فاطمہ جناح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مادر ملت
 فاطمہ جناح


در منصب
1 جنوری 1960ء – 9 جولائی 1967ء
پیشرو نیا عہدہ
جانشین نور الامین

پیدائش 31 جولائی 1893 (1893-07-31)
کراچی، برطانوی راج
(موجودہ پاکستان)
وفات 9 جولائی 1967 (عمر 73 سال)
کراچی، پاکستان
پیدائشی نام فاطمہ علی جناح
شہریت پاکستانی
قومیت پاکستانی
سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ (1947 سے قبل)
مسلم لیگ (1947–1958)
آزاد (1960–1967)
رشتہ دار محمد علی جناح
احمد علی جناح
بندے علی جناح
رحمت علی جناح
مریم علی جناح
شیریں علی جناح
مادر علمی جامعہ کلکتہ
(D.D.S)
پیشہ معالج دندان، ماہر دنداں
مذہب اسلام


فاطمہ جناح مادرملت یعنی قوم کی ماں، قائد اعظم کی زندگی میں مادر ملت ان کے ہمر اہ موثر طور پر 19سال رہیں یعنی 1929ء سے 1948ء تک اور وفات قائد کے بعد بھی وہ اتنا ہی عرصہ بقید حیات رہیں۔


ہمارے ماہرین تاریخ وسیاست نے مادر ملت کو قائداعظم کے گھر کی دیکھ بھال کرنے والی بہن کے حوالے سے بہت بلند مقام دیا ہے لیکن انہوں نے قیام پاکستان اور خصوصاً 1965ء کے بعد کے سیاسی نقشے پر جو حیرت انگیز اثرات چھوڑے ہیں ان کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔ یہ ایک معنی خیز امر ہے کہ قائد اعظم کی زندگی میں مادر ملت ان کے ہمر اہ موثر طور پر 19سال رہیں یعنی 1929ء سے 1948ء تک اور وفات قائد کے بعد بھی وہ اتنا ہی عرصہ بقید حیات رہیں یعنی 1946ء سے 1967ء تک لیکن اس دوسرے دور میں ان کی اپنی شخصیت کچھ اس طرح ابھری اور ان کے افکارو کردار کچھ اس طرح نکھر کر سامنے آئے کہ انہیں بجا طور پر قائداعظم کی جمہوری' بے باک اور شفاف سیاسی اقدار کو ازسر نو زندہ کرنے کا کریڈیٹ دیا جا سکتا ہے جنہیں حکمران بھول چکے تھے۔

اس سلسلے میں مادر ملت نے جن آرا کا اظہار کیا ان سے عصری سیاسیات و معاملات پر ان کی زہنی گرفت نا قابل یقین حد تک مکمل اور مضبوط نظر آتی ہے ۔ 1965ء کے صدارتی انتخاب کے موقع پر ایوب خاں کی نکتہ چینی کے جواب میں مادر ملت نے خود کہا تھا کہ ایوب فوجی معاملات کا ماہر تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی فہم و فراست میں نے قائد اعظم سے براہ راست حاصل کی ہے اور یہ ایسا شعبہ ہے جس میں آمر مطلق نا بلد ہے۔

1965ء کے بعد رونما ہونے والے واقعات مادرملت کے اس بیان کی تصدیق کرنے کے لئے کافی ہیں۔ مثال کے طور پر مادر ملت نے جن خطرات کی بار بار نشاندہی کی ان میں سے چند ایک یہ ہیں :

  • امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت۔
  • بیرونی قرضوں کے ناقابل برداشت دباؤ۔
  • غربت اور معاشی نا ہمواریوں کے خطر ناک اضافے۔
  • مشرقی پاکستان اور دیگر پس ماندہ علاقوں کی حالت زار۔
  • ناخواندگی اور سائنٹیفک تعلیم کے بارے میں حکومت کی مجرمانہ خاموشی۔
  • نصابات میں اسلامی اقدار اور خاص کر قرآنی تعلیمات کا فقدان۔
  • جمہوری اور پار لیمانی دستور کی تشکیل میں تاخیر۔
  • خارجہ پالیسی کے یک طرفہ اور غیر متوازن رویے۔

