دولت سامانیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دولت سامانیہ

دولت سامانیہ کی حکومت خلافت عباسیہ کے خاتمے کے بعد 874ء میں ماوراء النہر میں قائم ہوئی۔ اپنے مورث اعلیٰ اسد بن سامان کے نام پر یہ خاندان سامانی کہلاتا ہے ۔ نصر بن احمد بن اسد سامانیوں کی آزاد حکومت کا پہلا حکمران تھا۔ ماوراء النہر کے علاوہ موجودہ افغانستان اور خراسان بھی اس حکومت میں شامل تھی۔ اس کا دارالحکومت بخارا تھا۔ سامانیوں نے 1005ء تک یعنی کل 134 سال حکومت کی۔ اس عرصے میں ان کے دس حکمران ہوئے۔


مشہور حکمران[ترمیم]

ان میں سب سے مشہور اور اچھا حکمران اسماعیل سامان (892ء تا 907ء) تھا۔ اسماعیل بڑا نیک مزاج اور عادل بادشاہ تھا۔ نصر دوم کا عہد علم و ادب کی سرپرستی کی وجہ سے ممتاز ہے اور اس کے لڑکے نوح اول کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے بخارا میں ایک عظیم الشان کتب خانہ قائم کیا تھا جس میں ہر علم و فن کی کتابوں کے لئے علیحدہ علیحدہ کمرے مخصوص تھی۔ مشہور فلسفی اور طبیب ابن سینا نے یہاں کی قیمتی اور نایاب کتابوں کی بڑی تعریف کی ہے ۔ نوح اول کے لڑکے منصور اول کے بارے میں مشہور سیاح ابن حوقل نے لکھا ہے کہ وہ اپنے دور کا سب سے عادل بادشاہ ہے ۔


کارنامے[ترمیم]

سامانیوں کاایک بڑا کارنامہ خانہ بدوش ترک قبائل کی یلغار سے مملکت کی حفاظت کرنا ہے ۔ اس مقصد کے لئے شمالی سرحدوں پر جگہ جگہ چوکیاں قائم تھیں جن کو رباط کہا جاتا تھا۔ یہاں جہاد کے لئے ہر وقت رضاکار موجود رہتے تھے۔ اسی دور میں ترکوں میں اسلام تیزی سے پھیلا اور چوتھی صدی کے آخر تک مشرقی ترکستان یعنی کاشغر اور اس سے ملحق علاقے اور شمالی ترکستان سے لے کر روس میں وولگا کی وادی میں اسلام پھیل گیا۔


علم و ادب کی سرپرستی[ترمیم]

سامانی عہد میں علم و ادب کی دل کھول کر سرپرستی کی گئی لیکن اس دور کی بڑی خصوصی فارسی زبان کی ترقی ہے ۔ اب تک مسلمان جس قدر کتابیں لکھتے تھے وہ عربی زبان میں ہوتی تھیں جو لوگ عرب نہیں تھے مثلاً ایرانی و ترک، وہ بھی عربی ہی پڑھتے اور لکھتے تھے۔ یہ لوگ فارسی اور ترکی کے بجائے شاعری بھی عربی میں کرتے تھی۔ سامانی بادشاہوں نے اب فارسی زبان کی سرپرستی شروع کردی کیونکہ وہ خود فارسی بولتے تھے۔ چنانچہ فارسی کا پہلا بڑا شاعر رودکی، اسماعیل کے پوتے نصر (913ء تا 942ء) کے دربار کا شاعر تھا۔ اسی زمانے میں طبری کی مشہور تاریخ اور تفسیر کا فارسی میں ترجمہ کیا گیا۔ مشہور فلسفی فارابی اور ابن سینا کا ابتدائی تعلق سامانی دربار سے تھا۔ علماء میں علم کلام کے ماہر امام منصور ماتریدی متوفی 330ھ اور صوفیوں میں ابو نصر سراج متوفی 378ھ بھی اسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔


خاتمہ[ترمیم]

آخر میں سامانی حکومت بھی عباسیوں کی طرح کمزور ہوتی چلی گئی۔ صوبہ دار باغی باغی ہونے لگے اور خراسان اور غزنی کے علاقوں میں ان کے ایک سپہ سالار سبکتگین نے اپنی آزاد حکومت قائم کرلی اور بخارا، سمرقند پر کاشغر کے بادشاہ ایلک خان نے قبضہ کرکے سامانی حکومت کا خاتمہ کرلیا۔


آلِ سامان[ترمیم]

  1. نصر اول 261ھ تا 279ھ بمطابق 874ء تا 892ء
  2. اسماعیل 279ھ تا 295ھ بمطابق 892ء تا 907ء
  3. احمد295ھ تا 301ھ بمطابق 907ء تا 913 ء
  4. نصر دوم 301ھ تا 331ھ بمطابق 913ء تا 942ء
  5. نوح اول 331ھ تا 343ھ بمطابق 942ء تا 954ء
  6. عبدالملک 343ھ تا 350ھ بمطابق 954ء تا 961ء
  7. منصور اول 350ھ تا 366ھ بمطابق 961ء تا 976ء
  8. نوح دوم 366ھ تا 387ھ بمطابق 976ء تا 997ء
  9. منصور دوم 387ھ تا 389ھ بمطابق 997ء تا 999ء
  10. عبدالملک 389ھ تا 395ھ بمطابق 999ء تا 1005ء