جلائر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جلائر سلطنت
Jalayirid Sultanate

1335–1432
ایل خانی علاقائی تقسیم
دارالحکومت بغداد (حتی 1411), بصرہ (1411-1432)
زبانیں عربی، فارسی،

منگولی

حکومت بادشاہت
تاریخ
 - قیام 1335
 - اختتام 1432
موجودہ ممالک Flag of Iran.svg ایران
Flag of Iraq.svg عراق
Warning: Value specified for "continent" does not comply

جلائری قبائل ایل خانیوں ہی کی ایک شاخ تھی اور یہ نسلا منگول تھے۔ جب ایل خانی سلطان ابو سعید کا انتقال ہوا تو امراء مرکز میں صاحب اقتدار ہوگئے۔ وہ جس کو چاہتے تخت نشین کرتے اور جس کو چاہتے تخت سے اتار دیتے۔ ان میں جلائری سردارشیخ حسن بزرگ نےجب اقتدار حاصل کیا تو وہ ایل خانی حکمرانوں کوکٹھ پتلیوں کی طرح نچاتا تھا۔ جب آخری ایل خانی حکمران نوشیرواں مرگیا تو حسن بزرگ (1339ء تا 1356ء) عراق پر قابض ہوگیا اور بغداد کو دارالحکومت بناکر ایک مستقل حکومت قائم کرلی۔

حسن بزرگ کے بعد اس کا لڑکا اویس خان (1356ء تا 1374ء) تخت نشین ہوا۔ اس نے ترکمانوں سے جوآذربائیجان اور مشرقی اناطولیہ پر قابض ہوگئے تھے تبریز اور آذربائیجان چھین لیا اور موصل اور دیار باکر پر بھی قبضہ کرلیا۔

اویس کے جانشین حسین (1374ء تا 1382ء) کی سیاہ میشی (قرہ قویونلو)(کالی بھیڑوالے) ترکمانوں اور آل مظفر سے لڑائیاں رہیں۔ ترکمانوں سے تو اس کی صلح ہوگئی لیکن آل مظفر کے حکمران شاہ شجاع نے اس کو آذربائیجان اور عراق کے بڑے حصے سے کچھ مدت کے لئے بے دخل کردیا۔ حسین کے بعد اس کی حکومت دو بیٹوں میں اس طرح تقسیم ہوئی کہ عراق اور آذربائیجان سلطان احمد (1382ء تا 1410ء) کو اور کردستان بایزید کو ملا۔ سلطان احمد کو اطمینان سے حکومت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ تیمور کی فتوحات کا سلسلہ آذربائیجان تک پہنچ چکا تھا اور اس نے 1393ء میں بغداد اور عراق پر بھی قبضہ کرلیا۔ سلطان احمد بھاگ کر مصر چلا گیا۔ اس کےبعد یہ ہوتا تھا کہ جب تیمور بغداد سےچلا جاتا تھا تو سلطان احمد مصری حکومت کی مدد سے بغداد پر قابض ہوجاتا اور جب تیمور اس کی طرف رخ کرتا تو وہ پھر بھاگ جاتا تھا۔ آخر میں وہ بغداد پر قابض ہوگیا تھا لیکن آذربائیجان پر قبضہ کرنے کی کوشش میں قرہ قویونلو(کالی بھیڑوالے) حکمران قرہ یوسف خان(کالےیوسف خان) کے ہاتھوں شکست کھاکر مارا گیا۔ اس کے بعد اس کا بھتیجا شاہ ولد بغداد میں جانشیں ہوا لیکن اگلے سال ہی قرہ قویونلو(کالی بھیڑوالے) ترکمانوں نے بغداد پر قبضہ کرکے جلائری خاندان کا خاتمہ کردیا۔ جلائر کی ایک شاخ اس کے بعد بھی 829ھ تک بصرہ، واسط اور شستر کے علاقے پر حکومت کرتی رہی لیکن وہ تیموری سلطنت کی باجگذار تھی بالآخر اس حکومت کو بھی قرہ قویونلو(کالی بھیڑوالے) نے ختم کردیا۔

جلائریوں کا دور تعمیر و ترقی کے کاموں کے لحاظ سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ فارسی کے مشہور قصیدہ گو مسلمان ساوجی (متوفی 1378ء) اور عرب مورخ ابن عرب شاہ (1388ء تا 1450ء) کا جلائری دربار سے تعلق تھا۔ ابن عرب شاہ کی تاریخ عجائب المقدور اس دور کی تاریخ خصوصا امیر تیمور کےحالات کا بڑا قیمتی ماخذ ہے۔ یہ عربی میں ہے اور اس میں تیمور کی برائیاں کی گئی ہیں۔ امیر تیمور بغداد فتح کرنے کے بعد ابن عرب شاہ کو سمرقند لے گیا تھا۔ احمد جلائر نے فارسی کے شاعر حافظ شیرازی کی سرپرستی بھی کی تھی۔


جلائر سلطنت کے سلاطین[ترمیم]

شاہی لقب[1] ذاتی نام دور حکومت
Taj-ud-Din
تاج الدین
حسن بزرگ 1336–1356
Mu'izz-ud-duniya wa al-Din
معزالدنیا والدین
Bahadur Khan
بهادرخان
شیخ اویس جلائر 1356–1374
Jalal-ud-Din
جلال الدین
شیخ حسن جلائر 1374
Ghiyas-ud-Din
‏غیاث الدین
شیخ حسین جلائر 1374–1382
شیخ بایزید جلائر
حکمران عراق عجم بمقام سلطانیہ اور تخت کا دعویدار
1382-1384
Sultan
سلطان
سلطان احمد جلائر
حکمران عراق عرب بمقام بغداد اور تخت کا دعویدار
1382–1410
شاه ولد جلائر
ولد شیخ علی جلائر
1410–1411
Sultan
سلطان
سلطان محمود جلائر
تاندو خاتون کے تحت
1411 (بار اول)
Sultan
سلطان
سلطان اویس جلائر 1411-1421
Sultan
سلطان
سلطان محمد جلائر 1421
Sultan
سلطان
سلطان محمود جلائر 1421-1425 (بار دوم)
حسین بن علاء الدولہ جلائر 1425-1432
قرہ قویونلو جنوبی عراق کی فتح
  1. ^ The new Islamic dynasties: a chronological and genealogical manual New Edinburgh Islamic Surveys Series; Author:Clifford Edmund Bosworth ISBN 0-7486-2137-7, ISBN 978-0-7486-2137-8