر
پیشرو
ڈگلس گریسی
سربراہ بری افواج پاکستان
1951 – 1958
جانشین
موسٰی خان
سیاسی دفاتر
پیشرو
محمد علی بوگرہ
وزیر دفاع پاکستان
1954 – 1955
جانشین
چوہدری محمد علی
پیشرو
فیروز خان نون
وزیراعظم پاکستان
1958
جانشین
نورالامین
پیشرو
اسکندر مرزا
صدر پاکستان
1958 – 1969
جانشین
یحییٰ خان
پیشرو
محمد ایوب کھوڑو
وزیر دفاع پاکستان
1958 – 1966
جانشین
افضل رحمان خان
پیشرو
خان حبیب اللہ خان
وزیر داخلہ پاکستان
1965
جانشین
چوہدری علی اکبر خان