ابن الہیثم

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

ابن الہشام :

  • پیدائش: 965 ء
  • وفات: 1039 ء

ابن الہیشم عراق کے تاریخی شہر بصرہ میں پیدا ہوا۔ وہ طبعیات ، ریاضی ، انجنئرنگ ،فلکیات اورادویات کے مایہ ناز محقق تھے۔ 996 ء میں وہ فاطمی خلافت مصر کے دربار سے منسلک ہو گیا۔ اس نے دریائے نیل پر اسوان کے قریب تین طرف بند باندھ کر پانی کا ذخیرہ کرنے کی تجویز پیش کی لیکن ناکافی وسائل کی وجہ سے اسے ترک کرنا پڑا۔ اب اسی جگہ مصر کا سب سے بڑا ڈیم یعنی اسوان ڈیم قائم ہے۔

[ترمیم] حالات

ان کا نام “ابو علی الحسن بن الہیثم” ہے، ابن الہیثم کے نام سے مشہور ہیں، ان کی پیدائش عراق کے شہر بصرہ میں غالباً 354 ہجری اور وفات 430 ہجری کو ہوئی، وہ مصر چلے گئے تھے اور اپنی وفات تک وہیں رہے، قفطی کی “اخبار الحکماء” میں ابن الہیثم کی زبانی یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:

“لو کنت بمصر لعملت بنیلھا عملاً یحصل النفع فی کل حالہ من حالاتہ من زیادہ ونقصان”

ترجمہ: “اگر میں مصر میں ہوتا تو اس کی نیل کے ساتھ وہ عمل کرتا کہ اس کے زیادہ اور نقصان کے تمام حالات میں نفع ہی ہوتا”

ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ نیل کے پانی کو آبپاشی کے لیے سال کے بارہ مہینے دستیاب کر سکتے تھے، ان کا یہ قول مصر کے حاکم الحاکم بامر اللہ الفاطمی کو پہنچا تو انہوں خفیہ طور پر کچھ مال بھیج کر انہیں مصر آنے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی اور مصر کی طرف نکل کھڑے ہوئے جہاں الحاکم بامر اللہ نے انہیں اپنی کہی گئی بات پر عمل درآمد کرنے کو کہا، ابن الہیثم نے نیل کے طول وعرض کا سروے شروع کیا اور جب اسوان تک پہنچے جہاں اس وقت “السد العالی” (السد العالی ڈیم) قائم ہے اور اس کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ ان کے زمانے کے امکانات کے حساب سے یہ کام نا ممکن ہے اور انہوں نے جلد بازی میں ایک ایسا دعوی کردیا جسے وہ پورا نہیں کرسکتے تھے، چنانچہ الحاکم بامر اللہ کے پاس جاکر معذرت کر لی جسے الحاکم بامر اللہ نے قبول کرکے انہیں کوئی منصب عطا کردیا، مگر ابن الہیثم نے الحاکم بامر اللہ کی ان سے رضا مندی کو ایک ظاہری رضا مندی سمجھی اور انہیں یہ ڈر لاحق ہوگیا کہ کہیں یہ الحاکم بامر اللہ کی کوئی چال نہ ہو، چنانچہ انہوں نے پاگل پن کا مظاہرہ شروع کردیا اور الحاکم بامر اللہ کی موت تک یہ مظاہرہ جاری رکھا اور اس کے بعد اس سے باز آگئے اور اپنے گھر سے نکل کر جامعہ ازہر کے پاس ایک کمرے میں رہائش اختیار کر لی اور اپنی باقی زندگی کو تحقیق وتصنیف کے لیے وقف کردیا.

ابن ابی اصیبعہ “عیون الانباء فی طبقات الاطباء” میں کہتے ہیں: “ابن الہیثم فاضل النفس، سمجھدار اور علوم کے فن کار تھے، ریاضی میں ان کے زمانے کا کوئی بھی سائنسدان ان کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا تھا، وہ ہمیشہ کام میں لگے رہتے تھے، وہ نہ صرف کثیر التصنیف تھے بلکہ زاہد بھی تھے”.