مادرملت نے اس نوع کے دیگر قومی اور بین الاقوامی معاملات کے بارسے میں صاحبان اقتدار اور قوم کوآنے والے خطرات سے آگاہ کرنے والے جو بیانات دیئے وہ ان کی دور رس نگاہوں اور سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر ہم نی مادر ملت کے برو قت انتبہ پر کان دھرے ہوتے اور ان خطرات سے بچنے کا اہتمام کیا ہوتا جن کو ان کی نگاہیں صاف طور پر دیکھ رہی تھیں تو آج ہم ان سخت گیر سیاسی 'اقتصادی اور سماجی بحرانوں کی زد میں نہ ہوتے جن کا ہماری قوم شب و روز سامنا کر رہی ہے اور یہ بات تو یقینی معلوم ہوتی ہے کہ مشرقی پاکستان کا دلخراش سانحہ وقوع پذیر نہ ہوتا۔

مادر ملت کی سیاسی زندگی کے قطع نظر انہوں نے جس انداز سے اپنے شب و روز گزارے اور قوم و ملت کے لیے جو قربانیاں دیں ان کے اندر بلا شبہ ایک مثالی کردار کے پورے عوامل موجود ہیں۔ ان عوامل میں پانچ خاص طور پر قابل ذکر ہیں :

اول: وہ ایک مثالی گریلو خاتون تھیں۔ فضول خرچی سے مکمل پرہیز اور سادہ لیکن ضروری آسائشوں اور سہولتوں سے بھر پور گھر ' قائد اعظم کے لئے طعام و آرام کا ایک نظام الاو قات ' سایسی چہل پہل اور ملاقاتیوں کے ہجوم کے با وجود پر سکون ماحول 'قائد اعظم اپنی سر گر میوں کے اختتام پر جب گھر لوٹتے تو اپنے استقبال کے لئے ایک خنداں و شاداں بہن کو موجود پاتے۔ یہی وہ اطمینان بخش اور آ سودہ خانگی ماحول تھا جس کے طفیل اپنی بیماری کے باوجود قائد اعظم اپنی پوری لگن اور یک سوئی کے ساتھ تحریک پاکستان کو کا میابی سے ہمکنار کر سکے۔

دوئم: مادر ملت کی زندگی سے ایک اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ خواتین کو پرو فیشنل تعلیم سے آ راستہ ہوناچاہئے تا کہ وہ مالی طور پر خود کفیل ہوں اور قومی آمدنی میں بھی اضافہ کر سکیں۔ مادر ملت نے دانتوں کے علاج معالجے میں تخصیص حاصل کی اور کئی سال تک پر یکٹس کی اور اس دوران غریبوں کا مفت علاج کیا۔

سوئم: مادرملت نے اپنی زندگی کا بیش تر حصہ بے شمار سماجی اور رفاہی اداروں کی سرپر ستی میں صرف کیا اور ان کی ترقی اور تعمیر میں دامے'ورمے'سخنے مدد کی اس حوالے سے کشمیری مہاجرین کے لئے ان کی خدمات نا قابل فرا موش ہیں ۔

چہارم: مادر ملت کا سب سے اہم کارنامہ پاکستان کو جمہوریت کے راستے پر دوبارہ گامزن کرنا ہے انہوں نے1965ء کے صدارتی انتخاب میں حصہ لے کر تحریک پاکستان کی ہما گیر عوامی شرکت کی یادیں تازہ کردیں اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے مابین یک جہتی اور یگانگت کے جذبوں کو بیدار کردیا۔ اگرچہ انہیں دھاندلی سے ہرایا گیا لیکن اس کا نتیجہ چند سالوں کے اندر ایوب خان کی آمریت کے خاتمہ کی شکل میں نکلا۔

مادرملت کی سیاسی جدوجہد کے اندر پاکستان کی خواتین کیلئے یہ پیغام مضمر ہے کہ انہیں سیاسیات سے بے تعلق نہیں رہنا چاہیے۔ اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کرنا چاہیے اور انتخابات میں بھر پور حصہ لے کر محب وطن اور ایماندار لوگوں کو کامیاب بنانا چاہئے۔

