فارابی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ابو نصر فارابی
ابو نصر فارابی
پیدائش محمد بن ترخان ابو نصر'
872 ء
ترکستان فاراب
وفات 950 ء
دمشق
رہائش بخارا
قومیت ترکستان
شعبہائے عمل علم ریاضی ، طب ، فلسفہ ، موسیقی ، منطق ، طبیعیات ، شاعر

ابو نصر فارابی (Pharabius) معلّم ثانی ۔ ابونصرفارابی کا پورا نام ’’ محمد بن ترخان ابو نصر ‘‘ ابن ابی اُصیبیہ نے اس کا نام" ابو نصر محمد بن اوزیغ بن طرخان ‘‘ لکھا ہے۔


ابتدائی حالات[ترمیم]

ترکستان کے مقام ’’فاراب ‘‘ میں ؁872ء میں پیدا ہوا .

فارابی کی ابتدائی زندگی نہایت ہی غربت اور تنگدستی میں گزری ۔ مگر غربت و تنگدستی اس کے علم و جستجو پر غالب نہ ہو سکی ۔

ابتدائی دور میں یہ ایک دفعہ رات کے وقت مطالعہ میں مصروف تھا کہ تیل ختم ہونے سے چراغ بجھ گیا ۔اس میں اتنی مالی وسعت نہ تھی کہ تیل خریدتا ۔مگر شوق مطالعہ اسے کھینچ کر باہر لے آیا اور گشت کر تے ہوئے پہرے دار کے سامنے لا کھڑا کیا ۔ فارابی نے پہریدار سے سارا ماجرا کہہ سنایا اور اُسے وہاں تھوڑی دیر رُکنے کی گزارش کی تاکہ وہ اپنا سبق یاد کر لے ۔پہریدار اُس دن مان گیا مگر دوسرے دن اُس نے رکنے سے صاف انکارکر دیا ۔ مگر فارابی نے گزارش کی کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہے گا تاکہ اُسکی لالٹین کی روشنی میں مطالعہ کر سکے ۔کچھ دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا مگر ایک دن پہریدار نے اس کی علمی لگن اور جستجو سے متاثر ہو کر اُسے نئی لالٹین لاکر دے دی ۔ فارابی کے حصول علم کا یہ بے مثال واقعہ رہتی دنیا تک ایک مشعل راہ ہے ۔انہوں نے تقریباً 50 سال حصولِ علم میں صرف کئے ۔[1]

حالات زندگی[ترمیم]

انہوں نے عیسائی طبیب ’’[یو حنا بن حیلان] ‘‘ سے بھی استفادہ کیا۔اس کے بعد تحقیق و تدریس کی طرف متوجہ ہو کر ’’سیف الدولہ ہمدانی ‘ ‘ کے دربار سے وابستہ ہو گیا ۔

کارہائے نمایاں[ترمیم]

علم ریاضی ، طب ، فلسفہ اور موسیقی میں تحقیق و تحاریر۔ منطق (logic) کی علمی گروہ بندی کی۔ انکو ارسطو کے بعد دوسرا بڑا فلسفی بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے علم طبیعیات میں وجود خلاء پر اہم تحقیقات کیں ۔ اس کے علاوہ ماہر عمرانیات ، سیاسیات و موسیقیات بھی تھے ۔ فارابی ارسطو اور افلاطون سے بے حد متاثر تھے ۔ انہوں نے ارسطو کی اکثر کتابوں کی شرحیں لکھیں ۔ اسی وجہ سے انہيں ’’معلّم ثانی ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ ان شرحو ں میں شرح ’’'الیساغوجی '‘‘ اور بطلیموس کی ’’' المجسطی ‘‘' بہت مشہور ہیں ۔

فارابی نہ صرف حکیم اور فلسفی تھے بلکہ سائنس ،نجوم اور موسیقی کے علوم پر بھی انہيں دسترس تھی۔ان کی دیگر تصانیف میں الموسیقی الکبیرہ ،معافی العقل اور ’'’ارا ء اہل المدینۃ الفاضلہ‘‘' اور ’'’ السیرۃ الفاضلہ ‘'‘معروف ہیں۔ان کی تصانیف کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہیں ۔

فارابی شاعر بھی تھے۔ ان کی ایک طویل دُعا بھی بہت مشہور و معروف ہے جسے بعض تذکرہ نگار وں نے نقل کیا ہے۔

آخری ایام[ترمیم]

انہوں نے ؁950ء میں دمشق میں وفات پائی ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ڈاکٹرابو طالب انصاری (ستمبر ۲۰۰۶ ؁.ء)، "ابونصر فارابی (معلّم ثانی )"، اجالے ماضی کے، ادارہ کتاب گھر، ص: ۵۴


  • ڈاکٹرابو طالب انصاری (ستمبر ۲۰۰۶ ؁.ء)، "ابونصر فارابی(معلّم ثانی )"، اجالے ماضی کے، http://www.kitaabghar.com،+ص:۵۴

بیرونی روابط[ترمیم]