آل انڈیا مسلم لیگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آل انڈیا مسلم لیگ
All-India Muslim League
صدر آغا خان سوم
بانی نواب وقار الملک
خواجہ سلیم اللہ
آغا خان سوم
قائد رہنما محمد علی جناح
لیاقت علی خان
محمد ظفر اللہ خان
خواجہ ناظم الدین
قیام 30 نومبر 1906 (1906-23-30)
تحلیل 14 اگست 1947 (1947-08-14)
جانشین مسلم لیگی تفرقہ
پاکستان مسلم لیگ (ن)
پاکستان مسلم لیگ (ق)
صدر دفتر لکھنؤ
خیالیت مسلم قوم پرستی
conservatism
دو قومی نظریہ
ہندوستان میں مسلمانوں کے شہری حقوق
مذہب اسلام
بین الاقوامی وابستگی آل انڈیا مسلم لیگ (لندن باب)
Parliamentary seats
30 / 102

1945 general elections
انتخابی علامت
ہلال اور ستارہ

کُل ہند مسلم لیگ (آل انڈیا مسلم لیگ) برطانوی انڈیا میں ایک سیاسی جماعت تھی اور برصغیر میں مسلم ریاست کی تشکیل میں سب سے زیادہ کارفرما قوت تھی۔ انڈیا کی تقسیم کے بعد بھی آل انڈیا مسلم لیگ انڈیا میں ایک اہم جماعت کے طور پر قائم رہی۔ خصوصاً کیرلہ میں دوسری پارٹیوں کے ساتھ شامل ہو کر حکومت سازی کی۔ پاکستان کی تشکیل کے بعد مسلم لیگ اکثر موقعوں پر حکومت میں شامل رہی۔

بنیاد[ترمیم]

بر صغیر میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور تقدیر کی ستم ظریفی کی وجہ سے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی بھی مسلمان ہار چکے تھے انگریزوں نے چونکہ حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور غدر میں بھی مسلمان ہی پیش پیس تھے اس لیے انگریزوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی نظر مذکور کر لی لاکھوں مسلمانوں کو بے دردی سے پھانسی دے کر موت کی گھاٹ اتار ویا گیا ان کی جاءیدایں صبط کر لی گءیں حکومتی پالیسیاں کچھ اس طرح طے کیں کہ مسلمانوں کا کاروبار تباہ ہونے لگا وہ مسلمان جو بڑے بڑے علیشان محلوں میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے تھے ا ب وہی مسلمان ٹوٹے پھوٹے چھوٹے چھوٹے مکانون میں افلاس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگءے انگریز نے ملک میں انگریزی تعلیم راءج کردی مسلمان اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم نہیں دلوانا چاہتے تھے کیونکہ وہ غیر مسلم استازہ سے اپنے بچوں کی تربیت نہیں کروانا چاہتے تھے دوسرے یہ کہ انگریز نے اپنی مکارانہ سوچ کو بروءے کار لاتے ہوءے سکولوں سے عربی اور فارسی کو ختم کر کے انگریزی کو راءج کیا اور ساتھ ہی جمعہ کی نماز کے لیے چٹھی دینے سے بھی انکار کردیا چنانچہ مسلمانوں نے انگریزی تعلیم کا باءیکاٹ کیا جس کی وجہ سے ان کو کوءی سرکاری نوکری نہیں ملتی تھی قصہ مختصر یہ کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمان تعلیمی،معاشرتی،سیاسی اور معاشی طور پر زوال پذیر تھے دوسری طرف ہندو انگریز کی چاپلوسی کر کے اور راجا موہن راءے جیسے ہمدرد اور مخلص رہنما کی بدولت انگریزی تعلیم حاصل کر کے انگریزوں کا نور نظر بن گءے تھے انگریز کی تمام مہر بانیاں ان پر تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ کٹھی پتلی حزب اختلاف اور ہندو مفاد پرست جماعت کی تشکیل کے لیے انگریز قانوں دان ہیوم نے آل انڈیا نیشنل کانگرس بناءی جو بظاہر تو ہندو مسلم دونوں کی جماعت ہونے کا دعوی کرتی تھی مگر اصل میں وہ صرف ہندو مت کی نماءندہ جماعت تھی جو خود کو انگریز کا پسر مانتی تھی اور انگریز کے بعد ہندوستان مین ہندو راج قاءم کر کے مسلمانان ہند کو اپنا غلام بنانا چا ہتی تھی پس مسلمانوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ۱۹۰۶میں ڈھاکہ کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ قاءم کی.