ان کی کتاب “کتاب المناظر” بصریات کی دنیا میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ ابن الہیثم نے بطلیموس کے نظریات قبول نہیں کیے، بلکہ انہوں نے بطلیموس کے روشنی کے حوالے سے بہت سارے نظریات کی مخالفت کی اور انہیں رد کردیا، ان کی روشنی کے حوالے سے دریافتیں جدید سائنس کی بنیاد بنیں، مثال کے طور پر بطلیموس کا نظریہ تھا کہ دیکھنا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب شعاع آنکھ سے کسی جسم سے ٹکراتی ہے، بعد کے سائنسدانوں نے اس نظریہ کو من وعن قبول کیا، مگر ابن الہیثم نے کتاب المناظر میں اس نظریہ دھجیاں بکھیر دیں.. انہوں نے ثابت کیا کہ معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے اور شعاع آنکھ سے نہیں بلکہ کسی جسم سے دیکھنے والے کی آنکھ سے ٹکراتی ہے.

ابن الہیثم نے روشنی کا انعکاس اور روشنی کا انعطاف یعنی مڑنا دریافت کیا، انہوں نے نظر کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے عدسوں کا استعمال کیا.. ان کی سب سے اہم دریافتوں میں آنکھ کی مکمل تشریح بھی ہے.. انہوں نے آنکھ کے ہر حصہ کے کام کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جس میں آج کی جدید سائنس بھی رتی برابر تبدیلی نہیں کرسکی.

ابن الہیثم نے آنکھ کا ایک دھوکا یا وہم بھی دریافت کیا جس میں مخصوص حالات میں نزدیک کی چیز دور اور دور کی چیز نزدیک نظر آتی ہے.

[ترمیم] فہرست کتب

جیسا کہ ابن ابی اصیبعہ نے کہا وہ واقعی کثیر التصنیف تھے، سائنس کے مختلف شعبوں میں ان کی 237 تصانیف شمار کی گئی ہیں جن میں کچھ یہ ہیں:

  1. کتاب المناظر.
  2. کتاب الجامع فی اصول الحساب.
  3. کتاب فی حساب المعاملات.
  4. کتاب شرح اصول اقلیدس فی الہندسہ والعدد.
  5. کتب فی تحلیل المسائل الہندسیہ.
  6. کتاب فی الاشکال الہلالیہ.
  7. مقالہ فی التحلیل والترکیب.
  8. مقالہ فی برکار الدوائر والعظام.
  9. مقالہ فی خواص المثلث من جہہ العمود.
  10. مقالہ فی الضوء.
  11. مقالہ فی المرایا المحرقہ بالقطوع.
  12. مقالہ فی المرایا المحرقہ بالدوائر.
  13. مقالہ فی الکرہ المحرقہ.
  14. کقالہ فی کیفیہ الظلال.
  15. مقالہ فی الحساب الہندی.
  16. مسألہ فی الحساب.
  17. مسألہ فی الکرہ.
  18. کتاب فی الہالہ وقوس قزح.
  19. کتاب صورہ الکسوف.
  20. اختلاف مناظر القمر.
  21. رؤیہ الکواکب ومنظر القمر.
  22. سمت القبلہ بالحساب.
  23. ارتفاعات الکواکب.
  24. کتاب فی ہیئہ العالم.

بعض محققین کا خیال ہے کہ ابن الہیثم نے طب، فلسفہ اور الہیات پر بھی تصانیف چھوڑی ہیں.

اس نے سب سے پہلے روشنے کو حرارتی توانائی قرار دیا۔ روشنی کو شعاع کی وہ نہایت صحیح تعریف کرتا ہے۔ ابن الہیثم نے سوئی چھید کیمرہ (pin hole camera) یعنی ثقالہ ایجاد کیا۔

[ترمیم] روشنی کی بارے میں نظریہ

اس نے نظر کی کرنوں کا قدیم مفروضہ غلط ثابت کر کے ثابت کیا کہ جب روشنی کسی جسم پر پڑتی ہے تو کچھ کرنیں پلٹ کر فضا میں پھیل جاتی ہیں۔ ان میں شے بعض شعاعیں دیکھنے والے کی آنکھ میں داخل ہو جاتی ہیں جس سے وہ شے نظر آتی ہے۔


اسکی مشہور کتاب "کتاب المناظر" ہے۔ اس کے علاوہ اس نے پہلی بار آنکھ کا تراشہ بھی بنایا۔