تحریک پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

تحریک پاکستان اس تحریک کو کہتے ہیں جو برطانوی ہند میں مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کے لیے چلائی جس کے نتیجے میں پاکستان قائم ہوا۔ تحریک پاکستان سے پہلے بر صغیر میں مختلف نظریات کو بھی سمجھنا ضروری ہے ۔

نظریہ پاکستان[ترمیم]

پاکستان کے قیام کے کئی اغراض و مقاصد تھے ۔ جن مین سے چند کا ذکر مندرجہ ذیل ہے ۔

  • اسلامی ریاست کے قیام کی خواہش
  • اسلامی معاشرے کا قیام
  • اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا تحفظ
  • اسلامی جمہوری نظام کا نفاذ
  • دو قومی نظریہ کا تحفظ
  • اردو زبان کا تحفظ و ترقی
  • مسلم تہذیب و ثقافت کی ترقی
  • مسلمانوں کی آزادی
  • مسلمانوں کی معاشی بہتری
  • مسلمانوں کی سیاسی و معاشتری ترقی
  • ہندوؤں کے تعصب سے نجات
  • کانگریٴ سے نجات
  • رام راج سے نجات
  • انگریزوں سے نجات
  • تاریخی ضرورت
  • پر امن فضا کا قیام
  • اسلام کا قلعہ
  • ملی و قومی اتحاد
  • اتحاد عالم اسلام

نظریہ پاکستان کا تاریخی پہلو[ترمیم]

حضرت مجدد الف ثانی بر صغیر میں پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے دو قومی نظریے کا پرچار کیا ۔ پھر شاہ ولی اللہ ، سر سید احمد خان اور دیگر علمائے کرام نے نظریہ پاکستان کی وضاحت کی ۔ بر صغیر میں مختلف مسلم ادارے اسی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوئے اور کئی تحریکیں اسی نظریے کے پرچار کے لیے معرض وجود میں آئیں ۔

دو قومی نظریہ[ترمیم]

اسلام اور ہندو دھرم دو مختلف معاشرتی نظام قائد اعظم نے قرار دار لاہور 23 مارچ 1940 کے صدارتی خطبے میں اسلام اور ہندو مت کو محض مذاہب ہی نہيں بلکہ دو مختلف معاشرتی نظام قرار دیا ۔ ہندو اور مسلمان نہ آپس میں شادی کر سکتے ہيں نہ ایک دستر خوان پر کھانا کھا سکتے ہيں ۔ ان کی رزمیہ نظمیں ، ان کے ہیرو اور ان کے کارنامے مختلف ہيں ۔ دونوں کی تہذیبوں کا تجزیہ کرتے ہوئۓ آپ نے فرمایا : "میں واشگاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ وہ دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہيں اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہيں ۔" متحدہ قومیت قابل عمل نہيں شروع شروع میں علامہ اقبال متحدہ قومیت کے حامی ہوتے تھے ۔ مگر کچھ عرصہ بعد ہی آپ نے متحدہ قومیت کی تردید کردی اور علیحدہ قومیت کے تصور کی بھرپور حمایت شروع کر دی ۔ مارچ 1909 میں ہندو رہنما منرو ا راج امرتسر نے علامہ اقبال کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے متحدہ قومیت کے موقع پر خطاب کرنے کی دعوت دی ۔ علامہ اقبال نے نہ صرف متحدہ قومیت کے تصور کو مسترد کر دیا بلکہ آپ نے مہمان خصوصی بننے سے بھی انکار کر دیا ۔ آپ نے فرمایا: "میں خود اس خیال کا حامی رہ چکا ہوں کہ امتیاز مذہب اس ملک سے اٹھ جانا چاہیے مکر اب میرا خیال ہے کہ قومی شخصیت کو محفوظ رکھنا ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے مفید ہے ۔ "

تحریک پاکستان[ترمیم]

تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔

تاریخ[ترمیم]

یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940 کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہے جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھی ۔

مسلم لیگ کا قیام[ترمیم]

مسلم لیگ گورننگ کونسل, لاہور

1857 کی جنگ آزادی کے بعد سر سید احمد خان نے اپنی سیاسی بصیرت سے مسلمانوں کو عملی سیاست میں حصہ لینے سے منع کیا تھا ۔ آپ کے نزدیک اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بغیر سیتس میں کامیابی ممکن نہںي ۔ 1885 میں کانگریس بنی تو کانگریس نے جلد ہی اپنے مقاصد سے ہٹ کر ہندوؤں کے مفادات کے لیے کام کرنا شروع ک دیا ۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کی علیحدہ سیاسی جماعت ہونی چاہیے ۔ 30 دسمبر 1906 میں محمڈن ایجوکیشن کانفرنس کے سالانہ اجلاس کے اختتام پر بر صغیر کے قائدین کا اجلاس نواب سلیم اللہ خان آف ڈھاکہ کی رہائش گاہ پر ہوا ۔ اس اجلاس میں مسلم لیگ کے قیام کا فیصلہ ہوا ۔

مسلم لیگ کے قیام کے اسباب

  • کانگریس کا ہندوؤں کی جماعت بننا
  • اردو ہندی تنازعہ
  • گاؤ کشی کی مخالفت
  • انتہا پسند ہندو تحریکیں
  • تقسیم بنگال پر ہندوؤں کا رد عمل
  • متعصب ہندو لیڈروں کی سرگرمیاں
  • انگریزوں کا رویہ
  • مسلمانوں کی محرومیت
  • مسلمانوں کا سیاسی طور پر نظر انداز کیا جانا
  • شملہ وفد کی کامیابی
  • فرقہ واریت
  • سیاسی اصلاحات کا اعلان

قرارداد پاکستان[ترمیم]

1930 میں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔

23 مارچ 1940 کے لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے قافلے کی صورت سفر کرکے شرکت کی اور ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق مسلمانان ہند انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی علیحدہ ریاست چاہتے تھے ۔

قرار داد پاکستان کے اہم بنیادی نکات

  1. آزاد مسلم حکومت کا قیام
  2. تقسیم کے علاوہ دوسری اسکیم کی نامنظوری
  3. ہندو علاقوں میں مسلمانوں کا تحفظ

بیرونی روابط[ترمیم]

http://storyofpakistan.com/lahore-resolution/

http://www.urdumania.com/world-in-urdu/history-of-pakistan-movement-in-urdu.php

http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/1-urdu-islami-kutub/3193-mutalia-pakistan-brai-digri-classis.html