آل انڈیا مسلم لیگ كا قیام 1906ئ میں ڈھاكہ كے مقام پر عمل میں آیا۔ محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كے سالانہ اجلاس كے ختم ہونے پر برصغیر كے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے مسلم عمائدین نے ڈھاكہ كے نواب سلیم اللہ خاں كی دعوت پر ایك خصوصی اجلاس میں شركت كی۔ اجلاس میں فیصلہ كیا گیا كہ مسلمانوں كی سیاسی راہنمائی كے لیے ایك سیاسی جماعت تشكیل دی جائے۔ یاد رہے كہ سرسید نے مسلمانوں كو سیاست سے دور رہنے كا مشورہ دیا تھا۔ لیكن بیسویں صدی كے آغاز سے كچھ ایسے واقعات رونما ہونے شروع ہوئے كہ مسلمان ایك سیاسی پلیٹ فارم بنانے كی ضرورت محسوس كرنے لگے۔ ڈھاكہ اجلاس كی صدارت نواب وقار الملك نے كی۔ نواب محسن الملك; مولانامحمد علی جوہر٬ مولانا ظفر علی خاں٬ حكیم اجمل خاں٬ اور نواب سلیم اللہ خاں سمیت بہت سے اہم مسلم اكابرین اجلاس میں موجود تھے۔ مسلم لیگ كا پہلا صدر سر آغا خان كو چنا گیا۔ مركزی دفتر علی گڑھ میں قائم ہوا۔ تمام صوبوں میں شاخیں بنائی گئیں۔ برطانیہ میں لندن برانچ كا صدر سید امیر علی كو بنایا گیا۔[1]

مسلم لیگ کے قیام کے اسباب[ترمیم]

لاہور میں مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کا اجلاس

ہندو تعصب[ترمیم]

ہندو ذہنیت ہمیشہ تعصب سے پر رہی ہے ہندو مسلمانوں کو خود سے کم تر جانتے تھے مسلمانوں نے ان پر چونکہ کئی سو سال حکومت کی تھی اس لیے وہ مسلمانوں سے بدلہ لینا چاہتے تھے وہ ہندوستاں کو اپنے باپ کی جاگیر اور ہندوستان کی راج گدی کو اپنی ماں کا منگل سوتر خیال کرتے تھے وہ مسلمانوں کو وجود بر داشت نہیں کر سکتے تھے ان کا دعویٰ تھا کہ یا تو مسلمان یہ ملک چھوڑ کر ادھر ہی چلے جائیں جہاں سے ان کے آباو اجدا آئے تھے یا پھر ہندو مذہب قبول کر لیں بعد میں ہندووں نے زبر دستی مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے شگھٹن اور شدھی جیسی تھریکیں بھی چلائیں جو کہ متعصب ہندو ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت تھیں چنانچہ ہندووں کے اس ناروا رویے کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک الگ سیاسی جماعت مسلم لیگ بنائی۔

آریا سماج تحریک اور بنگالی ادب[ترمیم]

ہندو نا صرف مسلمانوں کا جسمانی وجود مٹتا دیکھنا چاہتے تھے بلکہ ان کی روح کو بھی فنا کر دینا چاہتے تھے اس مقصد کے تحت انھوں نے اسلامی تہذیب و ثقافت پر بھی وار کیا بنگالی ادب میں اسلامی کلچر پر کیچڑ اچھالا گیا اور آریا سماج جیسی تحریکیں چلائی گئیں جن کا مقصد تھا اردو زبان اور رسم الخط کو ختم کر کے اس کی جگہ ہندی زبان رائج کی جائے چنانچہ مسلم تہذیب پر حملہ بھی مسلم سیاسی شعور کی بیداری اور مسلم لیگ کے قیام کا محرک ثابت ہوا۔

گائے کی قربانی کا مسئلہ[ترمیم]

ہندوں نے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں بھی کھلی اور ناجائز دراندازی کرتے ہوئے گائے کی قربانی پر بھی پابندی عائد کرنی چاہی جس کی وجہ سے ہندو مسلم فسادات ہونے شروع ہوگئے پس اس قسم کے معملات سے بھی نبردآزما ہونے کے لیے بھی مسلم لیگ کے قیام کو لازمی قراردیا گیا۔

پاکستان کے لئے جدوجہد[ترمیم]

مسلم لیگ پاکستان میں[ترمیم]

  1. مسلم لیگ ن
  2. مسلم لیگ ق
  3. مسلم لیگ ج

مسلم لیگ بھارت میں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]