جلائر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تاریخ ایران

جلائر قبائل ایل خانیوں ہی کی ایک شاخ تھی اور یہ نسلا منگول تھے۔ جب ایل خانی سلطان ابو سعید کا انتقال ہوا تو امراء مرکز میں صاحب اقتدار ہوگئے۔ وہ جس کو چاہتے تخت نشین کرتے اور جس کو چاہتے تخت سے اتار دیتے۔ ان میں جلائر سردار شیخ حسن بزرگ نے بڑا اقتدار حاصل کیا اور وہ ایل خانی حکمرانوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح نچاتا تھا۔ جب آخری ایل خانی حکمران نوشیرواں مرگیا تو حسن بزرگ (1339ء تا 1356ء) عراق پر قابض ہوگیا اور بغداد کو دارالحکومت بناکر ایک مستقل حکومت قائم کرلی۔

حسن بزرگ کے بعد اس کا لڑکا اویس خان (1356ء تا 1374ء) تخت نشین ہوا۔ اس نے ترکمانوں سے جو آذربائیجان اور مشرقی اناطولیہ پر قابض ہوگئے تھے تبریز اور آذربائیجان چھین لیا اور موصل اور دیار باکر پر بھی قبضہ کرلیا۔

اویس کے جانشین حسین (1374ء تا 1382ء) کی سیاہ میشی (قرہ قویونلو) ترکمانوں اور آل مظفر سے لڑائیاں رہیں۔ ترکمانوں سے تو اس کی صلح ہوگئی لیکن آل مظفر کے حکمران شاہ شجاع نے اس کو آذربائیجان اور عراق کے بڑے حصے سے کچھ مدت کے لئے بے دخل کردیا۔

حسین کے بعد اس کی حکومت دو بیٹوں میں اس طرح تقسیم ہوئی کہ عراق اور آذربائیجان سلطان احمد (1382ء تا 1410ء) کو اور کردستان بایزید کو ملا۔ سلطان احمد کو اطمینان سے حکومت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ تیمور کی فتوحات کا سلسلہ آذربائیجان تک پہنچ چکا تھا اور اس نے 1393ء میں بغداد اور عراق پر بھی قبضہ کرلیا۔ سلطان احمد بھاگ کر مصر چلا گیا۔ اس کےبعد یہ ہوتا تھا کہ جب تیمور بغداد سےچلا جاتا تھا تو سلطان احمد مصری حکومت کی مدد سے بغداد پر قابض ہوجاتا اور جب تیمور اس کی طرف رخ کرتا تو وہ پھر بھاگ جاتا تھا۔ آخر میں وہ بغداد پر قابض ہوگیا تھا لیکن آذربائیجان پر قبضہ کرنے کی کوشش میں قرہ قویونلو حکمران قرہ یوسف خان کے ہاتھوں شکست کھاکر مارا گیا۔ اس کے بعد اس کا بھتیجا شاہ ولد بغداد میں جانشیں ہوا لیکن اگلے سال ہی قرہ قویونلو ترکمانوں نے بغداد پر قبضہ کرکے جلائر خاندان کا خاتمہ کردیا۔ جلائر کی ایک شاخ اس کے بعد بھی 829ھ تک بصرہ، واسط اور شستر کے علاقے پر حکومت کرتی رہی لیکن وہ تیموری سلطنت کی باجگذار تھی بالآخر اس حکومت کو بھی قرہ قویونلو نے ختم کردیا۔

جلائر کا دور تعمیر و ترقی کے کاموں کے لحاظ سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ فارسی کے مشہور قصیدہ گو مسلمان ساوجی (متوفی 1378ء) اور عرب مورخ ابن عرب شاہ (1388ء تا 1450ء) کا جلائر کے دربار سے تعلق تھا۔ ابن عرب شاہ کی تاریخ عجائب المقدور اس دور کی تاریخ خصوصا امیر تیمور کےحالات کا بڑا قیمتی ماخذ ہے۔ یہ عربی میں ہے اور اس میں تیمور کی برائیاں کی گئی ہیں۔ امیر تیمور بغداد فتح کرنے کے بعد ابن عرب شاہ کو سمرقند لے گیا تھا۔ احمد جلائر نے فارسی کے شاعر حافظ شیرازی کی سرپرستی بھی کی۔


سلاطین[ترمیم]

  1. حسن بزرگ 1339ء تا 1356ء
  2. اویس 1356ء تا 1374ء
  3. حسین 1374ء تا 1382ء
  4. احمد 138ء تا 1410ء