تقسیم بنگال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

برطانوی ہند میں بنگال کا صوبہ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دیگر تمام صوبوں سے بڑا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس کا کل رقبہ دو لاکھ مربع میل سے زیادہ اور اس کی آبادی آٹھ کروڑ پچاس لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ یہاں کا اقتصادی اور معاشی نظام مکمل طور پر ہندوؤں کے کنٹرول میں تھا۔ 1905ء میں جس وقت لارڈ کرزن (Lord Curzon) ہندوستان کے وائسرائے تھے، ان کی سفارش پر برطانوی پارلیمنٹ نے انتظامی سہولت کے پیش نظر بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ منظور کر لیا ۔ کیونکہ انگریزوں کے مطابق اتنے بڑے اور وسیع صوبے کا انتظام صحیح طریقے سے چلانا ایک گورنر کے بس کی بات نہ تھی۔ اس تقسیم کے نتیجے میں بنگال کے دو صوبے بن گئے۔ 1۔ مشرقی بنگال (رقبہ : 106،540 مربع میل) 2۔ مغربنگال (رقبہ : 141،580 مربع میل)

نتائج[ترمیم]

تقسیم بنگال سے ہندوؤں اور مسلمانوں پر مختلف اثرات مرتب ہوئے ۔ مسلمان اس تقسیم سے بڑے خوش تھے، کیونکہ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی ، جو ایک نیا صوبہ بن گیا۔ لیکن جہاں تک ہندوؤں کا تعلق تھا وہ اس تقسیم سے بڑے برہم ہوئے اور سیخ پا ہوئے۔ اگرچہ مغربی بنگال میں ان ہی کی اکثریت تھی لیکن وہ ہر گز یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ مشرقی بنگال اور مسلم اکثریت والا صوبہ بن جائے اور اس طرح پورے بنگال پر ان کی اقتصادی اور سیاسی اجارہ داری اور بالادستی ختم ہو جائے۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوؤں نے تقسیم بنگال کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس تقسیم کی منسوخی کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا۔ عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی ، انگریزی مال کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ۔ قانون کی خلاف ورزیاں شروع کر دی گئیں، ٹیکسوں کی ادائیگیاں روک دی گئیں اور بالآخر تشدد پر اتر آئے۔ یہاں تک کہ وائسرائے کو قتل کرنے کی سازشیں تیار ہونے لگیں۔

ان حالات سے انگریز سرکار نے آخر کار گھٹنے ٹیک دئیے اور 1911ء میں بنگال کی تقسیم منسوخ کر دی گئی۔ اس منسوخی سے مسلمانوں کو سخت صدمہ پہنچا لیکن وہ بے چارے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ تقسیم بنگال نے ہندوستانی سیاست کے میدان میں نئے بیج بو دیے۔ جو فوری نتائج برآمد ہوئے ان کا ذکر ضروری ہے

شملہ وفد[ترمیم]

تقسیم بنگال پر ہندوؤں کے رویے کے پیش نظر مسلمانوں نے بحالت مجبوری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئے اور انوکھے راستے کا انتخاب کیا۔ یہ راستہ سیدھا انگریز سرکار کے پاس جاتا تھا۔ نتیجے کے طور پر تقسیم بنگال کے صرف چھ مہینے بعد یکم اکتوبر 1906ئ کو مسلمانوں کا ایک نمائندہ وفد انگریز وائسرائے لارڈ منٹو سے جا ملا۔ اپنے مطالبات ان کے سامنے پیش کیے ۔ اپنی جوابی تقریر میں وائسرئے نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات نہ صرف برطانوی حکومت کو پہنچا دئیے جائیں گے ، بلکہ ان کو منظور کرانے کی بھی بھرپور کوشش کی جائے گی۔


آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام[ترمیم]

تقسیم بنگال پر ہندوؤں کی تنگ نظری کے پیش نظر مسلمانوں کا اعتماد آل انڈیا نیشنل کانگریس سے اٹھ گیا ، یہی وجہ تھی کہ شملہ وفد کے تین مہنے بعد مسلمانوں نے ایک نہایت اہم فیصلہ یہ کیا کہ انہوں نے اپنے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئی سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لگی کے نام سے 30 دسمبر 1906ئ کو بمقام ڈھاکہ قائم کی۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ حقیقت میں تقسیم بنگال کا واقعہ مسلم ذہنیت اور سیاست کو تقسیم کرنے پر منتج ہوا۔


دلچسپ تبصرہ[ترمیم]

’’کیمبرج ہسٹری آف انڈیا ‘‘ کے مطابق تقسیم بنگال کو منسوخ کرانے کے لیے بلواؤں میں ہندو وکلاء سب سے آگے اور پیش پیش تھے۔ اس کی خاص وجہ تھی کہ چونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مشرقی بنگال کا ایک نیا صوبہ بننے کا یہ بھی مطلب ہوگا کہ ڈھاکہ میں ایک نئی ہائی کورٹ کا قیام عمل میں آئے گا جس کی وجہ سے ان کی اپنی عدالتی بزنس پر اثر پڑے گا۔ یاد رہے کہ غیر منقسم بنگال میں ایک ہائی کورٹ تھی جس پر ہندو وکلاء کا قبضہ تھا اور جہاں ان کی پریکٹس اور عدالت بزنس عروج پر تھا ۔ وہ اسے ماند پڑنے یا دیکھنے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھے۔

ہندو صحافیوں کو اس بات کا ڈر تھا کہ مشرقی بنگال کو اگر واقعی ایک نیا صوبہ بنا دیا گیا تو وہاں سے نئے اخبارات و رسائل کا اجرائ ہوگا ۔ جس کی وجہ سے ان اخبارات و رسائل وغیرہ کی اشاعت پر زڈ پڑے گی ۔ اس طرح بنگال کی تقسیم کو انہوں نے اپنی کمائی کی تقسیم سے تعبیر کیا جس کے لیے وہ ہرگز تیار نہ تھے

اس کے علاوہ ’’کالی‘‘ (سیوا جی کی بیوی) ایک جسے ہندو بڑی ماں کہتے ہیں ۔ اس بڑی مان کی پرستش بنگال میں کافی مقبول تھی ۔اس کالی کی وجہ سے ہندوبنگال کو اپنا مادر وطن خیال کرتے تھے۔ جب انگریز سرکار نے بنگال کو تقسیم کیا ، تو مذہبی جنون پرست اور انتہا پسند ہندوؤں نے اس تقسیم کی شدت سے مخالفت کی اور وہ اس لیے کہ ان کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے ان کی ’’کالی‘‘ کی زمین تقسیم ہو گئی ہے۔ اور اس سے کالی کی بے عزتی ہوئی ہے۔ لہذا وہ اپنی بڑی ماں کی بے عزتی کسی بھی طرح برداشت نہیں کرسکتے تھے۔