پنجم: اعلیٰ حلقوںاور اقتدار کے ایوانوں میں گھومنے کے باوجود مادر ملت نے اسلامی شعائر کے مطابق زندگی بسر کی اور اپنے آپ کو ہر قسم کے سکینڈل سے محفوظ رکھا۔وہ قائد اعظم کی طرح بے حد خوددار اور پر وقار تھیں وہ اتحاد اسلامی کی شیدائی تھیں اور ان کی زبر دست خوائش تھی کہ نوجوان طلبہ و طالبات کیلئے قرآن مجید کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔

خواتین اور خاص کر طالبات پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ قائد اعظم کی اس محترم بہن کی حیات و خدمات کا مطالعہ کریں اور اپنے اندر کم از کم وہ خصوصیات پیدا کریں جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔ انہی خصوصیات کی بدولت خواتین قوم کی ترقی و تعمیر میں بھر پور انداز میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مادر ملت کے چند بصیرت افروز افکار:مادر ملت کی حیات و خدمات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے معاشرے کی تشکیل و تعمیر اور ترقیاتی پالیسیوں کے بارے میں وہ واضح نظریات رکھتی تھیں۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے انہیں محض ایک گھریلو خاتون سمجھنا صحیح نہ ہو گا۔ وہ قائد اعظم کی وفات کے بعد 19سال تک بقید حیات رہیں اور ملک کے سیاسی 'معاشی'سماجی اور تعلیمی مسائل کے بارے میں تواتر کے ساتھ اپنی آرا دیتی رہیں ۔

پنجاب یونیورسٹی کی ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان نے ان کی دو سو سے زیادہ تقاریرچھاپی ہیں اور اس کے علاوہ اندرونی اور بیرونی معاملات پر ان کے بصیرت افروز تبصرے دیگر کتب ورسائل میں بگھرے پڑے ہیں۔ ان خیالات و بیانات کی رہنمائی کیلئے قائد اعظم موجود نہ تھے۔ مادر ملت اپنے طور پر کتب بینی اور مطالعے کی بے حد شوقین تھیں اور مختلف معاملات کے بارے میں آزادانہ انداز سے سوچتی تھیں۔ ان کے افکار و خیالات کے بارے میں ابھی تک کوئی تجزیاتی تصنیف نظر سے نہیں گزری۔

یھاں نمونے کے طور پر ان کے چار بیانات درج کئے جاتے ہیں جن سے مسائل پر ان کی فکری گرفت کا پتہ چلتا ہے:

اسلامی تعلیمات:اس وقت دنیا عجیب دور سے گزر رہی ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کشمکش کا کیا نتیجہ برآمد ہو گا۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ جو ساری دنیا کیلئے درد سر بنا ہوا ہے وہ یہ کہ بنی نوع انسان میں کس طرح یگانگت اور مساوات قائم کی جائے.........

(عید میلاالنبیۖ کی ایک تقریب سے خطاب ،14جنوری 1950ء)

کشمیر:اسوقت پاکستان کو مختلف اہم مسائل کا سامنا ہے اور یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ان میں مسئلہ کشمیر سب سے زیادہ اہم ہے ۔مدافعتی نقطہ نگاہ سے کشمیر پاکستان کی زندگی اور روح کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اقتصادی لحاظ سے کشمیر ہماری مرفع الحالی کا منبع ہے۔پاکستان کے بڑے دریا اسی ریاست کی حدود سے گزر کر پاکستان میں داخل ہوتے اور ہماری خوشحالی میں مدد دیتے اس کے بغیر پاکستان کے مرفع الحالی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اگر خدا نہ کرے ہم کشمیر سے محروم ہو جائیں تو قدرت کی عطا کردہ نعمت عظمیٰ کا بڑا حصہ ہم سے چھن جائے گا۔

کشمیر ہماری مدافعت کا کلیدی نقطہ ہے۔اگر دشمن کشمیر کی خوبصرت وادی اور پہاڑیوں میں مورچہ بندی کا موقع مل جائے تو پھر یہ اٹل امر ہے کہ وہ ہمارے معاملات میں مداخلت اور اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرے گا۔ پس اپنے آپ کو مضبوط اور حقیقتاََ طاقتور قوم بنانے کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کو دشمن کی ایسی سرگرمیوں کی زد میں نہ آنے دیا جائے۔اس لحاظ سے کشمیر کی مدد ہمارا اولین فرض ہو جاتا ہے۔

