احمد شاہ ابدالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
احمد شاہ ابدالی

نادر شاہ والیء ایران کا جنرل۔ افغانوں کے ابدالی قبیلے کا سردار اور افغانستان میں ابدالی سلطنت کا بانی۔ایک بہادر پشتون تھا۔اور نادر شاہ کے قتل 1747ء کے بعد افغانستان کا بادشاہ بنا۔ ہرات اور مشہد پر قبضہ کیا اور 1748ء تا 1767ء ہندوستان پر کئی حملے کیے۔ جن میں سب سے مشہور حملہ 1761ء میں ہوا۔ اس حملے میں اس نے مرہٹوں کو پانی پت کی تیسری لڑائی میں شکست فاش دی۔ کابل ، قندھار ، اور پشاور پر قبضہ کرنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کا رخ کیا اور سر ہند تک کا سارا علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ 1756ء میں دہلی کو تاخت و تاراج کیا اور بہت سا مال غنیمت لے کر واپس چلا گیا۔ ان حملوں نے مغلیہ سلطنت کی رہی سہی طاقت بھی ختم کردی ۔ پنجاب میں سکھوں کے فروغ کا ایک سبب احمد شاہ کے پےدر پے حملے بھی ہیں۔

alt text

بلوچستان[ترمیم]

دور حکومت 1747ء تا1773ء

رسم تاج پوشی احمد شاہ ابدالی 1747.
احمد شاہ ابدالی کی ہمشیرہ کا مقبرہ احاطہ مزار خواجہ ولی چستی کرانی، کوئٹہ

افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ کے قتل کے بعد احمد شاہ ابدالی جوکہ نادر شاہ کے فوج کے سالار تھے لویہ جرگہ کے ذریعے بادشاہ منتخب ہوئے، یہ جرگہ شیر سرخ بابا کے مزار پر منعقد ہوا تھا، اسی دوران صابر شاہ ملنگ نے ایک گندم کا خوشہ انکے سر پر بطور تاج کے لگایا اور احمد شاہ کو بطور بادشاہ تسلیم کرلیا گیا، احمد شاہ درانی کو بجا طور پر افغانستان کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت سلطنت اٹک سے کابل، کوئٹہ ،مستونگ، قلات ، سبی، جیکب آباد، شکارپور، سندھ، پشین، ڈیرہ اسماعیل خان ، ضلع لورالائی اور تمام پنجاب پر مشتمل تھی، شال کوٹ کوہٹہ قندھار کا ایک ضلع تھا، احمد شاہ درانی کا دورے سلطنت ( 1747ء سے 1823ء) تک افغانستان پر رہی۔ 1765ء کا زمانہ آیا سکھوں نے پنجاب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا تھا ۔1772ء تک احمد شاہ درانی اور اس کے بعد اس کی اولاد کی حکومت رہی۔ اس کی اولاد میں ایوب شاہ کو1823ء میں قتل کر دیا گیا۔ احمد شاہ ابدالی کی ہمشیرہ کا مزار بھی خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کی درگاہ کے احاطہ کے اندر کرانی ،کوئٹہ کے مقام پر واقع ہے ،

پنجاب کی مہم سے واپسی پر احمد شاہ ابدالی نے میر نصیر خان کو ہڑند اور داجل کے علا قے بطور انعام دیے۔ اسی زمانے میں جب احمد شاہ کی مشرقی ایران کی مہم سے واپسی ہوہی تو اس نے میر نصیر خان کی والدہ بی بی مریم کو کوئٹہ کا علا قہ یہ کہتے ہوے دیا کہ یہ آپ کی شال ہے (شال کا مطلب دوپٹہ ہوتا ہے) ۔اسی دن سے کوئٹہ کا نام شال کوٹ پڑ گیا، اور یہ ریاست قلات کا حصہ بن گیا۔ قلعہ میری قلات ( قلعہ کوہٹہ ) کے قریب خواجہ نقرالدین شال پیر بابا مودودی چشتی کا مزار بھی واقع ہے، شال کوٹ کو جو شاہراہ ہندوستان اور ایران سے ملاتی ہے اُسے شال درہ کہتے تھے آج اُس شاہراہ پر اسی نام سے ایک بہت بڑی آبادی قائم ہے، خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کا مزار بھی اسی وادی کے اندر واقع ہے،