اعلامیہ تاشقند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اعلامیہ تاشقند (Tashkent Declaration) پاک بھارت جنگ 1965ء، کے بعد 10 جنوری 1966 کو بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک امن معاہدہ تھا۔ جنگ بندی 23 ستمبر اس وقت کی عظیم طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے ہو گئی تھی کیونکہ خدشہ تھا کہ دوسری طاقتیں بھی اس جنگ میں شامل ہو سکتی ہیں۔

مجموعی جائزہ[ترمیم]

اجلاس 4 جنوری 1966 کو مستقل تصفیہ کی کوشش کے طور پر تاشقند، ازبک سوویت اشتراکی جمہوریہ، سوویت اتحاد (موجودہ ازبکستان) میں منعقد کیا گیا تھا۔ سوویت اتحاد کے وزیراعظم الیکسی کوسیجن بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور پاکستانی صدر محمد ایوب خان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔ تاشقند کانفرنس جو کہ اقوام متحدہ، امریکی اور سوویت اتحاد کے دباؤ پر ہوئی، نے پاکستان اور بھارت کو اپنی سرحد اور کشمیر میں 1949ء کی جنگ بندی لائن کو بحال کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ آخر کا ایوب خان کی قیادت کے خلاف عدم اطمینان اور احتجاجی مظاہروں کی وجہ بنی۔

اعلامیہ[ترمیم]

کانفرنس کو بین الاقوامی طور پر ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا، اور جاری اعلامیہ کو پائیدار امن کے لئے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ: [1]

  • ہندوستانی اور پاکستانی افواج 25 فروری 1966ء سے پہلے کے ان کی تنازعہ سے پہلے کے مقام پر واپس چلی جائیں گی۔
  • اقوام ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گی۔
  • اقتصادی اور سفارتی تعلقات بحال ہوں گے۔
  • دونوں رہنما دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی تعمیر کی سمت میں کام کریں گے۔

حاصل نتیجہ واقعات[ترمیم]

معاہدے کو بھارت میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس میں کشمیر میں کوئی جنگ کا معاہدے یا گوریلا جنگ کی کوئی بھی شق شامل نہیں تھی۔

اعلامیہ کے اگلے روز ہی بھارتی وزیر اعظم شاستری اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ لال بہادر شاستری کی موت کے بارے میں کئی سازشی نظریات ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]