(انجمن تاجران کراچی سے خطاب دسمبر1948ء )

داخلی استحکام:آج صورتحال کیا ہے ؟داخلی طور پر ہم مقصد عمل کے اتحاد سے محروم ہیں ِ'بیرونی طور پر ہمیں وہ وقار اور عزت حاصل نہیں جس کے ہم مستحق ہیں۔ ُّآپ استحاب نفس کریں اور سوچیں کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے یقیناََ آپ کو اب وہ دشواریاں پیش نہیں جو آزادی سے قبل دو عظیم طاقتور کے مقابلے میں در پیش تھیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اب تک اس کی قیادت پیدا کرنے میں ناکام رہے جو آپ کے نظریات اور مساوات کی صدق دلی سے حامی ہو ؟

کیااس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے آزادی کا مطلب محنت اور جدوجہد کی بجائے آرام اور تن آسانی سمجھ لیا ہے ؟کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے دشمنوں کو موقع دیا جائے کہ وہ دوستوں کے بھیس میںآپ کی صفوں میں انتشار پیدا کریںاور ان نظریات سے آپ کو بہکائیںجن کی خاطر پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب خود آپ کو دینا چاہیے۔

آج کل خارجہ پالیسی اور خارجہ معاملات پر یہاں بڑی باتیں ہو رہی ہیں لیکن میرے رائے یہ ہے کہ ان باتوں میں حقیقت شناسی کو بہت کم دخل ہے۔سب سے مقدم یہ ہے کہ ہم اپنے اندرونی حالات کو سدھاریں،اگرحکو مت کو سیاسی اور اقتصادی استحکام حاصل ہو جائے تو اسے بیرون ملک بھی عزت نصیب ہوتی ہے ۔ اس کی خارجہ پالیسی تو شاید کسی کو پسند آئے یا نہ آئے لیکن اسے احترام سے دیکھا جاتا ہے ۔؛

(قائد اعظم کی یوم ولادت پر نشری تقریر ،25 دسمبر 1956ء)

جمہوریت: ہمارے راستے میں داخلی اور بیرونی مشکلات حائل ہوئی ہیں۔ہم مختلف آزمائشوں سے گزرے ہیں ہم پر پریشان کن لمحے آئے ہیں لیکن ہمارا یقین متزلزل نہیں ہوا اور ہم مایوس نہیں ہوئے۔آج دس سال بعد ہمیں اس امر کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم عوامی امنگوں کے حصول میں کس حد تک کامیاب ہوئے ۔پاکستان چند جاہ پسند افراد کی شکار گاہ بننے کیلئے قائم نہیں ہوا تھا جہاں وہ لاکھوں افراد کے آنسووَں ،پسینے اور خون پر پل کر موٹے ہوتے رہیں ۔

پاکستان سماجی انصاف ، مساوات ، اخوت ،اجتماعی بھلائی، امن اور مسرت کے حصول کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ آج ہمیں اس نصب العین سے دور پھینک دیا گیا ہے ۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ چھپا ہوا ہاتھ کس کا ہے جس نے پبلک کی زندگی میں زہر گھول دیا ہے ذاتی مفادات اور اقتدار کے لیے سازشیں اور مول تول کے رجحانات بڑھ رہے ہیں ۔

لوگوں کو جموری حقوق کے استعمال سے محروم رکھنے کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں ۔ آپ کو دستور کی حفاظت اور غیر جمہوریت رجحانات کو روکنے کے لیے متحد ہونا چاہیے،جلد از جلد انتخابات کا مطالبہ ہی اس صورت حال کا واحد حل ہے ۔ میں پاکستانیوں سے اپیل کرتی ہوں کے وہ ملک میں پراگندگی پھیلانے والوں کے خلاف ڈٹ جائیں اور جمہوریت کی طرف گامزن رہیں ۔


بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]


سیاسی دفاتر
' قائد حزب اختلاف
1960–1967
جانشین
نور الامین