ابو ریحان البیرونی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ابو ریحان البیرونی (البیرونی)
Biruni-russian.jpg
ابو ریحان البیرونی 1973کی سوویت یونین کی ڈاک ٹکٹ پر
مکمل نام ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی
پیدائش 4/5 ستمبر 973
خوارزم، دولت سامانیہ (موجودہ ازبکستان)
وفات 13 دسمبر 1048 (عمر 75 سال)
غزنی، سلطنت غزنویہ (موجودہ افغانستان)
دور اسلامی عہدِ زریں
علاقہ خوارزم، وسط ایشیاء
زیاری خاندان (ری)[1]
سلطنت غزنویہ (غزنی)[2]
اہم دلچسپی طبیعیات، انسانیات، تقابلی سماجیات، فلکیات، علم نجوم، کیمیاء، تاریخ، جغرافیہ، ریاضی، طب، نفسیات، اسلامی فلسفہ، الہیات
قابل ذکر افکار بانی ہندویات، مساحیات
اہم کام کتاب الہند, The Mas'udi Canon, Understanding Astrology

ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی (پیدائش: 4 ستمبر 973 ء، وفات: 1048 ء) ایک بہت بڑے محقق اور سائنس دان تھے۔ وہ خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور اسی کی نسبت سے البیرونی کہلائے۔ البیرونی بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔ خوارزم میں البیرونی کے سرپرستوں یعنی آلِ عراق کی حکومت ختم ہوئی تو اس نے جرجان کی جانب رخت سفر باندھا وہیں اپنی عظیم کتاب "آثار الباقیہ" مکمل کی۔ حالات سازگار ہونے پر البیرونی دوبارہ وطن لوٹا۔ اور وہیں دربار میں عظیم بو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔

کارنامے[ترمیم]

البیرونی نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں۔ ان میں ”کتاب الہند“ ہے جس میں البیرونی نے ہندو‎ؤں کے مذہبی عقائد، ان کی تاریخ اور برصغیر پاک و ہند کے جغرافیائی حالات بڑی تحقیق سے لکھے ہیں۔ اس کتاب سے ہندو‎ؤں کی تاریخ سے متعلق جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ان میں بہت سی معلومات ایسی ہیں جو اور کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں البیرونی نے بڑی محنت کی۔ ہندو برہمن اپنا علم کسی دوسرے کو نہیں سکھاتے تھے لیکن البیرونی نے کئی سال ہندوستان میں رہ کر سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوئوں کے علوم میں ایسی مہارت پیدا کی کہ برہمن تعجب کرنے لگے ۔ البیرونی کی ایک مشہور کتاب "قانون مسعودی" ہے جو اس نے محمود کے لڑکے سلطان مسعود کے نام پر لکھی۔ یہ علم فلکیات اور ریاضی کی بڑی اہم کتاب ہے ۔ اس کی وجہ سے البیرونی کو ایک عظیم سائنس دان اور ریاضی دان سمجھا جاتا ہے ۔

البیرونی نے پنجاب بھر کی سیر کی اور "کتاب الہند" تالیف کی، علم ہیئت و ریاضی میں البیرونی کو مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے ریاضی، علم ہیئت، طبیعیات، تاریخ، تمدن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ وغیرہ پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے۔البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام "البیرونی کریٹر" رکھا گیا ہے۔

تصنیفات و تالیفات[ترمیم]

البیرونی نے تاریخ، ریاضی اور فلک پر کوئی سو سے زائد تصانیف چھوڑی ہیں جن میں کچھ اہم یہ ہیں:

کتاب الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ[ترمیم]

یہ کتاب البیرونی نے جرجان کے حکمران شمس المعالی قابوس بن دشمکیر کے نام پر تحریر کی، اس کا خاص موضوع علم نجوم اور ریاضی تھا۔ لیکن اس میں بہت سے دیگر دلچسپ علمی، تاریخی اور مذہبی و فلسفیانہ باتیں بھی لکھی ہیں اور جگہ جگہ تنقیدی انداز بھی اختیار کیا ہے۔ اس طرح کتاب اس دور کے اہم تاریخی، مذہبی اور علمی مسائل کی ایک تنقیدی تاریخ بن گئی ہے۔

کتاب الہند[ترمیم]

اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: کتاب الہند

ہندویات پر عربی زبان میں پہلی شہرہ آفاق کتاب، جس کا پورا نام تحقیق ما للھند من مقولۃ مقبولۃ فی العقل او مرذولۃ ہے۔ یہ کتاب قدیم ہندوستان کی تاریخ، رسوم و رواج اور مذہبی روایات کے ذیل میں صدیوں سے مورخین کا ماخذ رہی ہے اور آج بھی اسے وہی اہمیت حاصل ہے۔کتاب الہند کا مواد حاصل کرنے کے لیے البیرونی نے سال ہا سال تک پنجاب میں مشہور ہندو مراکز کی سیاحت کی، سنسکرت جیسی مشکل زبان سیکھ کر قدیم سنسکرت ادب کا براہ راست خود مطالعہ کیا۔ پھر ہر قسم کی مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی معلومات کو، جو اہل ہند کے بارے میں اسے حاصل ہوئيں اس کتاب میں قلم بند کر دیا۔ اس کتاب میں ہندو عقائد، رسم و رواج کا غیر جانبدرانہ اور تعصب سے پاک انداز میں انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ پہلی کتاب ہے جس کے ذریعے عربی دان طبقہ تک ہندو مت کے عقائد و دیگر معلومات اپنے اصل مآخذ کے حوالے سے پہنچیں۔[3]

  • کتاب مقالید علم الہیئہ وما یحدث فی بسیط الکرہ۔

قانون مسعودی[ترمیم]

یہ البیرونی کی سب سے ضخیم تصنیف ہے جس کا نام اس نے سلطان محمود عزنوی کے نام پر رکھا ہے۔ پورا نام ہے۔ یہ 1030ء میں شائع ہوئی اور ان تمام کتابوں پر سبقت لے گئی جو ریاضی، نجوم، فلکیات، اور سائنسی علوم کے موضوعات پر اس وقت میۂ لکھی جا چکی تھیں۔ اس کتاب کا علمی مقام بطلیموس کی کتاب المجسطی سے کسی طرح کم نہیں۔

  • کتاب استخراج الاوتار فی الدائرہ۔
  • کتاب استیعاب الوجوہ الممکنہ فی صفہ الاسطرلاب۔
  • کتاب العمل بالاسطرلاب۔
  • کتاب التطبیق الی حرکہ الشمس۔
  • کتاب کیفیہ رسوم الہند فی تعلم الحساب۔
  • کتاب فی تحقیق منازل القمر۔
  • کتاب جلاء الاذہان فی زیج البتانی۔
  • کتاب الصیدلہ فی الطب۔
  • کتاب رؤیہ الاہلہ۔
  • کتاب جدول التقویم۔
  • کتاب مفتاح علم الہیئہ۔
  • کتاب تہذیف فصول الفرغانی۔
  • کتاب ایضاح الادلہ علی کیفیہ سمت القبلہ۔
  • کتاب تصور امر الفجر والشفق فی جہہ الشرق والغرب من الافق۔
  • کتاب التفہیم لاوائل صناعہ التنجیم۔
  • کتاب المسائل الہندسیہ۔
  • مقالہ فی تصحیح الطول والعرض لمساکن المعمورہ من الارض۔

دریافتیں[ترمیم]

ان کی دریافتوں کی فہرست خاصی طویل ہے، انہوں نے نوعیتی وزن متعین کرنے کا طریقہ دریافت کیا، زاویہ کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا، نظری اور عملی طور پر مائع پر دباؤ اور ان کے توازن پر رسرچ کی، انہوں نے بتایا کہ فواروں کا پانی نیچے سے اوپر کس طرح جاتا ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک دوسرے سے متصل مختلف الاشکال برتنوں میں پانی اپنی سطح کیونکر برقرار رکھتا ہے، انہوں نے محیطِ ارض نکالنے کا نظریہ وضع کیا اور متنبہ کیا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

تحریر : شفیق منہاس : البیرونی کا شہرہ آفاق کارنامہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ The Exact Sciences, E.S.Kennedy, The Cambridge History of Iran: The period from the Arab invasion to the Saljuqs, Ed. Richard Nelson Frye, (Cambridge University Press, 1999), 394.
  2. ^ Kemal Ataman, Understanding other religions: al-Biruni's and Gadamer's "fusion of horizons", (CRVP, 2008), 58.
  3. ^ سید قاسم محمود، انسائیکلوپیڈیا مسلم انڈیا، حصہ 3، صفحہ 155-56، 2006ء۔شاہکار بک فاؤنڈیشن، لاہور